حاملہ خواتین ہرگز یہ کام نہ کریں !

حاملہ خواتین

ادویات کے استعمال کے متعلق ہم پاکستانی حد درجہ لاپرواہ واقع ہوئے ہیں، اس کے لیے ہم کسی ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے بلکہ خود کو ڈاکٹر وںسے زیادہ عقلمند گردانتے ہوئے بلا جھجھک میڈیکل سٹور سے ادویات خریدتے اور استعمال کرلیتے ہیں۔

پیراسیٹا مول اور ڈسپرین جیسی چند ادویات تو ہر گھر میں موجود ہوتی ہیں اور بے دھڑک استعمال کی جاتی ہیں۔ لیکن ایک جدید تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ حاملہ عورتوں کے پیراسیٹا مول کھانے سے ان کے پیٹ میں موجود بچے پر بہت برے اثرات پڑتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دواپیٹ میں موجود ”بچیوں“ پر نہیں، صرف ”بچوں“ پر اثر انداز ہوتی ہے۔یہ بچوں کو زندگی میں نامرد بنا سکتی ہے اور اس سے بچے کے کینسر میں مبتلا ہونے کے مواقع بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ایڈمبرگ یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں پیراسیٹامول بہت زیادہ استعمال کی جاتی ہے لیکن حاملہ خواتین کویہ دوا کھانے سے پہلے دو بار سوچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیراسیٹا مول کا استعمال ناگزیر ہو تو انتہائی کم مقدار میں لینی چاہیے۔رائل کالج آف مڈ وائفس کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین کو پیراسیٹامول کھانے سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

اگرچہ پیراسیٹا مول دنیا بھر میں تکلیف سے فوری نجات کے لیے سب سے زیادہ کھائی جانے والی دوا ہے اور حاملہ خواتین بھی اسے استعمال کرتی ہیں کیونکہ وہ اسے اپنے حمل کے لیے خطرہ نہیں سمجھتیں لیکن اب تک متعدد تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پیراسیٹا مول حاملہ خاتون کے پیٹ میں موجود بچے کے مردانہ اعضاءکی نشوونما میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔

ڈاکٹر روڈ مشعل کا کہنا ہے کہ میں نہیں چاہتی کہ حاملہ عورتیں غیرضروری درد میں مبتلا رہیں لیکن مجھے کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ پیراسیٹا مول استعمال کرتے وقت ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچتیں۔

حاملہ خواتین تمباکو نوشی کیوں کرتی ہیں؟

پروفیسر شارپ کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد حاملہ عورتوں کو خوف میں مبتلا کرنا نہیں ہے ، ہم صرف انہیں اس دوا کے متعلق آگاہی دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ ایک صحت مند بچے کو جنم دے سکیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں