سو کینڈل پاور کا بلب

فرشتہ

وہ چوک میں قیصر پارک کے باہر جہاں ٹانگے کھڑے رہتے ہیں۔ بجلی کے ایک کھمبے کے ساتھ خاموش کھڑا تھا اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا۔ کوئی ویرانی سی ویرانی ہے! یہی پارک جو صرف دو برس پہلے اتنی پُررونق جگہ تھی اب اجڑی پچڑی دکھائی تھی۔ جہاں پہلے عورت اور مرد شوخ و شنگ فیشن کے لباسوں میں چلتے پھرتے تھے۔ وہاں اب بے حد میلے کچیلے کپڑوں میں لوگ ادھر ادھر بیم قصد پھر رہے تھے۔ بازار میں کافی بھیڑ تھی مگر اس میں وہ رنگ نہیں تھا جو ایک میلے ٹھیلے کا ہوا کرتا تھا۔

آس پاس کی سیمنٹ سے بنی ہوئی بلڈنگیں اپنا روپ کھو چکی تھیں۔ سرجھاڑ منہ پھاڑ ایک دوسرے کی طرف پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھیں۔ جیسے بیوہ عورتیں۔ وہ حیران تھا کہ وہ غازہ کہاں گیا۔ وہ سپندور کہاں اڑگیا۔ وہ سر کہاں غائب ہو گئے جو اس نے کبھی یہاں دیکھے اور سنے تھے۔ زیادہ عرصہ کی بات نہیں، ابھی وہ کل ہو تو(دو برس بھی کوئی عرصہ ہوتا ہے) یہاں آیا تھا۔ کلکتے سے جب اسے یہاں کی ایک فرم نے اچھی تنخواہ پر بلایا تھا تو اس نے قیصر پارک میں کتنی کوشش کی کہ اسے کرائے پر ایک کمرہ ہی مل جائے مگر وہ ناکام رہا تھا۔ ہزار فرمائشوں کے باوجود۔ مگراب اس نے دیکھا کہ جس کنجڑے، جولا ہے اور موچی کی طبیعت چاہتی تھی۔ فلیٹوں اور کمروں پر اپنا قبضہ جما رہا تھا۔ جہاں کسی شان دار فلم کمپنی کا دفتر ہوا کرتا تھا۔ وہاں چولہے سلگ رہے ہیں۔ جہاں کبھی شہر کی بڑی بڑی رنگین ہستیاں جمع ہوتی تھیں۔

وہاں دھوبی میلے کپڑے دھو رہے ہیں۔ دو برس میں اتنا بڑا انقلاب! وہ حیران تھا۔ لیکن اس کو اس انقلاب کا پس منظر معلوم تھا۔ اخباروں کے ذریعہ سے اور ان دوستوں سے جو شہرمیں موجود تھے۔ اسے سب پتہ لگ چکا تھا کہ یہاں کیسا طوفان آیا تھا۔ مگر وہ سوچتا تھا کہ یہ کوئی عجیب و غریب طوفان تھا جو عمارتوں کا رنگ و روپ بھی چوس کر لے گیا۔ انسانوں نے انسان قتل کیے۔ عورتوں کی بے عزتی کی۔ لیکن عمارتوں کی خشک لکڑیوں اور ان کی اینٹوں سے بھی یہی سلوک کیا۔ اس نے سنا تھا کہ اس طوفان میں عورتوں کو ننگا کیا گیا تھا۔ ان کی چھاتیاں کاٹی گئی تھیں۔ یہاں اس کے آس پاس جو کچھ تھا۔ سب ننگا اور جوبن بریدہ تھا۔ وہ بجلی کے کھمبے کے ساتھ لگا اپنے ایک دوست کا انتظار کررہا تھا۔ جس کی مدد سے وہ اپنی رہائش کا کوئی بندوبست کرنا چاہتا تھا۔ اس دوست نے اس سے کہا کہ تم قیصر پارک کے پاس جہاں تانگے کھڑے رہا کرتے ہیں میرا انتظار کرنا۔ دو برس ہوئے جب وہ ملازمت کے سلسلے میں یہاں آیا تو یہ ٹانگوں کا اڈا بہت مشہور جگہ تھی، سب سے عمدہ، سب سے بانکے ٹانگے صرف یہیں کھڑے رہتے تھے۔ کیونکہ یہاں سے عیاشی کا ہر سامان مہیا ہو جاتا تھا۔

اچھے سے اچھا ریسٹورنٹ اور ہوٹل قریب تھا۔ بہترین چائے، بہترین کھانا اور دوسرے لوازمات بھی۔ شہر کے جتنے بڑے دلال تھے وہ یہیں دستیاب ہوتے تھے۔ اس لیے کہ قیصر پارک میں بڑی بڑی کمپنیوں کے باعث روپیہ اور شراب پانی کی طرح بہتے تھے۔ اس کو یاد آیا کہ دو برس پہلے اس نے اپنے دوست کے ساتھ بڑے عیش کیے تھے۔ اچھی سے اچھی لڑکی ہر رات کو ان کی آغوش میں ہوتی تھی۔ اسکاچ جنگ کے باعث نایاب تھی مگر ایک منٹ میں درجنوں بوتلیں مہیا ہو جاتی تھیں۔ ٹانگے اب بھی کھڑے تھے مگر ان پروہ کلغیاں، وہ پھندنے، وہ پیتل کے پالش کیے ہوئے سازو سامان کی چمک دمک نہیں تھی۔ یہ بھی شاید دوسری چیزوں کے ساتھ اڑ گئی تھی۔ اس نے گھڑی میں وقت دیکھا۔ پانچ بج چکے تھے۔

فروری کے دن تھے۔ شام کے سائے چھانے شروع ہو گئے تھے۔ اس نے دل ہی دل میں اپنے دوست کو لعنت ملامت کی اور دائیں ہاتھ کے ویران ہوٹل میں موری کے پانی سے بنائی ہوئی چائے پینے کے لیے جانے ہی والا تھا کہ کسی نے اس کو ہولے سے پکارا۔ اس نے خیال کیا کہ شاید اس کا دوست آگیا۔ مگر جب اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک اجنبی تھا۔ عام شکل و صورت کا، لٹھے کی نئی شلوار میں جس میں اب اور زیادہ شکنوں کی گنجائش نہیں تھی۔ نیلی پاپلین کی قمیض جو لانڈری میں جانے کے لیے بیتاب تھی۔ اس نے پوچھا

’’کیوں بھئی۔ تم نے مجھے بلایا؟‘‘

اس نے ہولے سے جواب دیا۔

’’جی ہاں۔ ‘‘

اس نے خیال کہ مہاجر ہے بھیک مانگنا چاہتا ہے۔

’’کیا مانگتے ہو؟‘‘

اس نے اسی لہجے میں جواب دیا۔

’’جی کچھ نہیں۔ ‘‘

پھر قریب آکر کہا۔

’’کچھ چاہیے آپ کو؟‘‘

’’کیا؟‘‘

’’کوئی لڑکی وڑکی۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ پیچھے ہٹ گیا۔ اس کے سینے میں ایک تیر سا لگا کہ دیکھو اس زمانے میں بھی یہ لوگوں کے جنسی جذبات ٹٹولتا پھرتا ہے۔ اور پھر انسانیت کے متعلق اوپر تلے اس کے دماغ میں بڑے حوصلہ شکن خیالات آئے۔ انہی خیالات کے زیر اثر اس نے پوچھا۔

’’کہاں ہے؟‘‘

اس کا لہجہ دلال کے لیے امید افزا نہیں تھا۔ چنانچہ قدم اٹھاتے ہوئے اس نے کہا۔

’’جی نہیں آپ کو ضرورت نہیں معلوم ہوتی۔ ‘‘

اس نے اس کو روکا۔

’’یہ تم نے کس طرح جانا۔ انسان کو ہر وقت اس چیز کی ضرورت ہوتی ہے جو تم مہیا کرسکتے ہو۔ وہ سولی پر بھی۔ جلتی چتا میں بھی۔ ‘‘

وہ فلسفی بننے ہی والا تھا کہ رک گیا۔

’’دیکھو۔ اگر کہیں پاس ہی ہے تو میں چلنے کے لیے تیار ہوں۔ میں نے یہاں ایک دوست کو وقت دے رکھا ہے۔ ‘‘

دلال قریب آگیا۔

’’پاس ہی۔ بالکل پاس۔ ‘‘

’’کہاں؟‘‘

’’یہ سامنے والی بلڈنگ میں۔ ‘‘

اس نے سامنے والی بلڈنگ کو دیکھا۔

’’اس میں۔ اس بڑی بلڈنگ میں؟‘‘

’’جی ہاں۔ ‘‘

وہ لرز گیا۔

’’اچھا۔ تو۔ ؟‘‘

سنبھل کر اس نے پوچھا۔

’’میں بھی چلوں؟‘‘

’’چلیے۔ لیکن میں آگے آگے چلتا ہوں۔ ‘‘

اور دلال نے سامنے والی بلڈنگ کی طرف چلنا شروع کردیا۔ وہ سینکڑوں روح شگاف باتیں سوچتا اس کے پیچھے ہولیا۔ چند گزوں کا فاصلہ تھا۔ فوراً طے ہو گیا۔ دلال اور وہ دونوں اس بڑی بلڈنگ میں تھے۔ جس کی پیشانی پر ایک بورڈ لٹک رہا تھا۔ اس کی حالت سب سے خستہ تھی، جگہ جگہ اکھڑی ہوئی اینٹوں، کٹے ہوئے پانی کے نلوں اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیرتھے۔ اب شام گہری ہو گئی تھی۔ ڈیوڑھی میں سے گزر کر آگے بڑھے تو اندھیرا شروع ہو گیا۔ چوڑا چکلا صحن طے کرکے وہ ایک صرف مڑا۔ عمارت بنتے بنتے رک گئی تھی۔ ننگی اینٹیں تھیں۔ چونہ اور سیمنٹ ملے ہوئے سخت ڈھیر پڑے تھے اور جا بجا بجری بکھری ہوئی تھی۔ دلال نامکمل سیڑھیاں چڑھنے لگا کہ مڑ کر اس نے کہا۔

’’آپ یہیں ٹھہریئے۔ میں اب آیا۔ ‘‘

وہ رک گیا۔ دلال غائب ہو گیا۔ اس نے منہ اوپر کرکے سیڑھیوں کے اختتام کی طرف دیکھا تو اسے تیز روشنی نظر آئی۔ دو منٹ گزر گئے تو دبے پاؤں وہ بھی اوپر چڑھنے لگا۔ آخری زینے پر اسے دلال کی بہت زور کی کڑک سنائی دی۔

’’اٹھتی ہے کہ نہیں؟‘‘

کوئی عورت بولی۔

’’کہہ جودیا مجھے سونے دو۔ ‘‘

اس کی آواز گھٹی گھٹی سی تھی۔ دلال پھر کڑکا۔

’’میں کہتا ہوں اٹھ۔ میرا کہا نہیں مانے گی تو یاد رکھ۔ ‘‘

عورت کی آوازئی۔

’’تو مجھے مار ڈال۔ لیکن میں نہیں اٹھوں گی۔ خدا کے لیے میرے حال پر رحم کر۔ ‘‘

دلال نے پچکارا۔

’’اٹھ میری جان۔ ضد نہ کر۔ گزارہ کیسے چلے گا۔ ‘‘

عورت بولی۔

’’گزارہ جائے جہنم میں۔ میں بھوکی مر جاؤں گی۔ خدا کے لیے مجھے تنگ نہ کر۔ مجھے نیند آرہی ہے۔ ‘‘

دلال کی آواز کڑی ہو گئی۔

’’تو نہیں اٹھے گی۔ حرامزادی، سور کی بچی۔ ‘‘

عورت چلانے لگی۔

’’میں نہیں اٹھوں گی۔ نہیں اٹھوں گی۔ نہیں اٹھوں گی۔ ‘‘

دلال کی آواز بھنچ گئی۔

’’آہستہ بول۔ کوئی سن لے گا۔ لے چل اٹھ۔ تیس چالیس روپے مل جائیں گے۔ ‘‘

عورت کی آواز میں التجا تھی دیکھ میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔ میں کتنے دنوں سے جاگ رہی ہوں۔ رحم کر۔ خدا کے لیے مجھ پر رحم کر۔ ‘‘

’’بس ایک دو گھنٹے کے لیے۔ پھر سو جانا۔ نہیں تو دیکھ مجھے سختی کرنی پڑے گی‘‘

تھوڑی دیر کے لیے خاموشی طاری ہو گئی۔ اس نے دبے پاؤں آگے بڑھ کر اس کمرے میں جھانکا جس میں بڑی تیز روشنی آرہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ ایک چھوٹی سی کوٹھڑی ہے جس کے فرش پر ایک عورت لیٹی ہے۔ کمرے میں دو تین برتن ہیں، بس اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ دلال اس عورت کے پاس بیٹھا اس کے پاؤں داب رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے اس عورت سے کہا۔

’’لے اب اٹھ۔ قسم خدا کی ایک دو گھنٹے میں آجائے گی۔ پھر سو جانا۔ ‘‘

وہ عورت ایک دم یوں اٹھی جیسے آگ دکھائی ہوئی چھچھوندر اٹھتی ہے اور چلائی۔

’’اچھا اٹھتی ہوں۔ ‘‘

وہ ایک طرف ہٹ گیا۔ اصل میں وہ ڈر گیا تھا۔ دبے پاؤں وہ تیزی سے نیچے اتر گیا۔ اس نے سوچا کہ بھاگ جائے۔ اس شہر ہی سے بھاگ جائے۔ اس دنیا سے بھاگ جائے۔ مگر کہاں؟‘‘

پھر اس نے سوچا کہ یہ عورت کون ہے؟ کیوں اس پر اتنا ظلم ہورہا ہے؟۔ اور یہ دلال کون ہے؟۔ اس کا کیا لگتا ہے اور یہ اس کمرے میں اتنا بلب جلا کر جو سوکینڈل پاور سے کسی طرح بھی کم نہیں تھا۔ کیوں رہتے ہیں۔ کب سے رہتے ہیں؟ اس کی آنکھوں میں اس تیز بلب کی روشنی ابھی تک گھسی ہوئی تھی۔ اس کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ مگر وہ سوچ رہا تھا کہ اتنی تیز روشنی میں کون سو سکتا ہے؟۔ اتنا بڑا بلب؟۔ کیا وہ چھوٹا نہیں لگا سکتے۔ یہی پندرہ پچیس کینڈل پاور کا؟ وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ آہٹ ہوئی۔ اس نے دیکھا کہ دو سائے اس کے پاس کھڑے ہیں۔ ایک نے جو دلال کا تھا۔ اس سے کہا۔

’’دیکھ لیجیے۔ ‘‘

اس نے کہا۔

’’دیکھ لیا ہے۔ ‘‘

’’ٹھیک ہے نا؟‘‘

ٹھیک ہے۔ ‘‘

’’چالیس روپے ہوں گے۔ ‘‘

’’ٹھیک ہے۔ ‘‘

’’دے دیجیے۔ ‘‘

وہ اب سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ جیب میں اس نے ہاتھ ڈالا اور کحھ نوٹ نکال کر دلال کے حوالے کردیے۔

’’دیکھ لو کتنے ہیں!‘‘

نوٹوں کی کھڑکھڑاہٹ سنائی دی۔ دلال نے کہا۔

’’پچاس ہیں۔ ‘‘

اس نے کہا۔

’’پچاس ہی رکھو۔ ‘‘

’’صاحب سلام۔ ‘‘

اس کے جی میں آئی کہ ایک بہت بڑا پتھر اٹھا کر اس کو دے مارے۔ دلال بولا۔

’’تو لے جائیے اسے۔ لیکن دیکھیے تنگ نہ کیجیے گا اور پھر ایک دو گھنٹے کے بعد چھوڑ جائیے گا۔ ‘‘

’’بہتر۔ ‘‘

اس نے بڑی بڈنگ کے باہر نکلنا شروع کیا جس کی پیشانی پر وہ کئی بار ایک بہت بڑا بورڈ پڑھ چکا تھا۔ باہر ٹانگہ کھڑا تھا۔ وہ آگے بیٹھ گیا اور عورت پیچھے۔ دلال نے ایک بار پھر سلام کیا اور ایک بار پھر اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ ایک بہت بڑا پتھر اٹھا کر اس کے سر پر دے مارے۔ ٹانگہ چل پڑا۔ وہ اسے پاس ہی ایک ویران سے ہوٹل میں لے گیا۔ دماغ کو حتی المقدور اس تکدر سے جو اسے پہنچ چکا تھا نکال کر اس نے اس عورت کی طرف دیکھا جو سرسے پیر تک اجاڑ تھی۔ اس کے پپوٹے سوجے ہوئے تھے۔ آنکھیں جھکی ہوئی تھیں۔ اس کا اوپر کا دھڑ بھی سارے کا سارا خمیدہ تھا جیسے وہ ایک ایسی عمارت ہے جو پل بھر میں گر جائے گی۔ وہ اس سے مخاطب ہوا۔

’’ذرا گردن تو اونچی کیجیے۔ ‘‘

وہ زور سے چونکی۔

’’کیا؟‘‘

’’کچھ نہیں۔ میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ کوئی بات تو کیجیے۔ ‘‘

اس کی آنکھیں سرخ بوٹی ہورہی تھیں جیسے ان میں مرچیں ڈالی گئی ہوں۔ وہ خاموش رہی۔

’’آپ کا نام؟‘‘

’’کچھ بھی نہیں؟‘‘

اس کے لہجے میں تیزاب کی سی تیزی تھی۔

’’آپ کہاں کی رہنے والی ہیں؟‘‘

’’جہاں کی بھی تم سمجھ لو۔ ‘‘

’’آپ اتنا روکھا کیوں بولتی ہیں۔ ‘‘

عورت اب قریب قریب جاگ پڑی اور اس کی طرف لال بوٹی آنکھوں سے دیکھ کر کہنے لگی۔

’’تم اپنا کام کرو۔ مجھے جانا ہے۔ ‘‘

اس نے پوچھا۔

’’کہاں؟‘‘

عورت نے بڑی روکھی بے اعتنائی سے جواب دیا۔

’’جہاں سے مجھے تم لائے ہو۔ ‘‘

’’آپ چلی جائیے۔ ‘‘

’’تم اپنا کام کرونا۔ مجھے تنگ کیوں کرتے ہو؟‘‘

اس نے اپنے لہجے میں دل کا سارا درد بھر کے اس سے کہا۔

’’میں تمہیں تنگ نہیں کرتا۔ مجھے تم سے ہمدردی ہے۔ ‘‘

وہ جھلاّ گئی۔

’’مجھے نہیں چاہیے کوئی ہمدرد۔ ‘‘

پھر قریب قریب چیخ پڑی۔

’’تم اپنا کام کرو اور مجھے جانے دو۔ ‘‘

اس نے قریب آکر اس کے سر پر ہاتھ پھیرنا چاہا تو اس عورت نے زور سے ایک طرف جھٹک دیا۔

’’میں کہتی ہوں۔ مجھے تنگ نہ کرو۔ میں کئی دنوں سے جاگ رہی ہوں۔ جب سے آئی ہوں۔ جاگ رہی ہوں۔ ‘‘

وہ سر تا پا ہمدردی بن گیا۔

’’سو جاؤ یہیں۔ ‘‘

عورت کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ تیز لہجے میں بولی۔

’’میں یہاں سونے نہیں آئی۔ یہ میرا گھر نہیں۔ ‘‘

’’تمہارا گھر وہ ہے جہاں سے تم آئی ہو؟‘‘

عورت اور زیادہ خشمناک ہو گئی۔

’’اف۔ بکواس بند کرو۔ میرا کوئی گھر نہیں۔ تم اپنا کام کرو ورنہ مجھے چھوڑ آؤ اور اپنے روپے لے لو اس۔ اس۔ ‘‘

وہ گالی دیتی دیتی رہ گئی۔ اس نے سوچا کہ اس عورت سے ایسی حالت میں کچھ پوچھنا اور ہمدردی جتانا فضول ہے۔ چنانچہ اس نے کہا۔

’’چلو، میں تمہیں چھوڑ آؤں۔ ‘‘

اور وہ اسے اس بڑی بلڈنگ میں چھوڑ آیا۔ دوسرے دن اس نے قیصر پارک کے ایک ویران ہوٹل میں اس عورت کی ساری داستان اپنے دوست کو سنائی۔ دوست پر رقت طاری ہو گئی۔ اس نے بہت افسوس کا اظہار کیا اور پوچھا:

’’کیا جوان تھی؟‘‘

اس نے کہا۔

’’مجھے معلوم نہیں۔ میں اسے اچھی طرح بالکل نہ دیکھ سکا۔ میرے دماغ میں تو وقت یہ خیال آتا تھا کہ میں نے وہیں سے پتھر اٹھا کر دلال کا سر کیوں نہ کچل دیا۔ ‘‘

دوست نے کہا۔

’’واقعی بڑے ثواب کا کام ہوتا۔ ‘‘

وہ زیادہ دیر تک ہوٹل میں اپنے دوست کے ساتھ نہ بیٹھ سکا۔ اس کے دل و دماغ پر پچھلے روز کے واقعہ کا بہت بوجھ تھا۔ چنانچہ چائے ختم ہوئی تو دونوں رخصت ہو گئے۔ اس کا دوست چپکے سے ٹانگوں کے اڈے پر آیا۔ تھوڑی دیر تک اس کی نگاہیں اس دلال کو ڈھونڈتی رہی مگر وہ نظر نہ آیا۔ چھ بج چکے تھے۔ بڑی بلڈنگ سامنے تھی چند گزوں کے فاصلے پر۔ وہ اس طرف چل دیا اور اس میں داخل ہو گیا۔ لوگ اندر آجارہے تھے۔ مگر وہ بڑے اطمینان سے اس مقام پر پہنچ گیا۔ کافی اندھیرا تھا مگر جب وہ ان سیڑھیوں کے پاس پہنچا تو اسے روشنی دکھائی دی اوپر دیکھا اور دبے پاؤں اوپر چڑھنے لگا۔ کچھ دیر وہ آخری زینے پر خاموش کھڑا رہا۔ کمرے سے تیز روشنی آرہی تھی۔ مگر کوئی آواز، کوئی آہٹ اسے سنائی نہ دی۔ آخری زینہ طے کرکے وہ آگے بڑھا۔ دروازے کے پٹ کھلے تھے۔ اس نے ذرا ادھر ہٹ کر اندر جھانکا۔ سب سے پہلے اسے بلب نظر آیا۔ جس کی روشنی اس کی آنکھوں میں گھس گئی۔ ایک دم وہ پرے ہٹ گیا تاکہ تھوڑی دیر اندھیرے کی طرف منہ کرکے اپنی آنکھوں سے چکا چوند نکال سکے۔ اس کے بعد وہ پھر دروازے کی طرف بڑھا مگر اس انداز سے کہ اس کی آنکھیں بلب کی تیز روشنی کی زد میں نہ آئیں۔ اس نے اندر جھانکا۔ فرش کا جو حصہ اسے نظر آیا۔ اس پر ایک عورٹ چٹائی پر لیٹی تھی۔ اس نے اسے غور سے دیکھا۔ سو رہی تھی۔ منہ پر دوپٹہ تھا۔ اس کا سینہ سانس کے اتار چڑھاؤ سے ہل رہا تھا۔ وہ ذرااور آگے بڑھا۔ اس کی چیخ نکل گئی مگر اس نے فوراً ہی دبالی۔ اس عورت سے کچھ دور ننگے فرش پر ایک آدمی پڑا تھا۔ جس کا سر پاش پاش تھا۔ پاس ہی خون آلود اینٹ پڑی تھی۔ یہ سب اس نے ایک نظر دیکھا۔ اور سیڑھیوں کی طرف لپکا۔ پاؤں پھسلا اور نیچے۔ مگر اس نے چوٹوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور ہوش و حواس قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے بمشکل اپنے گھر پہنچا اور ساری رات ڈراؤنے خواب دیکھتا رہا۔

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں