میرا جسم میری مرضی

یہ ‘میرا جسم میری مرضی’ جملہ شروع تو ایک نام نہاد لبرل سوچ رکھنے والے خواتین و حضرات نے کیا تھا۔ مگر دیکھتے ہی دیکھتے یہ سوچ یا جملہ شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگا۔ معاشرہ دو حصوں میں بٹ گیا۔ کوئی اس کی حمایت کرتا نظر آیا۔ تو کسی نے اسکی مخالفت میں زمین آسمان ایک کر دیئے۔

اس جملے کے تخلیق کار نے اسکی حمایت میں ایسے ایسے دلائل پیش کئے کہ دیکھنے اور سننے والے سوچ میں پڑ گئے کہ کیا واقعی عورت کو اپنے وجود پر مکمل آزادی حاصل نہیں ہے؟۔ کیا عورت واقعی مجبور اور بے بس ہے؟ ۔ اس پاکستانی معاشرے میں ابھی کچھ دن پہلے ہی خواتین کا عالمی دن منایا گیا اور لاہور میں ایسا مارچ منعقد کیا گیا۔ جس میں خواتین و حضرات نے ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے کہ جس نے پاکستانی معاشرے کی بنیاد ہلانے کی کوشش کی۔ مگر اللہ سلامت رکھے ہمارے اسلامی نظام کو جس نے ان کے ارادوں کو مسترد کر دیا۔

میرا جسم میری مرضی
Social Media Viral File Photo

مگر میرا پیغام اس سے یکسر مختلف ہے۔ وہ یہ کہ جتنی مادر پدر آزادی ہمارے معاشرے میں بڑھتی جا رہی ہے اور نام نہاد عورتوں اور لڑکیوں کو برہنہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ میرا مطلب قیامت خیز و خبر سے ہیں ۔ جسکو معاشرے میں تو زیادہ اہمیت نا مل سکی۔ مگر میرے وجود کو کانپ کر رکھ دیا گیا ہے۔ ان خبروں میں سب سے پہلے لاہور میں ایک سگے باپ نے اپنی بیٹی سے کئی ماہ تک زیادتی کی ۔ دوسرا واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا۔ جہاں بھائیوں نے بہن کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔ تیسرا اور اہم واقع نام نہاد علما نے اپنے مدرسے کے شاگروں کے ساتھ زیادتی کا ہے۔

کیا مرد پر عورت کی برتری کا دور واپس آسکتا ہے؟

اب مجھے کوئی یہ بتائے کہ میرا جسم، میری مرضی کا نعرہ لگانے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جتنا معاشرہ مادر پدر آزادی کی طرف جا رہا ہے۔ اتنی ہی گھر کی عزتیں، گھر میں ہی غیر محفوظ ہیں۔ باپ سے بڑھ کر کون بیٹی کا محافظ اور ہمدرد ہو سکتا ہے اور وہی اسکی عزت کا دشمن بن گیا۔ بھائی تو بہن کی عزت کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں۔ مگر اب تو بھائی ہی لٹیرے بن گئے ہیں۔ کیا اسی وجہ سے ہم لبرل ازم چاہتے ہیں۔ تاکہ گھر کی چار دیواری بھی عورت کے لئے محفوظ نہ رہے۔

خدارا یہ نعرہ ختم کر دیں کیونکہ بقول مولانا رومی کے “کسی بھی معاشرے کو تباہ کرنا یو تو اس کے نوجوانوں میں فحاشی پھیلا دو”۔

اگر ہمارے معاشرے میں بھی آزادی کے نام پر فحاشی پھیل گئی تو اس فحاشی کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
باقی رہے نام صرف اللہ کا ۔

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں