عوام کو فوری ریلیف دینے میں ناکامی کا اعتراف

فواد چوہدری

وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پچھلی حکومتوں کی عیاشیوں کے باعث پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اسے اقتدا میں لانے والے متوسط طبقے کو عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان کے ہاتھ معاشی مسائل کی وجہ سے بندھے ہوئے ہیں اور یہ مسائل انہیں سابقہ حکومت سے ورثے میں ملے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی کل آمدن 5 ہزار 6 سو 47 ارب روپے ہے جبکہ اس میں 2 ہزار ارب روپے حکومت کو لیے گئے قرض پر سود کی مد میں ادا کرنے ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام قرضے گزشتہ 10 سال کے دوران لیے گئے۔ ہم اپنی ملکی معیشت کی بنیادوں کو بہتر کرنا چاہتے ہیں اور یہ تب ہوگا جب آمدن، اخراجات سے تجاوز کر جائے گی۔ یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ ہماری قومی سیاست میں بلیم گیم کے تحت حکومتی معاشرتی اور معاشی خرابیوں پر ایک دوسرے کو موردالزام ٹھہرانے کا کلچر آج بھی پورے شدومد کے ساتھ پروان چڑھتا نظر آتا ہے چنانچہ پی ٹی آئی کے اقتدار کے چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی عوام پر مسلط کی جانیوالی مہنگائی ٹیکسوں میں اضافے اور بجلی گیس کے نرخوں میں اضافے تک کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیا جارہا ہے۔ ان کی اس منطق پر تو ناطقہ سربہگریباں والی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے کہ قدرتی گیس استعمال نہ کرنیوالے ملک کے 70 فیصد عوام کو گیس کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر نہ ہونے دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ المیہ تو اور بھی سنگین ہے کہ ملک کے 70 فیصد عوام قدرتی گیس کی سہولت سے یکسر محروم ہیں اور انہیں مہنگے ترین گیس سلنڈروں کے ذریعے اپنے چولہے جلانے پڑ رہے ہیں جبکہ حکومت کے پیش کردہ ضمنی میزانیوں میں گیس سلنڈر کے نرخ مزید بڑھے ہیں اور اسی طرح پٹرولیم مصنوعات اور قدرتی گیس کے نرخوں میں ہونیوالے اضافے سے بھی اشیائے خوردنی ٹرانسپورٹ اور ریلوے کے کرایوں اور جان بچانے والی ادویات تک کے نرخوں میں اضافے کا بوجھ ان 70 فیصد عوام سمیت ملک کے تمام عوام کے کندھوں پر آیا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ عوام نے اپنے ان مسائل سے نجات اور اپنے اقتصادی حالات میں بہتری کیلئے عمران خان کو جولائی 2018 کے انتخابات میں انہیں حکمرانی کا مینڈیٹ دیا۔ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے نشری خطاب میں ریاست مدینہ کا تصور بھی پیش کیا اور کہا کہ وہ ملک کو ریاست مدینہ کے قالب میں ڈھالنے کے متمنی ہیں۔

ریاست مدینہ کا تصور یہی ہے کہ اس میں شہریوں کو تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرنا اور انہیں جان و مال کا تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوگی اور ہر قسم کے معاشی و اقتصادی استحصال کا خاتمہ کیا جائیگا۔ آئین و قانون کی حکمرانی میرٹ اور انصاف کی عملداری ہوگی اقرباپروری کا خاتمہ ہوگا حکمران اشرافیہ طبقات کی عیاشیاں اور اللے تللے ختم کئے جائینگے۔ ریاست کے ہر شہری کو قانون کی نظر میں مساوی حیثیت حاصل ہوگی اور کاروبار و روزگار کے مساوی مواقع میسر ہونگے۔ عمران خان نے چونکہ کرپشن فری سوسائٹی کی تشکیل اپنے انتخابی منشور کی بنیاد بنائی تھی اس لئے انہیں اس منشور کی بنیاد پر بھی عوام میں پذیرائی حاصل ہوئی اور انہیں اسی بنیاد پر اقتدار مل گیا۔ جب پی ٹی آئی کے اقتدار کا آغاز ہوا تو عوام اسکے انقلابی منشور کے باعث اپنے تئیں خوش اور مطمئن تھے کہ اب ملکی معیشت کو سابق حکمرانوں کی پیدا کردہ خرابیوں سے نجات مل جائیگی اور انکے روٹی روزگار سمیت تمام مسائل بتدریج حل ہونا شروع ہو جائینگے۔

تاہم پی ٹی آئی کے اقتدار کے آغاز ہی میں پٹرولیم بجلی گیس کے نرخوں میں اضافے اور منی بجٹ میں عائد کئے گئے نئے ٹیکسوں کے باعث مہنگائی کے نئے سونامی اٹھنا شروع ہوگئے ۔ مہنگائی سے پہلے ہی عاجز آئے عوام عملًا زندہ درگور ہوگئے۔ پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے بعد صرف مہنگائی کا عفریت ہی بے قابو نہیں ہوا بلکہ ایڈہاک اور کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کرنے کی حکومتی پالیسی سے بے روزگاری کی شرح بھی بڑھ گئی۔ اسی دوران آئی ایم ایف کی ٹیم بھی پاکستان پہنچ کر اپنی عائد کی جانے والی شرائط سے عوام کو مزید مہنگائی کے خوف میں مبتلا کررہی تھی اور وہ یہی تصور کررہے تھے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تابع ہی ڈالر کی شرح بڑھائی جارہی ہے اور ان پر مہنگائی در مہنگائی مسلط کی جارہی ہے۔

برادر مسلم ممالک سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات، قطر اور چین کی جانب سے حکومت کیلئے بیل آؤٹ پیکیج بھی مل چکا۔ 12 ارب ڈالر سے زائد آسان قرضوں اور تیل کی ادھار فراہمی کے محض وعدے ہی نہیں کئے گئے ان وعدوں پر عملدرآمد کا بھی آغاز ہوچکا ہے چنانچہ عوام کے دلوں میں امید کی نئی کرن پیدا ہوئی کہ اب حکومت کیلئے انہیں ریلیف دینے کے اقدامات اٹھانا چنداں مشکل نہیں ۔

اگر قومی معیشت کو سنبھالا اور سہارا دینے والے ایسے سازگار حالات کے باوجود عوام میں اپنے غربت مہنگائی بے روزگاری کے مسائل کے حل کے حوالے سے مایوسی بڑھ رہی ہے ۔عالمی مارکیٹ میں مسلسل کم ہوتے تیل کے نرخوں سے بھی عوام کو کوئی ریلیف ملتا نظر نہیں آرہا اور مہنگائی کا عفریت بدستور منہ کھولے عوام کو نگلنے کیلئے بڑھ رہا ہے تو اس مایوسی سے پیدا ہونیوالا ردعمل اور بھی شدید ہو سکتا ہے۔یہ مہنگائی لامحالہ حکومتی اقدامات اور فیصلوں کے نتیجہ میں ہی بڑھی ہے جس کا سابقہ حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر عوام کو ہرگز مطمئن نہیں کیا جا سکتا جبکہ عوام کیلئے پیدا ہونیوالی تشویش و اضطراب کی اس فضا میں وفاقی کابینہ نے حج پر سبسڈی واپس لینے کا بھی فیصلہ کرلیا جس سے حج کے اخراجات میں ایک لاکھ 76 ہزار روپے تک کا اضافہ ہوگیاہے۔

حکومت کی ایسی اقتصادی پالیسیاں ہی عوام کی مایوسیوں میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں اور یہ مایوسیاں بڑھتے بڑھتے حکومت مخالف تحریک کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔پی ٹی آئی کے اقتدار کے چھ ماہ بعد ہی عوام وزیراعظم عمران خان کیلئے اپنے دلوں میں موجود رومانٹسزم سے باہر نکلتے نظر آرہے ہیں تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کو مہنگائی غربت اور بے روزگاری میں اضافہ کا باعث بننے والی اپنی پالیسیوں پر کتنے شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت کو اب بہرصورت عوام دوست پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی اور عوام کو حقیقی ریلیف دیناہوگا۔ بصورت دیگر اس کیلئے عوام کے غیظ و غضب پر قابو پانا مشکل ہوگا۔

Spread the love
  • 4
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں