کرتار پور کے افتاح کے بعد سکھ مذہب سے متعلق پاکستان کا ایک اور تاریخی اقدام

پاکستان

لاہور: بہتر برس بعد پاکستان کے شہر لاہور میں سکھ مذہب سے متعلق تاریخی اہمیت کی حامل کتابوں کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا جہاں سکھوں کی 3 سو سال پرانی مقدس کتاب نے لوگوں کو حیران کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کے پانچ سو پچاسویں جنم دن کی تقریبات کے سلسلے میں لاہور میں اِن نادر ونایاب کتابوں کی نمائش ہوئی، یہ نمائش پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار منعقد کی گئی۔

اپنی نوعیت کی اس منفرد کتابی نمائش کا اہتمام پنجاب پبلک لائبریری نے کیا، جب کہ اس نمائش کا افتتاح کینیڈا سے آئی ہوئی ممتاز سکھ لکھاری گرمیت کور نے کیا۔اس میں سکھ مذہب کی درجنوں کتابیں موجود ہیں

پنجاب پبلک لائبریری کے سربراہ کے مطابق اس کتب خانے میں سکھ مذہب سے متعلق سیکڑوں کتابیں موجود ہیں لیکن نمائش کا حصہ صرف ان کتابوں کو بنایا گیا ہے جو تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔ سکھوں کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب کا ہاتھ سے تحریر کردہ تین سو سال پرانا نسخہ بھی اس نمائش کا حصہ ہے۔

loading...

جن تاریخی کتابوں کو اس نمائش کا حصہ بنایا گیا ہے ان میں سری گورو گوبند سنگھ مہاراج نظم کی سوانح عمری، تذکرہ بابا گورو نانک، پوتہی جپ، سکھوں کی تاریخ، سکھ مذہب اور اسلام سمیت دیگر کئی نایاب کتب شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پنجاب میں سکھوں کے مذہبی پیشوا بابا گرونانک کا جبہ دریافت ہوا ہے، یہ جبہ شاہی قلعے میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے کمرے سے ملا، ڈائریکٹر فقیر خانہ میوزیم کا کہنا تھا کہ سکھوں کے دیگر گروؤں کے زیر استعمال اشیا بھی دریافت ہوئی ہیں، یہ جبہ مزید تحقیقات کے لیے قومی اداروں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر فقیر سیف الدین نے کہا کہ گرونانک کا جبہ رنجیت سنگھ کو کرتارپور کے بزرگ نے پیش کیا تھا، رنجیت سنگھ کے لاہور قلعہ میں زیر استعمال کمرے سے نوادرات بھی دریافت ہوئے، گرونانک کا جبہ جلد سکھ برادری کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

(Visited 74 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں