آئی سی سی کا دوہرا معیار کیوں؟

آئی سی سی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آئی سی سی سے بھارتی کرکٹ ٹیم کے آرمی کیپ پہننے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دنیا نے دیکھا کہ بھارتی ٹیم نے اپنی کھیل کی ٹوپیاں اتار کر فوج کی ٹوپیاں پہنیں، کیا یہ آئی سی سی کو دکھائی نہیں دے رہا؟
ہم سمجھتے ہیں کہ اب یہ آئی سی سی کی ذمہ داری ہے کہ وہ پی سی بی کے بن کہے اس چیز کا نوٹس لے۔
اس سے پہلے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نے اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ یہ کوئی کرکٹ نہیں ہے، امید کرتے ہیں آئی سی سی جنٹلمین گیم میں سیاست کا نوٹس لے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر بھارت باز نہیں آئے گا تو پاکستانی ٹیم کو دنیا کو کشمیر میں بھارتی مظالم یاد کرانے کے لیے سیاہ بینڈ پہننے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں: – مودی سرکار کا گھناؤنا کام، دو سو مسلمانوں کے گھر جلا دیئے

آئی سی سی کو دوہرا معیاراپنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ یاد رہے کہ 2014 میں آئی سی سی نے انگلینڈ ٹیم کے مسلمان کرکٹر معین علی کے فلسطینیوں کی حمایت میں رسٹ بینڈ پہننے پر پابندی لگادی تھی۔معین علی کے رسٹ بینڈ پر’’ سیو غزا اور فری فلسطین‘‘ کے الفاظ تحریر تھے اور ان دنوں فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام جاری تھا۔مسلمان انگلش کرکٹرنے وہ رسٹ بینڈ اپنے بورڈ کی اجازت کے بعد پہنا تھا مگر آئی سی سی نے انگلش بورڈ کی اجازت مسترد کردی تھی اور معین علی کو فلسطین اور غزا کی حمایت کرنے سے منع کردیا تھا۔

اس کے برعکس ویرات کوہلی الیون نے میچ میں اس فوج کو سپورٹ کیا جس نے گزشتہ 30 برسوں کے دوران 95ہزار کشمیریوں کو قتل کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کسی فوج کی مارکیٹنگ کی اجازت دیتا ہے؟

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں