“ختنے” کروانے پر تنازع

ختنے کروانے پر تنازع

گذشتہ سال آئس لینڈ میں غیر طبی وجوہات پر ختنے پر پابندی کے حوالے سے ایک قانونی مسودہ آئس لینڈ کی پارلیمنٹ میں تجویز کیا گیا تاہم اس پر شور مچنے کے بعد اس کو ترک کر دیا گیا

مگر یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔

یہودی اور مسلمان دونوں ہی ختنے کرتے ہیں۔

سنہ 2012 میں جرمنی کی ایک عدالت نے ختنے کرنے پر مختصر وقت کے لیے پابندی لگاتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ چار سالہ مسلمان لڑکے کے جسم میں مستقل تبدیلی اس کے مذہبی عقائد اختیار کرنے کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کسی کی جسمانی ساخت میں مستقبل اور ناقابل تلافی تبدیلی کو والدین کے حقوق یا مذہبی آزادی کا جواز بنا کر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

یہ عدالتی فیصلہ چھ ماہ بعد خارج کر دیا گیا تھا تاہم اس نے مسلمانوں اور یہودی کمیونٹی میں خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔ انھوں نے زور دیا تھا کہ اس قانون کا مقصد ان کے مذہب کی تقلید پر پابندی لگانا تھا۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں