پاک بھارت کشیدگی:چین کا دو ٹوک موقف

چینی وزیر خارجہ

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی ثالثی کا خیرمقدم کرتا ہے. لیکن بھارت گریزاں نظر آتا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بیجنگ میں نیشنل پیپلز کانگریس کے دوسرے سیشن کی سائڈ لائنز پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے چینی وزیر خارجہ نے پاکستان کے قیام امن اور کشیدگی کے خاتمے کیلیے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی ثالثی کاخیرمقدم کرتا ہے لیکن بھارت گریز کرتا ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان ہمارا اہم ترین اتحادی ہے اور ہمیشہ رہے گا تاہم چین امید کرتا ہے کہ پاکستان اور بھارت تصادم کا راستہ اختیار کرنے کی بجا ئے مذاکرات سے مسائل کا حل نکالیں تاکہ خطے میں امن کے لیے سازگار ماحول میسر آئے۔برادر چین نے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں ہی اہم کردار ادا نہیں کیا دفاعی معاملات میں بھی اسکی مکمل معاونت کی ہے جبکہ خطے کے سٹرٹیجک پارٹنر کی حیثیت سے پاکستان اور چین نے علاقائی امن و استحکام کی مشترکہ کوششوں میں بھی قابل تقلید مثالیں قائم کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:- چین نے پاکستان کو اپنا آئرن برادر قرار دیدیا
اسی طرح چین نے ایٹمی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی فراہمی سمیت پاکستان کے ساتھ تعاون کے مختلف معاہدوں کے ذریعے اس کا دفاعی حصار مضبوط بنایا ہے۔ چین نے جہاں ایٹمی ری ایکٹرز کی تنصیب میں پاکستان کی بے لوث معاونت کی وہیں تھنڈر جیٹ ٹیکنالوجی فراہم کرکے بھی پاکستان کی دفاعی تقاضوں سے عہدہ براء ہونے میں مکمل معاونت کی۔ چین کو یقیناً اس امر کا بھی مکمل ادراک ہے کہ امریکی سرپرستی میں بھارت کے پھیلتے ہوئے جارحانہ توسیع پسندانہ عزائم سے پاکستان ہی نہیں چین کی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہے جس کا بھارتی گیدڑ بھبکیوں سے عندیہ بھی ملتا رہتا ہے۔

اس تناظر میں چین جہاں علاقائی اور عالمی فورمز پر دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار اور قربانیوں کی بھی ستائش کرتا ہے وہیں اسکی سلامتی کیخلاف جاری بھارتی سازشوں کیخلاف ہر علاقائی اور عالمی فورم پر آواز بھی اٹھاتا ہے۔ گوادر پورٹ کے ساتھ منسلک کئے گئے پاکستان چین اقتصادی راہداری کے مشترکہ منصوبے سے پاکستان چین دوستی مزید گہری اور مزید اٹل ہوئی ہے جسے اپریشنل کرنے کیلئے علاقائی امن و سلامتی کی فضا استوار کرنا انتہائی ضروری ہے جبکہ بھارت پاکستان دشمنی میں علاقائی امن و سلامتی بھی تباہ کرنے پر تلا بیٹھا ہے جس پر چین کو بھی بجا طور پر تشویش لاحق ہوئی ہے اور پاکستان بھارت کشیدگی ختم کرانے کیلئے اپنے کردار کی خواہش کے اظہار کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان کی قیام امن کیلئے کی جانیوالی کوششوں کو بھی سراہتا اور پاکستان کی مکمل معاونت کا اعلان کرتا ہے۔

loading...

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس خطے میں جنگی جنون بھارت کی مودی سرکار نے بھڑکایا ہے جس نے مقبوضہ کشمیر میں اور کنٹرول لائن پر اپنی فوجوں کے ذریعے ظلم و تشدد اور وحشت و بربریت کی نئی مثالیں قائم کیں۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا ناطہ دہشت گردی سے جوڑنے اور پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست قرار دلانے کی سازش کی اور پاکستان کی سلامتی کھلم کھلا چیلنج کرتے ہوئے جنگ کا ماحول پیدا کرنے کا اہتمام کیا۔ جس سے دو ایٹمی ممالک کے مدمقابل آنے سے ممکنہ ایٹمی جنگ اور اس میں دنیا کی تباہی کا خدشہ لاحق ہوا تو پاکستان بھارت کشیدگی ختم کرانے کیلئے عالمی قیادتیں اور نمائندہ عالمی و علاقائی ادارے بھی متحرک ہو گئے۔

چین کا تعاون پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی کوششوں میں پاکستان کیلئے بہت بڑا سہارا ہے۔ عالمی قیادتوں کی کوششوں اور پاکستان کے ٹھوس بنیادوں پر اٹھائے گئے اقدامات سے فی الوقت تو جنگ ٹل گئی ہے ۔ بے شک پاکستان امن کا داعی اور خواہاں ہے جس کی خاطر وہ بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام باہمی تنازعات پر دوطرفہ بات چیت کیلئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے مگر پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی شروع دن کی بدنیتی بھارت کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔

پاک، بھارت موجودہ کشیدگی کا بھی یہی پس منظر ہے جس میں پاکستان کی موثر جوابی کارروائیوں سے فضائی اور بحری محاذوں سمیت ہر محاذ پر مودی سرکار کو ہزیمت اٹھانا پڑ ی مگر اسکی آتشِ انتقام سرد ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اس لئے پاکستان بھارت کشیدگی ختم کرانے کی خواہاں عالمی قیادتوں اور علاقائی و عالمی اداروں کو مسئلہ کشمیر حل کرانے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔بھارت سے ازخود امن کی راہ پر آنے کی تو ہرگز توقع نہیں کی جا سکتی جبکہ مودی سرکار اس کشیدگی سے لوک سبھا کے انتخابات میں اپنے لئے فائدہ اٹھانے کی تگ و دو میں ہے جس نے اسی بدنیتی کے تحت پاکستان کی مذاکرات کی ہر پیشکش کو رعونت کے ساتھ ٹھکرایا۔

امریکہ نیاگرچہ اپنے تئیں یہ دعوی کر دیا کہ پاک بھارت کشیدگی اس نے ختم کرائی جبکہ کشیدگی ختم کرنا بھارت کی نیت ہی نہیں ہے۔ اگر امریکہ بھارتی لب و لہجے میں ہی پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کے الزامات دہرائے گا اور اس سے ڈومور کے تقاضے بڑھائے گا تو اس کا یہ طرز عمل پاکستان کی سلامتی کیخلاف گھناؤنی سازشوں کی تکمیل کیلئے بھارت کے حوصلے مزید بڑھائے گا۔ اسکے برعکس چین ہمارے ساتھ اقتصادی اور دفاعی تعاون کے محض دعوے اور اعلانات ہی نہیں کرتا ٹھوس عملی اقدامات بھی اٹھاتا ہے۔ اگر امریکہ کو بھی علاقائی اور عالمی امن مقصود ہے تو پھر اسے بھارت کی سرپرستی ترک کرنا ہوگی اور بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر بھارت سے عملدرآمد کرانا ہوگا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں