ہمیں دو میچوں کی بھاری قیمت چکانی پڑی، بابر اعظم

بابر اعظم

ایک انٹرویو میں نوجوان بلے باز نے کہا کہ قومی ٹیم کی قیادت کا فیصلہ کرنا پاکستان کرکٹ بورڈ کا کام ہے اور کھلاڑیوں کا کام ان کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہے، میں نے کبھی بھی قیادت کے بارے میں نہیں صرف پاکستان کے لیے کھیلنے کے بارے میں سوچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں جو قیادت کے حصول کی کوششیں کرتے ہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ میری توجہ پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ رنز کرنے پر مرکوز ہے۔

بابر کا کہنا تھا کہ بورڈ جس کو بھی منتخب کرے گا وہ ہی بہترین انتخاب ہو گا، میرے خیال میں سرفراز احمد اچھے کپتان ہیں اور اس وقت احسن طریقے سے اپنی ذمے داریاں نبھا رہے ہیں۔

ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے عالمی کپ میں بہت سستہ آغاز کیا اور جب ہم نے اپنی بہترین فارم حاصل کی تو اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے نئے کوچنگ اسٹاف کے لیے اشتہار جاری کردیا

نوجوان بلے باز نے کہا کہ ہمیں دو میچوں کی بھاری قیمت چکانی پڑی، پہلے ہمیں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں بدترین شکست ہوئی جس سے ہمارا رن ریٹ بری طرح متاثر ہوا اور پھر آسٹریلیا کے خلاف ہم فتح کی راہ پر گامزن ہونے کے باوجود بھی میچ میں کامیابی حاصل نہ کر سکے، ہمیں اس میچ کو جیتنا چاہیے تھا لیکن یکے بعد دیگرے وکٹیں گرنے سے ہمیں دھچکا لگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کے ابتدائی میچوں میں زیادہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکا اور میں اس سے بہتر کھیل پیش کر سکتا تھا تاہم اب میری کوشش ہو گی کہ میں دوبارہ ان غلطیوں کو نہ دہراؤں، البتہ میں عالمی کپ میں اپنی کارکردگی سے مطمئن ہوں۔

loading...

یاد رہے کہ ورلڈ کپ میں بابر اعظم پاکستان کی جانب سے سب سے کامیاب بلے باز رہے تھے اور ایک عالمی کپ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز کا جاوید میانداد کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا تھا۔

عالمی کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں فتح گر سنچری کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ یہ اننگز میرے لیے بڑا امتحان تھی کیونکہ ہم ابتدائی طور پر جلد وکٹ گنوا چکے تھے اور مجھے وکٹ کو سمجھ کر اپنی اننگز آگے بڑھانی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کیوی اسپنر مچل سینٹنر کی گیند بہت زیادہ ٹرن ہو رہی تھی جس کی وجہ سے ہم نے ان کو محتاط انداز میں کھیلنے کا فیصلہ کیا اور کوشش کی کہ انہیں وکٹ نہ دیں کیونکہ اگر اس وقت وکٹ گر جاتی تو ہم مشکل میں پھنس سکتے تھے۔

بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک کے لیے کھیلتے ہوئے کسی بھی قسم کی تحریک یا موٹی ویشن کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ملک کے لیے کھیلنے کا موقع ملنا ہی بڑے اعزاز کی بات ہے، اپنے ملک کی عالمی سطح پر نمائندگی کرنا بہت بڑا اعزاز ہے۔

بھارتی ٹیم کے کپتان اور مایہ ناز بلے باز ویرات کوہلی سے موازنے کے بارے میں سوال پر بابر نے کہا کہ میرا ان سے موازنہ نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ ہم دونوں بہت مختلف طرح کے کھلاڑی ہیں، میں نہیں چاہتا کہ میرا کوہلی یا دنیا کے کسی بھی کھلاڑی سے موازنہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے دنیا کے کے متعدد کھلاڑیوں سے بات کی اور ان میں سے کسی کو بھی دیگر کھلاڑیوں سے موازنہ پسند نہیں کیونکہ اس سے ایک نہ ختم ہونے والا دباؤ جنم لیتا ہے، میں نہیں چاہتا کہ میرا کسی بھی کھلاڑی سے موازنہ کیا جائے کیونکہ میں صرف اپنے ملک کے لیے کھیلنا چاہتا ہوں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں