مایوس کن بیانات دینے والوں کا علاج کیا؟

حکومت آرہی ہے، حکومت جارہی ہے۔ کشتی ڈوب رہی ہے، کشتی بھنور سے نکل چکی ہے۔ آئین کی حکمرانی نہیں، آئین کی بالادستی ہے۔ ایک طرف مایوس کن باتیں، تو دوسری طرف حوصلہ افزائی کی باتیں۔ ایک طرف منفی باتوں کا شور تو دوسری طرف مثبت باتوں کا زور۔ ایک عام آدمی جس کا دن اچار پراٹھے سے شروع اور دال روٹی پر ختم ہوتا ہے، وہ تو یہی کہے گا کہ بس کردو بھائی، جتنی سانسیں ہیں، کم ازکم وہ تو چین سے لینے دو۔

یہ بیانات صرف اسی حکومت میں ہی نہیں، بلکہ سابق ادوار میں بھی یہی سنتے آرہے ہیں کہ برسر اقتدار پارٹی کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تنقید برائے اصلاح تو اچھی ہے کہ حکمران طبقے پر تھوڑا دباؤ بنا رہتا ہے کہ انہوں نے عوام کےلیے بھی کچھ کرنا ہے۔ اگر نہیں کریں گے تو عوام کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو شور کرنے کا خوب موقع مل جائے گا۔ مگر ایسی تنقید جس کا مقصد عوامی مسائل کا حل نہ ہو، صرف تختہ الٹنا، اقتدار کا حصول اور وہ غصہ اتارنا جو احتساب کے باعث خوب چڑھا ہوا ہے۔

فضل الرحمان کس زور سے اسلام آباد گئے اور کس طرح وہ اُس کوچے سے نکلے، یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ایک طوفان جس کی شنید کچھ لوگوں کی طرف سے تھی، حالانکہ وہ ناقابل یقین تھا، مگر پھر بھی اس کا انتظار کیا گیا۔ اور بالآخر ہوا نکلتے ہی غبارہ زمین بوس ہوگیا۔ شہراقتدار میں اقتدار کی طرف للچائی نظروں سے دیکھتے دیکھتے مولانا کی نظریں تھک گئیں، مگر نجانے کیوں پھر بادل نخواستہ وہاں سے بوریا بستر گول کرنے میں ہی عافیت سمجھی اور پلان ٹو کا نام لے کر رہی سہی سیاسی عزت بچانے کی کوشش کی گئی۔ مجھے صرف اتنا بتادیجیے کہ اتنے روز وہاں مدارس کے طالب علموں کو ذلیل کرنے کا فائدہ کیا ہوا؟ عوام کو کچھ ملا؟ حکمرانوں کا بال بھی بیکا ہوا؟ یا پھر مولانا کو ہی کچھ ملا؟
اب پھر مولانا کا فرمان سن کر بس ہنسی ہی نکل سکتی ہے۔ کہتے ہیں کہ آئین کی حکمرانی کےلیے جو قدم اٹھایا وہ منزل پر پہنچ رہا ہے اور حکمرانوں کی کشتی ڈوبنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ وہ ناجائز حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی اسے چلنے دیں گے۔ بندہ پوچھے کہ حضور! پہلے کون سا حکومتی انجن میں آپ کا ڈیزل جل رہا ہے؟

دوسری طرف احتساب کی تلوار سے زخمی ہونے والے شہبازشریف بھی بیان پر بیان دے رہے ہیں۔ انہیں اور کچھ بات نہیں آئی تو کہہ دیا کہ اسلام آباد کی فضاؤں میں بے شمارچیزیں چلتی ہیں اور اس پر اب جادو ٹونے کی گرفت ہے۔ ان سے بندہ پوچھے کہ جناب اگر حکومتوں پر بھی جادو ٹونے کا اثر ہوتا تو پھر آپ بھی کسی بنگالی بابا کی خدمات لے کر اب تک کرسی اقتدار کی ٹانگیں توڑ چکے ہوتے۔ محبوب قدموں میں کرنے والا ٹونا استعمال کرکے آپ اقتدار پھر قدموں میں کرلیتے۔ سرکش شوہر کو نکیل ڈالنے کے ٹونے کو استعمال کرکے کم ازکم احتساب ہی رکوا لیتے۔ لیکن ایسا کچھ نہ ہوسکا۔

خواجہ آصف کو بھی حالانکہ فریش جوس پینا چاہیے، تاکہ صحت برقرار رہے مگر وہ کہتے ہیں کہ فریش الیکشن کا پہلا مرحلہ اِن ہاؤس تبدیلی ہونی چاہیے۔ یعنی عوامی مسائل حل ہوں نہ ہوں، حکومت کرنے والوں کو گھر بھیجو اور خود اس سیٹ پر بیٹھ کر وہی پرانے لطف اٹھاؤ۔ عوام مہنگائی، بیروزگاری اور دیگر مسائل کی چکی میں پستے رہیں، کوئی بات نہیں۔ الیکشن کے قریب جاکر لولی پوپ دیں اور ووٹ لے کر اپنا شغل جاری رکھیں۔

جہانگیر ترین نے البتہ واضح کردیا ہے کہ ملک میں کوئی سیاسی تبدیلی نہیں آرہی۔ ن لیگ کے خیالی پلاؤ ہیں، عمران خان اپنی مدت پوری کریں گے۔ عمران خان کو مائنس کرکے پی ٹی آئی کچھ نہیں، عمران خان ہیں تو پی ٹی آئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی تمام کوششیں ناکام جائیں گی۔ نواز شریف مائنس ہوئے، شہباز شریف مائنس ہوئے اور اب مریم نواز کا مائنس ہونے کا وقت آگیا ہے۔

عوام کی خواہش ہے کہ ان کے ساتھ جو بھی مخلص نہیں، ان سب کو مائنس کردیں، لیکن ان کی زندگی کے مسائل پر ایسے توجہ دیں کہ مشکلات جڑ سے ہی مائنس ہوجائیں۔ جہاں احتساب کا عمل جاری ہے، وہیں ایسا قانون بھی لائیں کہ بے تکے، بے بنیاد اور مایوس کن بیانات دینے والے سیاسی مداریوں کے منہ سے اقتدار کےلیے ٹپکنے والی رال ختم ہوسکے۔ علاج ضرور ہونا چاہیے، خواہ گولی کھلائیں، ٹیکا لگائیں یا پھر آپریشن کردیں۔

(Visited 18,909 times, 2 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں