کیا واقعی ٹک ٹاک بند ہونے جارہی ہے؟ اصل کہانی سامنے آگئی

ٹک ٹاک

سوشل میڈیا پر افواہیں زیر گردش ہیں کہ پاکستان میں ٹک ٹاپ ایپ بند کی جا رہی ہے۔

ان افواہوں کا سلسلہ ایک شہری کی وزیر اعظم شکایات پورٹل کو شکایت کے بعد شروع ہوا ہے لیکن ٹک ٹاک کی بندش کے بارے میں حکومتی سطح پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا ۔

سوشل میڈیا پر ٹک ٹاک کی بندش کے حوالے سے افواہوں کا بازار اس وقت گرم ہوا جب ایک شہری نے اس ایپ کو بند کرنے کے لیے پاکستان سٹیزن پورٹل (وزیر اعظم شکایات پورٹل) کو کی۔ پشاور کے ایک شہری نے ٹک ٹاک کو بند کرنے کے حوالے سے وزیراعظم شکایات پورٹل پر شکایت کی ہے۔ شہری نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ ٹک ٹاک نامی ایپ ہمارے معاشرے کو خراب کر رہی ہے اس لیے اسے بند کیا جائے۔

شہری کا کہنا تھا کہ پاکستانی شہری ٹک ٹاک پر بہت زیادہ وقت ضائع کر رہے ہیں۔ پاکستان سٹیزن پورٹل نے شہری کی شکایت پی ٹی اے کو ارسال کر دی ہے۔

شہری کی شکایت کے بعد سوشل میڈیا پر افواہیں گردش کرنے لگیں کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے  ٹک ٹاک کو بند کیا جارہا ہے تاہم اس بارے میں حکومتی سطح پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ پی ٹی اے کی ویب سائٹ پر بھی ٹک ٹاک کی بندش کے حوالے سے کوئی اعلان موجود نہیں ہے۔

loading...

پی ٹی اے کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی پریس ریلیزوں کا جائزہ لیا جائے تو آخری پریس ریلیز 27 دسمبر 2018 کو جاری کی گئی تھی جبکہ اس ویب سائٹ پر آخری سرگرمی 4 جنوری 2019 کی نظر آتی ہے۔

دنیا بھر میں انٹرنیٹ تو 24 گھنٹے چلتا ہے اور اس کی نگرانی بھی ہر وقت کی جاتی ہے لیکن پاکستان کے حکام شاید اب بھی 20 ویں صدی میں جی رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں: بھارت میں ایک آنکھ والے عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش

پی ٹی اے کی ویب سائٹ پر دیے گئے نمبر پر اگر آپ شام 5 بجے کے بعد فون کرنے کی غلطی کریں گے تو یقیناً آپ کو فوراً احساس ہوگا کہ یہ 21 ویں صدی نہیں بلکہ 20 ویں صدی ہے جہاں صبح 9 سے 5 بجے تک کام کیا جاتا ہے۔

اگر آپ کو ہماری جانب سے پی ٹی اے کو فون کرنے والی غلطی پر یقین نہیں ہے تو خود تجربہ کرکے بھی اس کی تصدیق کرسکتے ہیں۔

 

Spread the love
  • 4
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں