مقبوضہ کشمیر میں کل انسانی حقوق کا دن یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا

کشمیر اور عالمی برادری
Loading...

سری نگر : مقبوضہ کشمیرمیں کل انسانی حقوق کا دن یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا، یوم سیاہ منانے کی اپیل حریت رہنما سیدعلی گیلانی نے کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں 127 ویں روز بھی کرفیو برقرار ہے ، چار ماہ سےجاری کرفیو اور پابندیوں کے باعث مقبوضہ وادی میں نظام زندگی مفلوج ہے، تعلیمی ادارے، دکانیں ، کاروباری مراکز بند اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ غائب ہے۔ حریت رہنماسید علی گیلانی نے دس دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر یوم سیاہ بنانے کااعلان کیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ، موبائل فون اور لینڈ لائن سروس بھی تاحال بند ہے اور حریت رہنما اور مقامی سیاسی قیادت سمیت گیارہ ہزار کشمیری گرفتار ہیں، مقبوضہ وادی کی معیشت کوپندرہ ہزار کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ ہزاروں کشمیری بیروزگار ہوگئے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے مختلف علاقوں میں نام نہاد چھاپوں کے دوران متعدد نوجوانوں کو گرفتار کرلیا جبکہ نام نہاد سرچ آپریشن کی آڑ میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

Loading...

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 124 واں روز، دنیا خاموش تماشائی

یاد رہے بھارتی نژاد امریکی رکن کانگریس پرامیلا جایا پال نے امریکی ایوان نمائندگان میں مقبوضہ کشمیرسے متعلق بل پیش کیا تھا، بل میں بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کی بندش اور نظربندیاں ختم کرنےکامطالبہ کیا۔

بل کے متن میں کہا گیا تھا بھارت مقبوضہ کشمیر میں تمام باشندوں کی مذہبی آزادی کاحق جلد بحال کرے، گزشتہ تیس سال میں مسئلہ کشمیرنےہزاروں افرادکی جانیں لی ہیں۔

(Visited 32 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں