میٹھے مشروبات اور خالص جوس بھی کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں!

میٹھے مشروبات

پیرس: ایک نئے مطالعے سے جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ 100 فیصد پھلوں کے جوس پینے والوں کے لیے بھی پریشان کن ہیں۔

سروے میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ میٹھے مشروبات (سافٹ ڈرنک اور شربت) اور جوس (چینی ملائے بغیر) پیتے ہیں تو ان کا باقاعدہ استعمال کئ اقسام کے کینسر کی وجہ بن سکتا ہے۔ ان میں سرِ فہرست نارنجی کا رس ہے لیکن دوسرے پھلوں کے جوس بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل میٹھے شربت اور سافٹ ڈرنکس کے درمیان تعلق دریافت ہوا ہے جن میں موٹاپا، امراضِ قلب اور ٹائپ ٹو ذیابیطس سرِ فہرست ہے۔ بعض چوہوں پر تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سافٹ ڈرنک میں موجود شکر کئی اقسام کے کینسر کو بھی بڑھاوا دیتی ہے یا پھر اس کی رسولیوں کو بڑھاتی ہیں۔

یونیورسٹی آف سوبورن، پیرس کے سائنسداں ڈاکٹر ایلوئے چیزیلاس اور ان کے ساتھیوں نے یہ تحقیق کی ہے ۔ انہوں نے اوسط 42 برس کے 101257 خواتین و مرد کا جائزہ یا اور ان کا ڈیٹا حاصل کیا ہے۔ ان سے سافٹ ڈرنک، فروٹ ڈرنکس، 100 فیصد فروٹ جوس، میٹھے دودھ اور انرجی ڈرنکس پینے کی عادات کا پوچھا گیا۔

آن لائن سوالات کا یہ سلسلہ 24 گھنٹے جاری رہا اور مسلسل 9 برس تک ان سے سوالات کئے گئے۔ اس دوران شرکا سے آنتوں، چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر کے خطرات یا اس کے متعلق پوچھا گیا۔

اس دوران 693 خواتین کو چھاتی کا سرطان، 291 کو پروسٹیٹ اور 166 شرکا کو آنتوں کا سرطان لاحق ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر روزانہ 100 ملی لیٹر میٹھا مشروب پیا جائے تو تمام تر سرطان کا خطرہ 18 فیصد اور بالخصوص چھاتی کے سرطان کا خطرہ 22 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

اس کے بعد خالص پھلوں کے رس پر علیحدہ سے تحقیق کی گئی۔ اس سے بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھنے کے اشارے ملے ہیں جبکہ خالص رس سے پروسٹیٹ اور آنتوں کے کینسر کا کوئی خطرہ سامنے نہیں آیا۔ اس کے برخلاف چینی سے پاک ڈائٹ ڈرنکس سے کینسر کا کوئی خطرہ سامنے نہیں آیا۔

لیکن ماہرین نے اس تحقیق کے نتائج اخذ کرتے ہوئے حد درجہ احتیاط کا دعویٰ کرتے ہوئے اس تحقیق کی کمزوریوں اور حدود پر بھی بحث کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے کی تحقیق حاصل شدہ حتمی نتائج کی تائید کرتی ہے۔ لیکن اس میں شامل لوگ فرانس کی پوری آبادی کو ظاہر نہیں کرتے۔ ان کا خیال ہے کہ چینی سے بھرپور مشروبات کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں اور عوام ان کے استعمال کو محدود ہی رکھیں تو بہتر ہوگا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں