منفی خیالات سے چھٹکارہ کیسے ممکن ہے؟

منفی خیالات

ہم جب بھی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو برے اور منفی خیالات ہمارے دماغ میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں اور ان کی وجہ سے ہم اور ہمارے ارادے کمزور پڑجاتے ہیں۔

بعض افراد کہتے ہیں کہ جب آپ کسی چیز کے بارے میں سوچتے رہیں تو وہ ہو کر رہتی ہے، جبکہ بعض افراد کا ماننا ہے کہ ہونے والی چیز ہو کر رہتی ہے لہٰذا اہم بات یہ ہے کہ آپ اس سے نمٹنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔

معروف امریکی مصنف مارک ٹوائن کہتے ہیں، ’میں ایک عمر رسیدہ شخص ہوں اور بہت سی بڑی اور بدترین مشکلات کے بارے میں جانتا ہوں، مگر ان میں سے زیادہ تر ایسی ہیں جو کبھی رونما ہی نہیں ہوئیں‘۔کیا آپ کا شکار بھی ایسے ہی افراد میں ہوتا ہے جو کچھ بھی کرنے سے پہلے ایک بڑے سے ’لیکن اگر‘ کی وجہ سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں؟ تو پھر آپ کو یہ طریقے آزمانے کی ضرورت ہے۔

غلط ہوگا، لیکن ابھی نہیں

آپ کو اپنے آپ کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اگر کچھ برا ہوگا تو وہ بعد میں ہوگا، ابھی نہیں ہوگا لہٰذا تمام منفی خیالات کو ایک طرف رکھیں اور کام کا آغاز کردیں۔

کچھ بھی ہوجائے میں سنبھال لوں گا

آل از ویل‘ کی تکنیک کی طرح جب آپ کسی بات کو دہراتے ہیں تو آپ کا دل و دماغ اس بات پر یقین کرنے لگتا ہے اور آپ کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد کیسی ہی صورتحال سامنے آئے آپ کا دماغ اس کا حل ڈھونڈ لیتا ہے۔

میں خود اپنی پریشانی کا سبب ہوں

جب بھی آپ ان خیالات سے پریشانی کا شکار ہوں، آپ کے دل کی دھڑکن بڑھ جائے اور آپ کی طبیعت خراب ہونے لگے تو آپ خود کو یاد دلائیں کہ یہ سب آپ کا اپنا پیدا کردہ ہے۔اپنے آپ کو یاد دلائیں کہ ’میں خود ہی اپنی پریشانی کا سبب ہوں لہٰذا مجھے خود کو پریشان کرنے کا سلسلہ بند کردینا چاہیئے‘۔

یاد رکھیں، منفی خیالات آپ کے ارادے توڑنے کا سبب بنتے ہیں اور اگر آپ کام شروع بھی کردیں تو آپ برے نتائج کے خوف سے بہترین کارکردگی نہیں دکھا پاتے لہٰذا منفی خیالات کو روکنا بہت ضروری ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں