ہائی کمشنر تو واپس آگئے لیکن جنگی جنون؟

جنگی جنون

پاک بھارت تناؤ میں کمی کے بعد اسلام آباد اور نئی دہلی میں دونوں ممالک کے ہائی کمشنروں نے اپنی اپنی ذمے داریاں دوبارہ سنبھال لی ہیں، نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود اور اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کشیدگی کے ایام میں اپنے تعیناتی کے مقام سے واپس بلائے گئے تھے، سہیل محمود واہگہ بارڈر کے راستے نئی دہلی روانہ ہوئے۔

وہ وزیراعظم عمران خان کا اہم پیغام بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پہنچائیں گے۔پلوامہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کی وجہ سے پاکستان نے 18 فروری کو اپنے ہائی کمشنر کو اسلام آباد مشاورت کے لئے طلب کر لیا تھا ۔ یہ اقدام بھارت کی طرف سے اپنے ہائی کمشنر کو نئی دہلی طلب کرنے کے بعد اٹھایا گیا تھا۔

سہیل محمود نے نئی دہلی روانگی سے قبل وزیراعظم عمران خان سے ملاقات بھی کی ،جس میں انہیں ہدایات دی گئیں۔

14مارچ کو واہگہ اٹاری بارڈر پر کرتارپور کوریڈور کھولنے کے بارے میں پہلا اجلاس بھی ہو رہا ہے،جس کے  لئے تیاریاں جاری ہیں۔یہ اجلاس سرحد کے بھارتی جانب ہو گا، جبکہ 28 مارچ کو بھارتی وفد پاکستان آ کر اجلاس میں شرکت کرے گا۔

حالیہ دِنوں میں حالات اگرچہ کشیدگی سے معمول کی جانب مراجعت کرتے دیکھے گئے ہیں تاہم وزیراعظم سے لے کر کور کمانڈروں کے اجلاسوں میں بھی اِس رائے کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگرچہ پہلے والی کشیدہ صورتِ حال اب نہیں ہے اور جنگی سٹینڈ آف کی سطح بھی کم ہو گئی ہے۔

تاہم فضا میں جنگ کے بادل اب بھی منڈلا رہے ہیں۔ کرتارپور کوریڈور کے سلسلے میں اجلاس پہلی ایسی سرگرمی ہے،جو کشیدگی کم ہونے کے بعد منعقد ہو رہا ہے اِس اجلاس میں کوریڈور کھولنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ پاکستانی وفد کے بعد بھارتی وفد بھی پاکستانی علاقے میں واہگہ بارڈر پر اجلاس کے لئے آئے گا۔قبل ازیں یہ اجلاس نئی دہلی اور اسلام آباد میں ہونا تھے۔

محسوس یوں ہوتا ہے کہ کشیدگی اجلاس کے مقام پر بھی اثر انداز ہوئی ہے۔ نریندر مودی نے تو جنگی ماحول اپنے انتخابی فائدے کے لئے پیدا کیا تھا ان کا خیال تھا کہ وہ 2014 کی انتخابی مہم کی طرح اب کی بار بھی پاکستان کے خلاف فضا پیدا کرکے انتہا پسند ہندوں کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

لیکن لگتا یہ ہے کہ یہ منصوبہ اب الٹا پڑ گیا ہے اور بھارت کی اندرونی سیاست میں مودی کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں ،ان کے مخالفین طرح طرح کے سوالات اٹھا رہے ہیں اور اب تو یہ بھی پوچھا جانے لگا ہے کہ مسعود اظہر بھارتی جیل میں تھا تو اسے کس نے اور کیوں رہا کیا تھا، کانگرس کے لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ یہ بی جے پی کی حکومت ہی تھی،جس نے مسعود اظہر کو بھارتی جیل سے رہا کر کے قندھار پہنچایا،جہاں سے وہ پاکستان واپس پہنچ گئے۔

نہ صرف سیاسی مخالفین بھارتی فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کی مذمت کر رہے ہیں،بلکہ سابق نیول چیف ایڈمرل رام داس نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا ہے کہ الیکشن کمیشن اِس بات کو یقینی بنائے کہ افواج کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کیا جائے،ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے بالاکوٹ کے واقع کو اچھالا جا رہا ہے۔

عام جلسوں میں مودی پاکستان پر بدستور گرج برس رہے ہیں ان کی پوری کی پوری تقریر کا موضوع ہی پاکستان ہوتا ہے،ان کی تقریریں انتہا پسندی اور تشدد کو فروغ دے رہی ہیں اور پاکستان پر حملوں کے بارے میں سوال اٹھانے والوں کو غدار کیا جا رہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں مودی حکومت کی انتہا پسندی پر تنقید کرنے والوں کو سرکاری ملازمت سے نکالا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا حکومت اور فوج پر تنقید کرنے والوں سے بدلہ لینے کی باتیں بھی کر رہا ہے اور کرناٹک کے ایک انجینئر کو جس نے سوشل میڈیا پر یہ لکھ دیا تھا کہ بی جے پی کی حکومت لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کر رہی ہے، مرغا بنا کر معافی پر مجبور کیا گیا۔

ٹی وی کے ٹاک شوز میں سچی بات کرنے والوں کی گفتگو سنسر کر دی جاتی ہے اور اگر کوئی مہمان ایسی بات کر دیتا ہے،جو حکومت مخالف ہو تو اینکر ایسے مہمان کو پروگرام سے اٹھا دیتے ہیں، اب تو کرکٹ میں بھی انتہا پسندی آ گئی ہے اور ٹیم کو فوجی ٹوپیاں پہنا کر میدان میں اتار دیا گیا ، جو ویسے بھی کرکٹ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے،ابھی زیادہ دن نہیں گزرے، ایک پاکستانی کھلاڑی کو مخالف ٹیم کے کپتان کو مذاق میں کالا کہنے پر سزا دے دی گئی تھی۔

لیکن پوری بھارتی ٹیم فوجی ٹوپیاں پہن کر کھیلنے آگئی تو آئی سی سی سمیت کسی نے اس کا نوٹس نہیں لیا۔لگتا ہے آئی سی سی بھی بھارت کے زیر اثر ہے۔

مودی اور ان کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی شعلہ بار تقریروں کے باوجود بھارت میں اب یہ خیال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ تمام تر پاکستان دشمنی کے باوجود یہ یقینی نہیں ہے کہ اب یہ کارڈ مودی کی جماعت کو الیکشن میں کامیابی دلوا سکتا ہے۔بھارتی حکومت اب ایسی حرکتوں پر اتر آئی ہے،جس سے صریحاً جانبداری بھی جھلکتی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں کشمیری حریت پسندوں کی سرگرمیوں کی کوریج کرنے والے اخبارات کے سرکاری اشتہار بند کر دیئے گئے ہیں،جس کے جواب میں اخبارات نے بھرپور احتجاج کے طور پر اپنا پہلا صفحہ خالی شائع کرنے کا اعلان کیا ہے، اس صفحے پر اخبار کی پیشانی کے سوا کوئی دوسرا مواد شائع نہیں کیا جائے گا، اِن اخبارات میں کشمیر گریٹر، کشمیر آبزرور، کشمیر مانیٹر، تعمیلِ ارشاد، چٹان، عقاب، سری نگر ٹائمز اور بہت سے دوسرے اخبارات شامل ہیں، جن کی مجموعی تعداد40 ہے۔

دنیا بھر میں صحافت کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اخبارات کا پورے کا پورا پہلا صفحہ کسی مواد کے بغیر شائع ہوا،اِن اقدامات سے محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی کے خلاف احتجاج کس قدر پھیل چکا ہے اِس سے اس جماعت کے لیڈروں کے اعصاب بھی بری طرح شل ہو گئے ہیں،جس کا اظہار ان رہنماں کی وہ تقریریں ہیں جو وہ عام جلسوں میں کر رہے ہیں۔

اگرچہ مودی کے اقدامات پر اب کھل کر تنقید ہو رہی ہے، لیکن اِس امر کا امکان نہیں ہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران جوش کی بجائے ہوش سے کام لیں گے،اب وہ ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔

جہاں سے ان کی واپسی سیاسی طور پر بھی نقصان دہ ہوگی،اِس لئے اب ان کے منہ میں جو آتا ہے کہے جا رہے ہیں۔راج ناتھ نے تو ایک جلسے میں یہ تک کہہ دیا ہے کہ ہم نے بالا کوٹ سمیت پاکستان پر تین سرجیکل سٹرائیک کی ہیں، دو کے بارے میں تو سب جانتے ہیں، لیکن تیسری کا نام میں نہیں بتاں گا، حالانکہ اب تک انہوں نے ایک ہی بار پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی حماقت کی، جو انہیں مہنگی پڑ گئی، جس کے باعث دو طیارے تباہ ہو گئے اور ایک پائلٹ گرفتار ہو گیا۔

اگرچہ پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت پائلٹ کو رہا تو کر دیا،لیکن بھارت اس پر کسی قسم کی ممنونیت کا اظہار بھی نہیں کر رہا، ان تمام حالات سے لگتا ہے کہ اگرچہ اسلام آباد اور نئی دہلی میں دونوں ممالک کے ہائی کمشنر اپنے اپنے کام پر واپس آ گئے ہیں۔

لیکن جو جنگی جنون مودی نے پیدا کر دیا ہے وہ ابھی جاری رہے گا اور انتہا پسندی کا بخار بھی نہیں اترے گا اِس کے لئے انتخابی نتیجے کا انتظار کرنا ہو گا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں