چینی قونصلیٹ حملے میں ملوث بی ایل اے کے 5 دہشت گرد گرفتار

چینی قونصلیٹ

کراچی: ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس (اے آئی جی) ڈاکٹر امیر شیخ نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی قونصلیٹ پر حملے کے منصوبے میں ملوث بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے 5 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا،

جبکہ ایک دہشت گرد کی تلاش میں چھاپے مارے جارہے ہیں، تاہم اس کے بارے میں بھی رپورٹس ہیں کہ وہ مارا جاچکا ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر امیر شیخ نے بتایا کہ گرفتار دہشت گردوں میں عبدالطیف، حسنین، عارف عرف نادر، ہاشم عرف علی اور اسلم مغیری شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حملے کا منصوبہ بی ایل اے کمانڈر اور ماسٹر مائنڈ اسلم اچھو نے افغانستان میں بنایا، جسے بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی ‘را’ کی حمایت حاصل ہے۔

کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ کے مطابق حملے کے ماسٹر مائنڈ اسلم عرف اچھو کے افغانستان میں مرنے کی اطلاعات ہیں، تاہم اس کی لاش نہیں ملی ہے اور اسلم اچھو کے بعد افغانستان میں بشیر زیب بی ایل اے کی کمانڈ سنبھال رہا ہے۔

انہوں نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ سہولت کار حملے سے قبل اگست سے نومبر کے دوران کراچی آتے جاتے رہے اور مختلف جگہوں پر رہے۔

ڈاکٹر امیر شیخ نے بتایا کہ یہ دہشت گرد جعلی شناختی کارڈ پر آتے تھے اور انہوں نے اپنے مختلف نام رکھ کر شناختی کارڈ بنا رکھے تھے۔

کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ چینی قونصلیٹ پر حملے کی کارروائی کے لیے اسلحہ ریلوے کے ذریعے لایا گیا اور بلدیہ ٹاؤن میں رہائش پذیر ایک مکینک عارف نے سہولت کاری کرتے ہوئے اس اسلحے کو چھپایا جبکہ ملزمان بھی اسی گھر میں رہے اور وہیں سے 23 نومبر 2018 کی صبح چینی قونصلیٹ پہنچے۔

ڈاکٹر امیر شیخ کے مطابق ریکی کے دوران دہشت گرد مختلف گاڑیاں استعمال کرتے رہے، تاہم حملے والے دن جو گاڑی انہوں نے استعمال کی، اس کا مالک اسے فروخت کرچکا تھا جبکہ بعدازاں یہ گاڑی او ایل ایکس پر بکتی رہی۔

مزید پڑھیں: چینی قونصلیٹ پرحملے کے مزید سہولت کار گرفتار

کراچی پولیس چیف کے مطابق سی پیک منصوبے میں دراڑیں ڈالنے کے لیے چینی قونصلیٹ پر حملہ کیا گیا اور دہشت گرد پاک-چین دوستی اور تعلقات میں دڑاریں ڈالنا چاہتے تھے۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس 23 نومبر کو 3 دہشت گردوں نے کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع چینی قونصل خانے پر حملے کی کوشش کی تھی، جسے سیکیورٹی فورسز نے ناکام بناتے ہوئے تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کرکے ان کے قبضے سے خودکش جیکٹس اور اسلحہ برآمد کرلیا تھا۔

حملہ آوروں کی شناخت رزاق، ازل خان مری عرف سنگت دادا اور رئیس بلوچ کے نام سے ہوئی تھی۔

 دوسری جانب کارروائی میں 2 پولیس اہلکار اے ایس آئی اشرف داؤد اور پولیس کانسٹیبل عامر خان شہید جبکہ ایک سکیورٹی گارڈ جمن خان زخمی بھی ہوا تھا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں