آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 149 (4) کیا ہے ؟

آئینِ

وفاقی وزیر برائے قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کراچی کے مسائل کے حل کے لیے آرٹیکل 149 اے (4) کے نفاذ کی تجویز دے کر ملک بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ، آئیے دیکھتے ہیں کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 149 کیا ہے۔

گزشتہ روزوفاقی وزیر برائے امورِ قانون نے تجویز دی تھی کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت آرٹیکل 149 کے تحت سندھ کی صوبائی حکومت کو مسائل کے حل کے لیے ہدایات جاری کرے ۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے مطابق وفاقی حکومت کراچی شہر کی انتظامیہ کو اپنے کنٹرول میں لینے والی ہے، آرٹیکل کے نفاذ کا اعلان وزیر اعظم عمران خان 14ستمبر کو دورہ کراچی کے موقع پر کر سکتے ہیں۔

آرٹیکل 149(4) گورنر راج کی بات نہیں کرتا، یہ وفاقی حکومت کو خصوصی اختیار دیتا ہے کہ وہ کچھ مخصوص حالتوں میں صوبائی حکومت کے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے احکامات جاری کرسکتی ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 149 (4) کیا کہتا ہے۔

آئین کی شق 149 کے تحت وفاقی حکومت چند معاملات پر صوبائی حکومت کو ہدایات دے سکتی ہے، ان میں قومی یا فوجی اہمیت کے حامل ذرائع مواصلات کی تعمیر و مرمت یا پاکستان یا اس کے کسی حصے کے امن و سکون یا اقتصادی زندگی کے لیے سنگین خطرے کے انسداد کے لیے اپنا انتظامی اختیار استعمال کرنے کی ہدایت شامل ہے۔

پاکستان لیگل ڈائجسٹ 1998 کے مطابق سپریم کورٹ کے کیس نمبر 388 میں جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت میں آرٹیکل 149 کی تشریح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئین کی یہ شق مخصوص حالات میں صوبے اور وفاق کے درمیان رشتے کا تعین کرتی ہے جب کسی معاملے پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے وفاق صوبے کو ہدایات جاری کرے۔

اس آرٹیکل کا مقصد کسی بھی صورتحال میں اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر پر عمل در آمد یقینی بنانا ہے تاکہ اس صورتحال کو کنٹرول کیا جاسکے جس کے پیدا ہونے کے سبب وفاقی حکومت کو انتظامی اختیار استعمال کرنا پڑے اور وہ صوبہ جہاں وفاق کا قانون نافذ ہے وہاں اس نے خصوصی ہدایات جاری کی۔

loading...

فروغ نسیم کیا کہتے ہیں؟

بیرسٹرفروغ نسیم کا ماننا ہے کہ وفاقی حکومت سندھ میں کوئی مداخلت نہیں کر رہی ، ان کا کہنا ہے کہ ہم آئین میں رہتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ آرٹیکل 149(4 ) کے تحت گورنر راج لاگو نہیں ہوتا بلکہ وفاقتی حکومت ہدایات جاری کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ وفاقی حکومت سندھ میں گورنر راج نہیں لگا رہی۔

لائن آف کنٹرول کے آس پاس لوگ کیسے رہتے ہیں؟

اس حوالے سے سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کے ردعمل کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سعید غنی اپنے بھائی ہیں ان کو مجھ سے زیادہ سیاست اور وکالت آتی ہے، وہ کہہ رہے ہیں ڈائریکشن دی جا سکتی ہے مداخلت نہیں، لیکن ڈائریکشن تب دی جاتی ہے جب مداخلت کرنا جائز ہو۔

سعید غنی کا ردعمل

سعید غنی نے آرٹیکل149(4) کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئین کی اس شق کے تحت وفاق صوبے کو صرف ہدایات دے سکتا ہے۔ ہمارا وفاق سے مطالبہ ہے کہ جو کراچی پیکج کا وعدہ کیا تھا وہ ہی دے دیں، کراچی کو صرف سیاست کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے پہلے کراچی ٹرانسفارم کمیٹی بنائی گئی اور200ارب روپے کے منصوبے وزیر اعظم کے علم میں لائے گئے،بلدیاتی نظام میں ترمیم وفاقی حکومت کا کام نہیں ہے اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم سخت مزاحمت کریں گے۔

پلڈاٹ کے سربراہ کی رائے

اس حوالے سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پِلڈاٹ) کے صدر احمد بلال محبوب نے بی بی سی اردو سروس کو اپنا موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کو شق 149 کے تحت لامحدود اختیارات حاصل نہیں ہیں، اور آئین میں اس حوالے سے صراحت کے ساتھ ذکر ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے دائرہ کار کیا ہیں۔

احمد بلال محبوب کا مزید کہنا تھا کہ ایسا کوئی بھی اقدام اٹھارہویں ترمیم کی روح کے خلاف ہوگا اور یہ تاثر گمراہ کن ہے کہ وفاقی حکومت کو ایسے کوئی خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔

(Visited 115 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں