مراد علی شاہ کی ممکنہ گرفتاری، حکومتِ سندھ بحران کا شکار

مراد علی شاہ

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی اعلیٰ قیادت کے جیل منتقل ہونے اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر پارٹی نے سندھ کی صوبائی حکومت کو بچانے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔

خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سید مراد علی شاہ کے خلاف جعلی اکاونٹ کیس اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کررہی ہے جس کے باعث انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس ساری صورت حال میں پی پی پی کوشش کررہی ہے کہ ایسے قانون سازوں کو وزیر نہ بنایا جائے جن کے حوالے سے ناگواری (وہ کسی کیس میں نامزد ہیں) ظاہر کی جارہی ہے اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے سندھ کی صوبائی کابینہ میں حالیہ تبدیلی کی گئی ہے، اس کے علاوہ وہ ‘مقتدر حلقوں’ سے بھی رابطے میں ہیں تاکہ انہیں یہ بتایا جائے کہ وہ کسی سے بھی محاذ آرائی نہیں چاہتے۔

پی پی پی نے مقتدر حلقوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی آئی ٹی) کی حکومت اور نیب کی مخالفت کرنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ ان کی مخالفت کی جارہی ہے۔

ڈان اخبار کو ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کو فوری طور پر شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، دونوں کو جعلی اکاونٹ کیس میں نیب نے گرفتار کیا تھا، کے حوالے سے کسی قسم کے ریلیف کی توقع نہیں لیکن اس وقت پارٹی کی پوری توجہ حکومت سندھ کو درپیش چلینجز پر لگی ہوئی ہیں، جہاں وہ گزشتہ 11 سال سے اقتدار میں ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ‘کچھ حلقے مراد علی شاہ سے خوش نہیں، پی پی پی کو انہیں تبدیل کرنے کے متعدد مواقع میسر آئے لیکن پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ان کے ساتھ کھڑے تھے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یوں معلوم ہورہا ہے کہ سندھ حکومت کو بچانے کے لیے پارٹی کی قیادت مراد علی شاہ کی قربانی دینے کو بھی تیار ہوگئی ہے لیکن بظاہر اس میں اسٹیبلشمنٹ کی دلچسپی نہیں’۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں