پانچ دن

مائی نانکی

جموں توی کے راستے کشمیر جائیے تو کد کے آگے ایک چھوٹا سا پہاڑی گاؤں بٹوت آتا ہے۔ بڑی پر فضا جگہ ہے۔ یہاں دق کے مریضوں کے لیے ایک چھوٹا سا سینے ٹوریم ہے۔

یوں تو آج سے آٹھ نو برس پہلے بٹوت میں پورے تین مہینے گزار چکا ہوں، اور اس صحت افزا مقام سے میری جوانی کا ایک ناپختہ رومان بھی وابستہ ہے مگر اس کہانی سے میری کسی بھی کمزوری کا تعلق نہیں۔ چھ سات مہینے ہوئے مجھے بٹوت میں اپنے ایک دوست کی بیوی کو دیکھنے کے لیے جانا پڑا جو وہاں سینے ٹوریم میں زندگی کے آخری سانس لے رہی تھی۔ میرے وہاں پہنچتے ہی ایک مریض چل بسا اور بے چاری پدما کے سانس جو پہلے اکھڑے ہوئے تھے اور بھی غیر یقینی ہو گئے۔

میں نہیں کہہ سکتا وجہ کیا تھی لیکن میرا خیال ہے کہ محض اتفاق تھا کہ چار روز کے اندر اندر اس چھوٹے سے سینے ٹوریم میں تین مریض اوپر تلے مر گئے جونہی کوئی بستر خالی ہوتا یا تیمار داری کرتے کرتے تھکے ہوئے انسانوں کی تھکی ہوئی چیخ پکار سنائی دیتی، سارے سینی ٹوریم پر ایک عجیب قسم کی خاکستری اداسی چھا جاتی اور وہ مریض جو امید کے پتلے دھاگے کے ساتھ چمٹے ہوتے تھے۔

یاس کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتے۔ میرے دوست کی بیوی تو پدما بالکل دم بخود ہو جاتی۔ اس کے پتلے ہونٹوں پر موت کی زردیاں کانپنے لگتیں اور اس کی گہری آنکھوں میں ایک نہایت ہی رحم انگیز استفسار پیدا ہوجاتا۔ سب سے آگے ایک

’’خوف زدہ کیوں؟‘‘

اور اس کے پیچھے بہت سے ڈرپوک

’’نہیں‘‘

تیسرے مریض کی موت کے بعد میں باہر برآمدے میں بیٹھ کرزندگی اور موت کے متعلق سوچنے لگا۔ سینے ٹوریم ایک مرتبان سا لگتا ہے جس میں یہ مریض پیاز کی طرح سرکے میں ڈلے ہُوئے ہیں۔ ایک کانٹا آتا ہے اور جو پیاز اچھی طرح گل گئی ہے، اسے ڈھونڈتا ہے اور نکال کر لے جاتا ہے۔

یہ کتنی مضحکہ خیز تشبیہ تھی۔ لیکن جانے کیوں بار بار یہی میرے ذہن میں آئی۔ میں اس سے زیادہ اور کچھ نہ سوچ سکا کہ موت ایک بہت ہی بھونڈی چیز ہے۔ یعنی آپ اچھے بھلے جی رہے ہیں، ایک مرض کہیں سے آن چمٹتا ہے اور مرجاتے ہیں۔ افسانوی نقطہ نظر سے بھی زندگی کی کہانی کا یہ انجام کچھ چست معلوم نہیں ہوتا۔ برآمدے سے اٹھ کر اندر داخل ہُوا۔ دس پندرہ قدم اٹھائے ہوں گے کہ پیچھے سے آواز آئی۔

’’دفنا آئے آپ نمبر بائیس کو!‘‘

میں نے مڑ کر دیکھا۔ سفید بستر پر دو کالی آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔ یہ آنکھیں جیسا کہ مجھے بعد میں معلوم ہوا۔ ایک بنگالی عورت کی تھیں جو دوسرے مریضوں سے بالکل الگ طریقے پر اپنی موت کا انتظار کررہی تھی۔ اس نے جب یہ کہا

’’دفنا آئے آپ نمبر بائیس کو؟‘‘

تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ہم انسان کو نہیں بلکہ ایک عدد دفنا کر آرہے ہیں۔ اور سچ پوچھیے تو اس مریض کو قبر کے سپرد کرتے ہوئے میرے دل و دماغ کے کسی کونے میں بھی یہ احساس پیدا نہیں ہوا تھا کہ وہ ایک انسان تھا، اور اس کی موت سے دنیا میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ میں جب مزید گفتگو کرنے کے لیے اس بنگالی عورت کے پاس بیٹھا جس کی سیاہ فام آنکھیں ایسی ہولناک بیماری کے باوجود تروتازہ اور چمکیلی تھیں تو اس نے ٹھیک اسی طرح مسکرا کر کہا۔

’’میرا نمبرچار ہے۔ ‘‘

پھر اس نے اپنی سفید چادرکی چند سلوٹیں اپنے استخوانی ہاتھ سے درست کیں اور بڑے بے تکلف انداز میں کہا۔

’’آپ مردوں کو جلانے دفنانے میں کافی دلچسپی لیتے ہیں۔ ‘‘

میں نے یونہی سا جواب دیا۔

’’نہیں تو‘‘

۔ اس کے بعد یہ مختصر گفتگو ختم ہو گئی اور میں اپنے دوست کے پاس چلا گیا۔ دوسرے روز میں حسب معمول سیر کو نکلا۔ ہلکی ہلکی پھوارگررہی تھی۔ جس سے فضا بہت ہی پیاری اور معصوم ہو گئی تھی، یعنی جیسے اس کو ان مریضوں سے کوئی سروکار ہی نہیں جو اس میں جراثیم بھرے سانس لے رہے تھے۔ چیڑ کے لانبے لانبے درخت، نیلی نیلی دُھند میں لپٹی ہوئی پہاڑیاں، سڑک پر لڑھکتے ہُوئے پتھر۔

پست قد مگرصحت مند بھینسیں۔ ہر طرف خوبصورتی تھی۔ ایک پراعتماد خوبصورتی جسے کسی چور کا کھٹکا نہیں تھا۔ میں سیر سے لوٹ کر سینے ٹوریم میں داخل ہوا تو مریضوں کے اترے ہوئے چہروں ہی سے مجھے معلوم ہو گیا کہ ایک اور عدد چل بسا ہے۔ گیارہ نمبر، یعنی پدما۔ اس کی دھنسی ہوئی آنکھوں میں جو کھلی رہ گئی تھیں میں نے بہت سے خوفزدہ

’’کیوں‘‘

اور ان کے پیچھے بے شمار ڈرپوک

’’نہیں‘‘

منجمد پائے۔ بے چاری! پانی برس رہا تھا، اس لیے خشک ایندھن جمع کرنے میں بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ بہر حال، اس غریب کی لاش کو آگ کے سپرد کردیا گیا۔ میرا دوست وہیں چتا کے پاس بیٹھا رہا اور میں اس کا سامان ٹھیک کرنے کے لیے سینے ٹوریم آگیا۔ اندر داخل ہوتے ہُوئے مجھے پھر اس بنگالی عورت کی آواز آئی۔

’’بہت دیرلگ گئی آپ کو!‘‘

’’جی ہاں بارش کی وجہ سے خشک ایندھن نہیں مل رہا تھا اس لیے دیر ہو گئی۔ ‘‘

’’اور جگہوں پر تو ایندھن کی دکانیں ہوتی ہیں، پر میں نے سنا ہے یہاں اِدھر اُدھر سے خود ہی لکڑیاں کاٹنی اور چننی پڑتی ہیں۔ ‘‘

’’جی ہاں۔ ‘‘

’’ذرا بیٹھ جائیے۔ ‘‘

میں اس کے پاس اسٹول پر بیٹھ گیا۔ تو اس نے ایک عجیب سا سوال کیا۔

’’تلاش کرتے کرتے جب آپ کو خشک لکڑی کا ٹکرا مل جاتا ہو گا تو آپ بہت خوش ہوتے ہوں گے؟‘‘

اس نے میرے جواب کا انتظار نہ کیا اور اپنی چمکیلی آنکھوں سے مجھے بغور دیکھتے ہوئے کہا۔

’’موت کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘

’’میں نے کئی بار سوچا ہے لیکن سمجھ نہیں سکا۔ ‘‘

وہ داناؤں کی طرح مسکرائی اور بچوں کے سے انداز میں کہنے لگی۔

’’میں کچھ کچھ سمجھ سکی ہوں۔ اس لیے کہ بہت موتیں دیکھ چکی ہوں۔ اتنی کہ آپ شاید ہزار برس بھی زندہ رہ کر نہ دیکھ سکیں۔ میں بنگال کی رہنے والی ہوں جہاں کا قحط آج کل بہت مشہور ہے۔ آپ کو تو پتہ ہی ہو گا۔ لاکھوں آدمی وہاں مر چکے ہیں۔ بہت سی کہانیاں چھپ چکی ہیں۔ سینکڑوں مضمون لکھے جا چکے ہیں۔ پھر بھی سنا ہے کہ انسان کی اس بپتا کا اچھی طرح نقشہ نہیں کھینچا جاسکا۔ موت کی اسی منڈی میں موت کے متعلق میں نے سوچا۔ ‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کیا؟‘‘

اس نے اسی انداز سے جواب دیا۔

’’میں نے سوچا کہ ایک آدمی کا مرنا موت ہے۔ ایک لاکھ آدمیوں کا مرنا تماشاہے۔ سچ کہتی ہوں موت کا وہ خوف جو کبھی مرے دل پر ہُوا کرتا تھا، بالکل دور ہو گیا۔ ہر بازارمیں دس بیس ارتھیاں اور جنازے نظر آئیں تو کیا موت کا اصلی مطلب فوت نہیں ہو جائے گا۔ میں صرف اتنا سمجھ سکی ہُوں کہ ایسی بے تحاشا موتوں پر رونا بیکار ہے۔ بیوقوفی ہے۔ اوّل تو اتنے آدمیوں کا مرناہی سب سے بڑی حماقت ہے۔ ‘‘

میں نے فوراً ہی پوچھا۔

’’کس کی۔ ‘‘

’’کسی کی بھی ہو۔ حماقت، حماقت ہے۔ ایک بھرے شہر پر آپ اوپر سے بم گرا دیجیے۔ لوگ مر جائیں گے۔ کنوؤں میں زہر ڈال دیجیے۔ ۔ جو بھی ان کا پانی پیے گا۔ مر جائے گا۔ یہ کال، قحط، جنگ اور بیماریاں سب واہیات ہیں۔ ان سے مرجانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے اوپر سے چھت آگرے۔ لیکن دل کی ایک جائز خواہش کی موت بہت بڑی موت ہے۔ انسان کو مارنا کچھ نہیں، لیکن اس کی فطرت کو ہلاک کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ کچھ دیر کے لیے چپ ہو گئی۔ لیکن پھر کروٹ بدل کر کہنے لگی۔

’’میرے خیالات پہلے ایسے نہیں تھے۔ سچ پوچھیے تو مجھے سوچنے کا وقوف ہی نہیں تھا۔ لیکن اس قحط نے مجھے ایک بالکل نئی دنیا میں پھینک دیا۔ ‘‘

رک کر ایک دم وہ میری طرف متوجہ ہوئی۔ میں اپنی کاپی میں یاداشت کے طور پر اس کی چند باتیں نوٹ کررہا تھا۔

’’یہ آپ کیا لکھ رہے ہیں؟‘‘

میں نے صاف گوئی سے کام لیا اور کہا۔

’’میں افسانہ نگار ہوں۔ جو باتیں مجھے دلچسپ معلوم ہوں، نوٹ کرلیا کرتا ہوں۔ ‘‘

’’اوہ! تو پھر میں آپ کو اپنی پوری کہانی سناؤں گی۔ ‘‘

تین گھنٹے تک نحیف آواز میں وہ مجھے اپنی کہانی سناتی رہی۔ میں اب اپنے الفاظ میں اسے بیان کرتا ہوں۔ غیر ضروری تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ بنگال میں جب قحط پھیلا اور لوگ دھڑا دھڑ مرنے لگے تو سکینہ کو اس کے چچا نے ایک اوباش آدمی کے پاس پانچ سو روپے میں بیچ دیا جو اسے لاہور لے آیا۔ اور ایک ہوٹل میں ٹھہرا کر اس سے روپیہ کمانے کی کوشش کرنے لگا۔ پہلا آدمی جو اس کے پاس اس غرض سے لایا گیا ایک خوبصورت اور تندرست نوجوان تھا۔ قحط سے پہلے جب روٹی کپڑے کی فکر نہیں تھی، وہ ایسے ہی نوجوان کے خواب دیکھا کرتی تھی جو اس کا شوہر بنے۔ مگر یہاں اس کا سودا کیا جارہا تھا۔ ایک ایسے فعل کے لیے اسے مجبور کیا جارہا تھا جس کے تصور ہی سے وہ کانپ کانپ اٹھتی تھی۔ جب وہ کلکتہ سے لاہور لائی گئی تو اسے معلوم تھاکہ اس کے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے۔ وہ باشعور لڑکی تھی۔ اچھی طرح جانتی تھی کہ چند ہی روز میں اسے ایک سکہ بنا کر جگہ جگہ بھنایا جائے گا۔

اس کو یہ سب کچھ معلوم تھا لیکن اس قیدی کی طرح جو رحم کی امید نہ ہونے پربھی آس لگائے رہتا ہے، وہ کسی ناممکن حادثے کی متوقع تھی۔ یہ حادثہ تو نہ ہوا لیکن خود اس میں اتنی ہمت پیدا ہو گئی کہ وہ رات کوکچھ اپنی ہوشیاری سے اور کچھ اس نوجوان کی خامکاری کی بدولت ہوٹل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔ اب لاہور کی سڑکیں تھیں اور ان کے نئے خطر۔ قدم قدم پر ایسا لگتا تھا کہ لوگوں کی نظریں اسے کھا جائیں گی۔ لوگ اسے کم دیکھتے تھے۔

لیکن اس کی جوانی کو جو چھپنے والی چیز نہیں تھی، کچھ اتنا زیادہ گھورتے تھے، جیسے برمے سے اس کے اندر سوراخ کررہے ہیں۔ سونے چاندی کا کوئی زیور یا موتی ہوتا تو وہ شاید لوگوں کی نظروں سے بچا لیتی۔

مگر وہ ایک ایسی چیز کی حفاظت کررہی تھی جس پر کوئی بھی آسانی کے ساتھ ہاتھ مار سکتا تھا۔ تین دن اور تین راتیں وہ کبھی ادھر کبھی ادھر گھومتی بھٹکتی رہی۔ بھوک کے مارے اس کا بُرا حال تھا مگر اس نے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اس کا یہ پھیلا ہوا ہاتھ اس کی عصمت سمیت کسی اندھیری کوٹھری میں کھینچ لیا جائے گا۔ دکانوں میں سجی ہوئی مٹھائیاں دیکھتی تھی۔

بھٹیار خانوں میں لوگ بڑے بڑے نوالے اٹھاتے تھے۔ اس کے ہر طرف کھانے پینے کی چیزوں کا بڑی بیدردی سے استعمال ہوتا تھا۔ لیکن جیسے دنیا میں اس کے مقسوم کا کوئی دانہ ہی نہیں رہا تھا۔ اسے زندگی میں پہلی بار کھانے کی اہمیت معلوم ہوئی۔ پہلے اس کو کھانا ملتا تھا، اب وہ کھانے سے ملنا چاہتی تھی۔ چار روز کے فاقوں نے اسے اپنی ہی نظروں میں ایک بہت بڑا شہید تو بنا دیا۔ لیکن اس کے جسم کی ساری بنیادیں ہل گئیں۔ وہ جو روحانی تسکین ہوتی ہے ایک وقت آگیا کہ وہ بھی سکڑنے لگی۔ چوتھے روز شام کو وہ ایک گلی میں سے گزر رہی تھی۔ جانے کیا جی میں آئی کہ ایک مکان کے اندر گھس گئی۔

اندر چل کر خیال آیا کہ نہیں، کوئی پکڑ لے گا۔ اور تمام کیے کرائے پر پانی پھر جائیگا۔ اب اس میں اتنی طاقت بھی تو نہیں۔ لیکن سوچتے سوچتے وہ صحن کے پاس پہنچ چکی تھی۔ ملگجے اندھیرے میں اس نے گھڑونچیوں پر دو صاف گھڑے دیکھے۔ اورانکے ساتھ ہی پھلوں سے بھرے ہوئے دو تھال۔ سیب۔ ناشپاتیاں۔ انار۔ اس نے سوچا انار بکواس ہے۔ سیب اور ناشپاتیاں ٹھیک ہیں۔

گھڑے کے اوپر چینی کے بجائے ایک پیالہ پڑا تھا۔ اس نے طشتری اٹھا کر دیکھا تو ملائی سے پُر تھا۔ اس نے اٹھا لیا اور بیشتر اس کے کہ وہ کچھ سوچ سکے، جلدی جلدی اس نے نوالے اٹھانے شروع کیے ساری ملائی اس کے پیٹ میں تھی۔ کتنا راحت بخش لمحہ تھا۔ بھول گئی کہ کسی غیر کے مکان میں ہے۔ وہیں بیٹھ کر اس نے سیب اور ناشپاتیاں کھانا شروع کردیں۔ گھڑونچی کے نیچے کچھ اور بھی تھا۔ یخنی۔ ٹھنڈی تھی لیکن اس نے ساری پتیلی ختم کردی۔ ایک دم جانے کیا ہوا۔ پیٹ کی گہرائیوں سے غبار سا اٹھا اور اس کاسر چکرانے لگا۔ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ کہیں سے کھانسی کی آواز آئی۔ بھاگنے کی کوشش کی مگر چکرا کر گری اور بے ہوش ہو گئی۔ جب ہوش آیا تو وہ ایک صاف ستھرے بستر میں لیٹی تھی۔ سب سے پہلے اسے خیال آیا۔ کہیں میں لوٹی تو نہیں گئی۔

لیکن فوراً ہی اسے اطمینان ہو گیا کہ وہ صحیح سلامت تھی۔ کچھ اور سوچنے ہی لگی تھی کہ پتلی پتلی کھانسی کی آواز آئی۔ ایک ہڈیوں کا ڈھانچہ کمرے میں داخل ہوا۔ سکینہ نے اپنے گاؤں میں بہت سے قحط کے مارے انسان دیکھے تھے مگر یہ انسان ان سے بہت مختلف تھا۔ بے چارگی اس کی آنکھوں میں بھی تھی مگر اس میں وہ اناج کی ترسی ہوئی خواہش نہیں تھی۔ اس نے پیٹ کے بھوکے دیکھے تھے جن کی نگاہوں میں ایک ننگی اور بھونڈی للچاہٹ تھی لیکن اس کی مرد کی نگاہوں میں اسے ایک چلمن سی نظر آئی۔ ایک دھندلا پردہ جس کے پیچھے سے وہ ڈر ڈر کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ خوفزدہ سکینہ کو ہونا چاہیے لیکن سہما ہوا وہ تھا۔ اس نے رک رک کر کچھ جھینپتے ہوئے عجیب قسم کا حجاب محسوس کرتے ہوئے اس سے کہا۔

’’جب تم کھا رہی تھیں تو میں تم سے دور کھڑا تھا۔ اف! میں نے کن مشکلوں سے اپنی کھانسی روکے رکھی کہ تم آرام سے کھا سکو اور میں یہ خوبصورت منظر زیادہ دیر تک دیکھ سکوں۔ بھوک بڑی پیاری چیز ہے۔ لیکن ایک میں ہوں کہ اس نعمت سے محروم ہُوں۔ نہیں، محروم نہیں کہنا چاہیے کیونکہ میں نے خود اس کو ہلاک کیا ہے۔ سکینہ کچھ بھی سمجھ نہ سکی۔ وہ ایک پہیلی تھی۔ جو بوجھتے بوجھتے ایک اور پہیلی بن جاتی تھی لیکن اس کے باوجود سکینہ کو اس کی باتیں اچھی لگیں جن میں انسانیت کی گرمی تھی۔ چنانچہ اس نے اپنی ساری آپ بیتی اسکو سنا دی۔ وہ خاموش سنتا رہا جیسے اس پر اثر ہی نہیں ہوا۔ لیکن جب سکینہ اس کا شکریہ ادا کرنے لگی تو اس کی آنکھیں جو آنسوؤں سے بے نیاز معلوم ہوتی تھیں ایک دم نمناک ہو گئیں اور اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔

’’یہیں رہ جاؤ سکینہ۔ میں دق کا بیمار ہوں۔ مجھے کوئی کھانا۔ کوئی پھل اچھا نہیں لگتا۔ تم کھایا کرنا اور میں تمہیں دیکھا کروں گا۔ ‘‘

لیکن فوراً ہی وہ مسکرانے لگا۔

’’کیا حماقت ہے۔ کوئی اور سنتا تو کیا کہتا۔ یعنی دوسرا کھایا کرے اور میں دیکھا کروں گا۔ نہیں سکینہ۔ ویسے میری دلی خواہش ہے کہ تم یہیں رہو۔ ‘‘

سکینہ کچھ سوچنے لگی۔

’’جی نہیں۔ میرا مطلب ہے آپ اس گھر میں اکیلے ہیں اور میں۔ نہیں نہیں۔ بات یہ ہے کہ میں۔ ‘‘

یہ سن کر اس کو کچھ ایسا صدمہ پہنچا کہ وہ تھوڑی دیر کے بالکل کھو سا گیا۔ جب بولا تو اس کی آواز کھوکھلی تھی۔

’’میں دس برس تک سکول میں لڑکیاں پڑھاتا رہا ہُوں ہمیشہ میں نے ان کو اپنی بچیاں سمجھا۔ تم۔ تم ایک اور ہو جاؤ گی۔ ‘‘

سکینہ کے لیے کوئی اور جگہ ہی نہیں تھی! چنانچہ اس پروفیسر کے ہاں ٹھہر گئی۔ وہ ایک برس اور چند مہینے زندہ رہا۔ اس دوران میں بجائے اس کے کہ سکینہ اس کی خبر گیری کرتی، الٹا وہ جو کہ بیمار تھا، اس کی آرائش و آرام پہنچانے میں کچھ اس بے کلی سے مصروف رہا جیسے ڈاک جانے والی ہے اور وہ جلدی جلدی ایک خط میں جو بات اس کے ذہن میں آتی ہے لکھتا جارہا ہے۔ اس کی اس توجہ نے سکینہ کو جسے توجہ کی ضرورت تھی۔ چند مہینوں میں نکھار دیا۔ اب پروفیسر اس سے کچھ دور رہنے لگا۔ مگر اس کی توجہ میں کوئی فرق نہ آیا۔ آخری دنوں میں اچانک اس کی حا لت خراب ہو گئی۔ ایک رات جب کہ سکینہ اس کے پاس ہی سو رہی تھی، وہ ہڑ بڑا کر اٹھا اور زور سے چلانے لگا۔

’’سکینہ سکینہ۔ ‘‘

یہ چیخیں سُن کر سکینہ گھبرا گئی۔ پروفیسر کی دھنسی ہوئی آنکھوں جو چلمن سی ہوا کرتی تھی موجود نہیں تھی۔ اب ایک اتھاہ دکھ سکینہ کو ان میں نظر آیا۔ پروفیسر نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے سکینہ کے ہاتھ پکڑے اور کہا۔

’’میں مر رہا ہوں۔ لیکن اس موت کا مجھے دُکھ نہیں۔ کیونکہ بہت سی موتیں میرے اندر واقع ہو چکی ہیں۔ تم سُننا چاہتی ہو میری داستان۔ جاننا چاہتی ہو میں کیا ہوں۔ سنو۔ ایک جھوٹ ہوں۔ بہت بڑا جھوٹ۔ میری ساری زندگی اپنے آپ سے جھوٹ بولنے اور پھر اسے سچ بنانے میں گزری ہے۔ اف کتنا تکلف دہ غیر فطری اور غیر انسانی کام تھا۔

میں نے ایک خواہش کو مارا تھا۔ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس قتل کے بعد مجھے اور بہت سے خون کرنے پڑیں گے۔ سکینہ! یہ میں جو کچھ کہہ رہا ہُوں فلسفیانہ بکواس ہے، سیدھی بات یہ ہے کہ میں اپنا کیریکٹر اونچا کرتا رہا اور خود انتہائی پستیوں کے دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ میں مر جاؤں گا اور یہ کیریکٹر۔ یہ بے رنگ پھریرا میری خاک پر اُڑتا رہے گا۔ وہ تمام لڑکیاں جنہیں میں سکول میں پڑھایا کرتا تھا۔ کبھی مجھے یاد کریں گی تو کہیں گی ایک فرشتہ تھا جو انسانوں میں چلا آیا تھا۔ تم بھی میری نیکیوں کو نہیں بھولو گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب سے تم اس گھرمیں آئی ہو۔

ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا جب میں نے تمہاری جوانی کو دزدیدہ نگاہوں سے نہ دیکھا ہو۔ میں نے تصور میں کئی بار تمہارے ہونٹوں کو چوما ہے۔ کئی بار میں نے تمہاری انھوں پر اپنا سر رکھا ہے۔ لیکن ہر بار مجھے ان تصویروں کو پُرزے پُرزے کرنا پڑا۔ پھر ان پرزوں کو جلا کر میں نے راکھ بنائی کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہے۔ میں مر جاؤں گا۔ کاش مجھ میں اتنی ہمت ہوتی کہ اپنے اس اونچے کیریکٹر کو ایک لمبے بانس پر لنگور کی طرح بٹھا دیتا۔ اور ڈگڈگی بجا کر لوگوں کو اکٹھا کرتا کہ آؤ دیکھو اورعبرت حاصل کرو۔ ‘‘

اس واقعہ کے بعد پروفیسر صرف پانچ روز زندہ رہا۔ سکینہ کا بیان ہے کہ مرنے سے پہلے وہ بہت خوش تھا۔ جب وہ آخری سانس لے رہا تھا تو اس نے سکینہ سے صرف اتنا کہا۔

’’سکینہ! میں لالچی نہیں۔ زندگی کے یہ آخری پانچ دن میرے لیے بہت ہیں۔ میں تمہارا شکر گزار ہوں۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو
(Visited 13 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں