خاتون صحافی کو براہ راست کوریج کے دوران بوسہ دینے والا شخص

خاتون صحافی

مشرق وسطیٰ کے اہم ترین ملک لبنان میں رواں ماہ اکتوبر سے جاری مظاہروں کی کوریج کرنے والی خاتون صحافی کو براہ راست نشریات کے دوران راہ چلتے شخص کی جانب سے بوسہ دیے جانے پر تنازع پیدا ہوگیا۔

لبنان میں رواں ماہ اکتوبر کے آغاز میں اس وقت مظاہرے شروع ہوئے جب حکومت نے واٹس ایپ کالز پر ٹیکس کی تجویز دی تھی۔

حکومت نے واٹس ایپ پر ٹیکس کی تجویز ابتر مالی حالات اور حکومت کی آمدنی بڑھانے کی وجہ سے دی تھی، تاہم حکومت کو یہ تجویز مہنگی پڑگئی اور عوام سڑکوں پر نکل آیا۔

ان ہی مظاہروں کے دوران لبنان کے وزیر سعد حریری نے بھی ڈھائی سال تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہنے کے بعد گزشتہ ماہ 29 اکتوبر کو استعفیٰ دیا تھا۔

روس کے معروف مؤرخ کم عمر گرل فرینڈ کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار

سعد حریری دوسری مدت کے لیے 2016 میں وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے، اس سے قبل وہ 2009 سے 2011 تک بھی وزیر اعظم رہے تھے۔

وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے بعد لبنانی حکومت کے دیگر وزرا نے بھی اپنی وزارتوں سے استعفیٰ دیا تھا، تاہم ملک کے انتہائی ابتر معاشی حالات کی وجہ سے مظاہروں میں کمی نہیں ہوئی۔

رپورٹس کے مطابق لبنان کا قرض بڑھ کر 86 ارب ڈالر سے زائد ہو چکا ہے جو اُس کی کل شرح نمو کا 150 فیصد ہے۔

بڑھتے عالمی قرضوں اور ابتر معاشی حالت کی وجہ سے مظاہرین حکمرانوں سے مستعفی ہونے سمیت معاشی اصلاحات متعارف کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان ہی مظاہروں میں شامل ایک شخص کی جانب سے مظاہروں کی براہ راست کوریج کرنے والی خاتون صحافی کو گال پر بوسہ دیا، جس کے بعد لبنانی سوشل میڈیا پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔

گلف نیوز کے مطابق اسکائے نیوز عربیہ کی خاتون اینکر ڈیرن الہالو کو ایک شخص نے براہ راست کوریج کے دوران بوسہ دیا، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے طرح طرح کے تبصرے کیے۔

رپورٹ کے مطابق خاتون اینکر کو راہ چلتے شخص کی جانب سے بوسہ دیے جانے کی ویڈیو معروف صحافی و اینکر نیشان نے شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’انقلابی بوسہ‘

نیشان کی جانب سے ویڈیو شیئر کرنے کے بعد دیگر کئی صارفین نے بھی اس پر مذاق کیا اور اس پر طرح طرح کے تبصرے کیے۔

تاہم انسانی حقوق کی کارکن جارجز عیزی نے نیشان کی ویڈیو کو ہی شیئر کرتے ہوئے راہ چلتے شخص کی جانب سے خاتون اینکر کو دیے گئے بوسہ کو نامناسب قرار دیا۔

جارجز عیزی نے راہ چلتے شخص کی جانب سے خاتون اینکر کو بوسہ دیے جانے کو ہراسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے مزاحیہ کہنا غلط ہے۔

اسی طرح مظاہرے میں شامل شخص کی جانب سے خاتون اینکر کو براہ راست نشریات کے دوران بوسہ دیے جانے پر دیگر لبنانی سوشل میڈیا صارفین کے درمیان بھی بحث دکھائی دی۔

جہاں کچھ افراد نے اسے مزاحیہ قرار دیا، وہیں کئی افراد نے راہ چلتے شخص کی حرکت کو ہراسانی سے تشبیہہ دی۔

(Visited 62 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں