خورشٹ

گورمکھ سنگھ کی وصیت

ہم دلی میں تھے۔ میرا بچہ بیمار تھا۔ میں نے پڑوس کے ڈاکٹر کاپڑیا کو بلایا وہ ایک کبڑا آدمی تھا۔ بہت پست قد، لیکن بے حد شریف۔ اس نے میرے بچے کا بڑے اچھے طریقے پر علاج کیا۔

اس کو فیس دی تو اس نے قبول نہ کی۔ یوں تو وہ پارسی تھا لیکن بڑی شستہ ور فتہ اردو بولتا تھا، اس لیے کہ وہ دلی ہی میں پیدا ہوا تھا اور تعلیم اس نے وہیں حاصل کی تھی۔ ہمارے سامنے کے فلیٹ میں مسٹر کھیش والا رہتا تھا۔ یہ بھی پارسی تھا۔ اسی کے ذریعے سے ہم نے ڈاکٹر کاپڑیا کو بلایا تھا۔ تین چار مرتبہ ہمارے یہاں آیا تو اس سے ہمارے تعلقات بڑھ گئے۔

ڈاکٹر کے ہاں میرا اور میری بیوی کا آنا جانا شروع ہو گیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر نے ہماری ملاقات اپنے لڑکے سے کرائی اس کا نام ساوک کاپڑیا تھا۔ وہ بہت ہی ملنسار آدمی تھا۔ رنگ بے حد زرد ایسا لگتا تھا کہ اس میں خون ہے ہی نہیں۔ سنگر مشین کمپنی میں ملازم تھا۔ غالباً پانچ چھ سو روپے ماہوار پاتا تھا۔ بہت صاف ستھرا رہتا تھا۔ اس کا گھر جو ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر تھا بہت نفاست سے سجا ہوا تھا۔ مجال ہے کہ گردوغبار کا ایک ذرہ بھی کہیں نظر آجائے۔ جب میں اور میری بیوی شام کو ان کے ہاں جاتے تو وہ اس کی بیوی خورشید جس کو پارسیوں کی زبان میں خورشٹ کہا جاتا تھا۔ بڑے تپاک سے پیش آتے اور ہماری خوب خاطر تواضع کرتے۔ خورشید یعنی خورشٹ لمبے قد کی عورت تھی۔ عام پارسیوں کی طرح اس کی ناک بدنما نہیں تھی، لیکن خوبصورت بھی نہیں۔ موٹی پکوڑا ایسی ناک تھی، لیکن رنگ سفید تھا اس لیے گوارا ہو گئی تھی۔ بال کٹے ہوئے تھے۔ چہرہ گول تھا۔ خوش پوش تھی اس لیے اچھی لگی تھی

۔ میری بیوی سے چند ملاقاتوں ہی میں دوستی ہو گئی۔ چنانچہ ہم ان کے ہاں اکثر جانے لگے۔ وہ دونوں میاں بیوی بھی ہر دوسرے تیسرے روز ہمارے ہاں آجاتے تھے اور دیر تک بیٹھے رہتے تھے۔ ہم جب بھی ساوک کے ہاں گئے، ایک سکھ کو ان کے ہاں دیکھا۔ یہ سکھ ایک تنومند آدمی تھا۔ بہت خوش خلق۔ ساوک نے مجھے بتایا کہ سردار زور آور سنگھ اس کا بچپن کا دوست ہے۔ دونوں اکٹھے پڑھتے تھے۔ ایک ساتھ انھوں نے بی اے پاس کیا۔ لیکن شکل و صورت کے اعتبار سے سردار زور آور سنگھ، ساوک کے مقابلے میں زیادہ معمر نظر آتا تھا۔

ساوک شاید خون کی کمی کے باعث بہت ہی چھوٹا معلوم ہوتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اس کی عمر اٹھارہ برس سے زیادہ نہیں، لیکن سردار زور آور سنگھ چالیس کے اوپر معلوم ہوتا تھا۔ سردار زور آور سنگھ کنوارا تھا۔ جنگ کا زمانہ تھا۔ اس نے گورنمنٹ سے کئی ٹھیکے لے رکھے تھے۔ اس کا باپ بہت پرانا گورنمنٹ کنٹریکٹر تھا۔ لیکن باپ بیٹے میں بنتی نہیں تھی۔ سردار زور آور سنگھ آزاد خیال تھا لیکن وہ اپنے باپ ہی کے ساتھ رہتا تھا پر وہ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے تھے۔ البتہ اس کی ماں اس سے بہت پیار کرتی تھی جیسے وہ چھوٹا سا بچہ ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ماں کا اکلوتا لڑکا تھا۔ تین لڑکیاں تھیں، وہ اپنے گھر میں آباد ہو چکی تھیں۔ اب اس کی خواہش تھی کہ وہ شادی کرلے اور اس کے کلیجے کوٹھنڈک پہنچائے، مگر اس وہ کے متعلق بات کرنے کیلیے تیار ہی نہیں تھا۔ میں نے ایک دفعہ اس سے دریافت کیا۔

’’سردار صاحب آپ شادی کیوں نہیں کرتے؟‘‘

اس نے مونچھوں کے اندر ہنس کر جواب دیا۔

’’اتنی جلدی کیا ہے؟‘‘

میں نے پوچھا۔

’’آپ کی عمر کیا ہے؟‘‘

اس نے کہا۔

’’آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘

’’میرے خیال کے مطابق آپ کی عمر غالباً چالیس برس ہو گی۔ ‘‘

سردار زور آور سنگھ مسکرایا۔

’’آپ کا اندازہ غلط ہے!‘‘

’’آپ فرمائیے، آپ کی عمر کیا ہے؟‘‘

سردار زور آور سنگھ پھر مسکرایا۔

’’میں آپ سے بہت چھوٹا ہوں۔ عمر کے لحاظ سے بھی۔ میں ابھی پرسوں انتیس اگست کو پچیس برس کا ہوا ہوں۔ ‘‘

میں نے اپنے غلط اندازے کی معافی چاہی۔

’’لیکن آپ کی شکل صورت سے جہاں تک میں سمجھتا ہوں، کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ کی عمر پچیس برس ہے۔ ‘‘

سردار زور آور سنگھ ہنسا۔

’’میں سکھ ہوں۔ اور بڑا غیر معمولی سکھ۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے غور سے مجھے دیکھا،

’’منٹو صاحب آپ حجامت کیوں نہیں کراتے۔ اتنے بڑے بالوں سے آپ کو وحشت نہیں ہوتی۔ ‘‘

میں نے گردن پر ہاتھ پھیرا۔ بال واقعی بہت بڑھے ہوئے تھے۔ غالباًتین مہینے ہو گئے تھے جب میں نے بال کٹوائے تھے۔ سردار زور آور سنگھ نے بات کی تو مجھے سر پر ایک بوجھ سا محسوس ہوا۔

’’یاد ہی نہیں رہا۔ اب آپ نے کہا ہے تو مجھے وحشت محسوس ہوئی ہے۔ خدا معلوم مجھے کیوں بال کٹوانے یاد نہیں رہتے۔ یہ سلسلہ ہے ہی کچھ واہیات۔ ایک گھنٹہ نائی کے سامنے سرنیوڑھائے بیٹھے رہو۔ وہ اپنی خرافات بکتا ر ہے اور آپ مجبوراً کان سمیٹے سنتے رہیں۔ فلاں ایکٹرس ایسی ہے، فلاں ایکٹرس ویسی ہے۔ امریکہ نے ایٹم بم ایجا کرلیا ہے۔ روس کے پاس اس کا بہت ہی تکڑا جواب موجود ہے۔ یہ ایٹلی کون ہے؟۔ اور وہ مسولینی کہاں گیا۔ اب میں اگر اس سے کہوں کہ جہنم میں گیا ہے تو وہ ضرور پوچھتا کہ صاحب کیسے گیا، کس راستے سے گیا۔ کون سے جہنم میں گیا۔ ‘‘

میری اتنی لمبی چوڑی بات سن کر سردار زور آور سنگھ نے اپنی سفید پگڑی اتاری۔ مجھے سخت حیرت ہوئی۔ اس لیے کہ اس کے کیس ندارد تھے۔ ان کے بجائے ہلکے خسخسی بال تھے۔ لیکن وہ پگڑی کچھ اس انداز سے باندھتا تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ اس کے کیس ہیں اور ثابت و سالم ہیں۔ بڑی صفائی سے پگڑی اتار کر اس نے میری تپائی پر رکھی اور مسکرا کرکہا۔

’’میں تو اس سے بڑے بال کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔ ‘‘

میں نے اس کے بالوں کے متعلق کوئی بات نہ کی؛، اس لیے کہ میں نے مناسب خیال نہ کیا۔ اس نے بھی ان کے متعلق کوئی بات نہ چھیڑی۔ پگڑی تپائی پر رکھ دینے کے بعد اس نے صرف اتنا کہا تھا۔

’’میں تو اس سے بڑے بال کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔ ‘‘

اس کے بعد اُس نے گفتگو کا موضوع بدل دیا۔ اور کہا۔

’’منٹو صاحب، خورشید کے لیے آپ کچھ کیجیے؟‘‘

میں کچھ نہ سمجھا۔

’’کون خورشید؟‘‘

سردار زور آور سنگھ نے پگڑی اٹھا کر اپنے سر پر رکھ لی۔

’’خورشید کاپڑیا کے لیے۔ ‘‘

’’میں ان کی کیا خدمت کرسکتا ہوں۔ ‘‘

’’اس کو گانے کا بہت شوق ہے۔ ‘‘

مجھے معلوم نہیں تھا۔ کہ خورشٹ گاتی ہے۔

’’کیسا گاتی ہیں؟‘‘

سردار زور آور سنگھ نے خورشٹ کی گائگی کے بارے میں اتنی تعریف کی کہ مجھے یہ سب مبالغہ معلوم ہوا۔

’’منٹو صاحب بہت اچھی آواز پائی ہے۔ خصوصاً ٹھمری ایسی اچھی گاتی ہے کہ آپ وجد میں آجائیں گے۔ آپ کو ایسا معلوم ہو گا کہ خاص صاحب عبدالکریم کو سن رہے ہیں۔ اور لطف یہ کہ خورشید نے کسی کی شاگردی نہیں کی۔ بس جو ملا ہے قدرت سے ملا ہے۔ آپ آج شام کو آئیے۔ مسز منٹو بھی ضرور تشریف لائیں۔ میں خورشید کو بلاؤں گا۔ آپ ذرا اسے سنئے گا۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’ضرور، ضرور۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ گاتی ہیں۔ ‘‘

سردار زور آور سنگھ نے سفارش کے طور پر کہا۔

’’آپ ریڈیو اسٹیشن میں ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ خورشید کو ہر مہینے کچھ پروگرام مل جایا کریں۔ روپئے کی اس کو کوئی خواہش نہیں ہے۔ ‘‘

’’لیکن اگر ان کو پروگرام ملے گا تو معاوضہ بھی ضرور ملے گا۔ گورنمنٹ ان کا معاوضہ کس کھاتے میں ڈالے گی؟‘‘

یہ سن کر سردار زور آور سنگھ مسکرایا۔

’’تو ٹھیک ہے۔ لیکن اسے پروگرام ضرور دلوائیے گا۔ مجھے یقین ہے کہ سننے والے اسے بہت پسند کریں گے۔ ‘‘

اس گفتگو کے بعد ہم تیسرے روز ساوک کے ہاں گئے۔ وہ موجود نہیں تھا لیکن ڈرائنگ روم میں سردار زور آور سنگھ بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔ پارسیوں میں سگرٹ پینا منع ہے، سکھ بھی سگرٹ نہیں پیتے، لیکن وہ بڑے اطمینان اور ٹھاٹ سے کش پہ کش لے رہا تھا۔ میں اور میری بیوی کمرے میں داخل ہوئے تو اس نے سگرٹ پینا بند کردیا۔ ایش ٹرے میں اس کی گردن مروڑ کر اس نے ہمیں خالص اسلامی انداز میں سلام کیا اور کہا۔

’’خورشید کی طبیعت آج کچھ ناساز ہے۔ ‘‘

خورشید کچھ دیر کے بعد آئی تو میں نے محسوس کیا کہ اس کی طبیعت قطعاً ناساز نہیں ہے۔ میں نے اس سے پوچھا۔ تو اس نے اپنے موٹے ہونٹوں پر مسکراہٹ پیدا کرکے کہا۔

’’ذرا زکام تھا۔ ‘‘

مگر اس کو زکام نہیں تھا۔ سردار زور آور سنگھ نے بڑے زور دار انداز میں خورشید سے اس کا حال پوچھا، زکام کے لیے کم از کم دس دوائیں تجویز کیں، پانچ ڈاکٹروں کے حوالے دیے، مگر وہ خاموش رہی، جیسے وہ اس قسم کی بکواس سننے کی عادی ہے۔ اتنے میں خورشید کا خاوند ساوک کاپڑیا آگیا۔ دفتر میں کام کی زیادتی کی وجہ سے اسے دیر ہو گئی تھی۔

loading...

مجھ سے اورمیری بیوی سے اس نے معذرت چاہی، سردار زور آور سنگھ سے کچھ دیر مذاق کیا اور ہم سے چند منٹ کی رخصت لے کر اندر چلا گیا، اس لیے کہ اسے اپنی بچی کو دیکھنا تھا۔ اس کی پلوٹھی کی بچی بہت پیاری تھی۔ میاں بیوی کی بس یہی ایک اولاد تھی۔ قریباً ڈیڑھ سال کی تھی۔ رنگ باپ کی طرح زرد۔ کچھ نقش ماں پر تھے۔ باقی معلوم نہیں کس کے تھے۔ بہت ہنس مکھ تھی۔ ساوک اس کو گود میں اٹھا کر لایا اور ہمارے پاس بیٹھ گیا۔ اس کو اپنی بچی سے بے حد پیار تھا۔

دفتر سے واپس آکر وہ سارا وقت اس کے ساتھ کھیلتا رہتا۔ میرا خیال ہے قریب قریب ہر ہفتے وہ اس کے لیے کھلونے لاتا تھا۔ شیشوں والی بڑی الماری تھی۔ جو ان کھلونوں سے بھری ہوئی تھی۔ سردار زور آور سنگھ کے متعلق بات چھڑی تو ساوک نے اس کی بہت تعریف کی۔ اس نے مجھ سے اور میری بیوی سے کہا۔

’’سردار زور آور میرا بہت پرانا دوست ہے۔ ہم دونوں لنگوٹیے ہیں۔ اس کے والد صاحب اور میرے والد صاحب اسی طرح لنگوٹیے تھے۔ دونوں اکٹھے پڑھا کرتے تھے۔ پہلی جماعت سے لیکر اب تک ہم دونوں ہر روز ایک دوسرے سے ملتے رہے ہیں۔ بعض اوقات تو مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ ہم اسکول ہی میں پڑھ رہے ہیں۔ ‘‘

سردارزور آور سنگھ مسکراتارہا۔ اس کے سر پر سکھوں کی بہت بڑی پگڑی تھی، مگر مجھے اس کے ہوتے ہوئے اس کے سر کی خسخسی بال نظر آرہے تھے۔ اور مجھے اپنے سر اپنے بالوں کا بوجھ محسوس ہورہا تھا۔ سردار زور آور سنگھ کے پیہم اصرار پر خورشید نے باجا منگا کر ہمیں گانا سنایا۔ وہ کن سُری تھی، لیکن خورشید، اس کے خاوند، اور سردار زور آور سنگھ کی خاطر مجھے اس کے گانے کی مجبوراً تعریف کرنا پڑی۔ میں نے صرف اتنا کہا۔

’’ماشاء اللہ آپ خوب گاتی ہیں۔ ‘‘

سردار زور آور سنگھ نے بڑے زور سے تالی بجائی اور کہا۔

’’خورشید، آج تو تم نے کمال کردیا ہے۔ ‘‘

پھر مجھ سے مخاطب ہوا۔

’’اس کو آفتابِ موسیقی کا خطاب مل چکا ہے منٹو صاحب۔ ‘‘

میں نے تو کچھ نہ کہا، لیکن میری بیوی نے پوچھا۔

’’کب؟‘‘

سردار زور آور سنگھ نے کہا۔

’’اخبار کا وہ کٹنگ لانا۔ ‘‘

خورشید اخبار کا کٹنگ لائی۔ کوئی خوشامدی قسم کا رپورٹر تھا جس نے چھ مہینے پہلے ایک پرائیویٹ محفل میں خورشید کا گانا سن کر اسے آفتابِ موسیقی کا خطاب عطا فرمایا تھا۔ میں یہ کٹنگ پڑھ کر مسکرایا اور شرارتاً خورشید سے کہا۔

’’آپ کا یہ خطاب غلط ہے!‘‘

سردار زور آور سنگھ نے مجھ سے پوچھا۔

’’کیوں؟‘‘

میں نے پھر شرارتاً کہا۔

’’عورت کے لیے آفتاب نہیں۔ آفتابہ ہونا چاہیے۔ خورشید صاحبہ، آفتابِ موسیقی نہیں۔ آفتابہ موسیقی ہیں۔ ‘‘

میرا مذاق سب کے سر پرسے گزر گیا۔ میں نے خدا کا شکر کیا، کیونکہ یہ مذاق کرنے کے بعد میں نے فوراً ہی سوچا تھا کہ اور کوئی نہیں تو سردار زور آور سنگھ ضرور اس کو سمجھ جائے گا، مگر وہ مسکرایا۔

’’یہ اخبار والے ہمیشہ غلط زبان لکھتے ہیں۔ آفتاب کی جگہ آفتابہ ہونا چاہیے تھا۔ آپ بالکل صحیح فرماتے ہیں۔ ‘‘

میں نے اور کچھ نہ کہا، اس لیے کہ مجھے احساس تھا کہ کہیں میرا مذاق فاش نہ ہو جائے۔ ساوک کچھ اور ہی خیالات میں غرق تھا۔ اس کو سردار زور آور سنگھ کی دوستی کے واقعات یاد آرہے تھے۔

’’مسٹر منٹو، ایسا دوست مجھے کبھی نہیں ملے گا۔ اس نے ہمیشہ میری مدد کی ہے۔ ہمیشہ میرے ساتھ انتہائی خلوص برتا ہے پچھلے دنوں میں ہسپتال میں بیمار تھا۔ اس نے نرسوں سے بڑھ کر میری خدمت کی۔ میرے گھر بار کا خیال رکھا۔ خورشید اکیلی گھبرا جاتی، مگر اس نے ہر طرح اس کی دلجوئی کی۔ میری بچی کو گھنٹوں کھلاتا رہا۔ اس کے علاوہ میرے پاس بیٹھ کر کئی اخبار پڑھ کر سناتا رہا۔ میں اس کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا۔ ‘‘

یہ سن کر سردار زور آور سنگھ مسکرایا اور خورشید سے مخاطب ہوا۔

’’خورشید آج تمہارا خاوند بہت سنٹی مینٹل ہورہا ہے۔ میں نے کیا کیا تھا جو یہ میری اتنی تعریف کررہا ہے۔ ‘‘

ساوک نے کہا۔

’’بکواس نہ کرو۔ تمہاری تعریف میں کر ہی نہیں سکتا۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ تمہاری دوستی پر مجھے ناز ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ بچپن سے لے کر اب تک تم ایک سے رہے۔ میرے ساتھ تمہارے سلوک میں کبھی فرق نہیں آیا۔ ‘‘

میں نے سردار زور آور سنگھ کی طرف دیکھا۔ وہ یہ تعریفی کلمات یوں سن رہا تھا۔ جیسے ریڈیو سے خبریں۔ جب ساوک بول چکا تو اس نے مجھ سے پوچھا۔

’’تو خورشید کو پروگرام مل جائیں گے نا؟‘‘

میں نے چونک کر جواب دیا۔

’’جی؟۔ میں کوشش کروں گا۔ ‘‘

سردار زور آور سنگھ نے ذرا حیرات سے کہا۔

’’کوشش؟۔ یعنی ان کے لیے پروگرام حاصل کرنے کے لیے آپ کوکوشش کرنی پڑے گی۔ آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ کل صبح ان کو اپنے ساتھ لے جائیے۔ میرا خیال ہے ان کا گانا سنتے ہی میوزک ڈائریکٹر اسی مہینے میں ان کو کم از کم دو پروگرام دے دے گا۔ ‘‘

میں نے اس کی دل شکنی مناسب نہ سمجھی اور کہا۔

’’یقیناً۔ ‘‘

لیکن خورشید نے سردار زور آور سے کہا۔

’’میں صبح نہیں جاسکتی۔ بے بی صبح کو میرے بغیر گھر میں نہیں رہ سکتی۔ دوپہر کو البتہ جاسکتی ہوں۔ ‘‘

سردار زور آور سنگھ مجھ سے مخاطب ہوا۔

’’منٹو صاحب، واقعی بچی اس کو صبح بہت تنگ کرتی ہے۔ میں خود سے روز خورشید کو دوپہر کے وقت ریڈیو اسٹیشن لے آؤں گا۔ ‘‘

خورشید کو دوپہر کے وقت ریڈیو اسٹیشن لانے کی نوبت نہ آئی۔ کیونکہ میں نے دوسرے روز ہی ایک دم ارادہ کیا کہ میں دلی چھوڑ کر بمبئی چلا جاؤں گا، چنانچہ میں اس سے اگلے دن استعفےٰ دے کربمبئی روانہ ہو گیا۔ میری بیوی مجھ سے کچھ دن بعد چلی آئی۔ ہم مسز خورشٹ کاپڑیا اور سردار زور آور سنگھ کو بھول گئے۔ میں ایک فلم کمپنی میں ملازم تھا۔ بیماری کے باعث اتفاق سے ایک روز میں وہاں نہ گیا۔

دوسرے روز وہاں پہنچا تو گیٹ کیپر نے مجھے ایک کاغذ دیا کہ کل ایک صاحب آپ سے ملنے یہاں آئے تھے۔ وہ یہ دے گئے ہیں۔ میں نے رقعہ پڑھا۔ سردار زور آور سنگھ کا تھا۔ مختصر سی تحریر تھی، میں اور میری بیوی آپ سے ملنے یہاں آئے، مگر آپ موجود نہیں تھے۔ ہم تاج ہوٹل میں ٹھہرے ہیں۔ اگر آپ تشریف لائیں تو ہمیں بڑی خوشی ہو گی۔ مسز منٹو کو ضرور ساتھ لائیے گا۔ ‘‘

کمرے کا نمبر وغیرہ درج تھا۔ میں اور میری بیوی اسی شام ٹیکسی میں تاج ہوٹل گئے۔ کمرہ تلاش کرنے میں کوئی دقت نہ ہوئی۔ سردار زور آور سنگھ وہاں موجود تھا۔ ہم جب اندر کمرے میں داخل ہوتے تو وہ اپنے چھوٹے چھوٹے خسخسی بالوں میں کنگھی کررہا تھا۔ بڑے تپاک سے ملا۔ میری بیوی اس کی بیوی دیکھنے کے لیے بے قرار تھی، چنانچہ اس نے پوچھا۔

’’سردار صاحب، آپ کی مسز کہاں ہیں۔ ‘‘

سردار زور آور سنگھ مسکرایا۔

’’ابھی آتی ہیں۔ باتھ روم میں ہیں۔ ‘‘

اس نے یہ کہا اور دوسرے کمرے سے خورشٹ نمودار ہوئی۔ میری بیوی اٹھ کر اس سے گلے ملی اور سب سے پہلا سوال اس سے یہ کیا۔

’’بچی کیسی ہے خورشید۔ ‘‘

خورشٹ نے جواب دیا۔

’’اچھی ہے۔ ‘‘

پھر میری بیوی نے اس سے پوچھا۔

’’ساوک کہاں ہیں؟‘‘

خورشٹ نے کوئی جواب نہ دیا۔ جب وہ اور میری بیوی پاس پاس بیٹھ گئیں تو میں نے سردار زور آور سنگھ سے پوچھا۔

’’سردار صاحب، آپ اپنی بیوی کو تو باہر نکالیے۔ ‘‘

سردار زور آور سنگھ مسکرایا۔ خورشٹ کی طرف دیکھ کر اس نے کہا۔

’’خورشید میری بیوی کو باہر نکالو۔ ‘‘

خورشٹ میری بیوی سے مخاطب ہو کر مسکرائیں۔

’’میں نے سردار زور آور سنگھ سے شادی کرلی ہے۔ ہم یہاں ہنی مون منانے آئے ہیں۔ ‘‘

میری بیوی نے یہ سنا تو اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ کیا کہے۔ اٹھی اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہا۔

’’چلیے سعادت صاحب‘‘

۔ اور ہم کمرے سے باہر تھے۔ خدا معلوم سردار زور آور سنگھ اور خورشٹ نے ہماری اس بدتمیزی کے متعلق کیا کہا ہو گا۔ 28جولائی1950ء

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں