کلثوم نواز کا آخری خط …

کلثوم نواز

میاں صاحب، مجھے یقین ہے کہ میری موت کا سُن کر آپ کو انتہائی صدمہ پہنچا ہوگا۔ آپ نے اپنی قید کے دوران میری صحت یابی اور میری لمبی زندگی کی جتنی دعائیں مانگی۔ میاں صاحب، آپ کی دعاؤں، حوصلے اور تسلی سے میں اتنے دن ہی مزید زندہ رہ سکتی تھی۔ آخر ہر مریض کو دواؤں کے علاوہ دعاؤں اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے اور میرا سب کچھ تو آپ تھے۔ جب آپ ہی میرے پاس نا رہے۔ تو میں زندہ کیسے رہتی ؟

پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے میاں صاحب، مجھے اپنے آخری وقت میں نا تو ڈاکٹروں کی ضرورت تھی اور نا ہی اپنے دو بیٹوں کی۔ مجھے ضرورت تھی تو آپ کی۔ جس کے ساتھ میں نے زندگی کے 48 سال گزارے۔ جس کے ساتھ میں وزیراعظم ہاؤس میں رہی اور جس کی خاطر میں مشرف کے خلاف سڑکوں پر نکلی۔ جس کے ساتھ میں نے دنیا دیکھی۔ پتہ نہیں کہ مرنے کے بعد آپ کو اپنی باؤ جی کا چہرہ دیکھنا بھی نصیب ہوتا ہے کہ نہیں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ میرا چہرہ مطمئن ہوگا اور میں چاہوں گی کہ آپ اپنی باؤ جی کو حوصلے اور دعاؤں کے ساتھ لحد میں اتاریں۔

میاں صاحب، آپ جب مجھ سے آخری بار ملنے آئے تو آپ نے مجھے آنکھیں کھولنے کا کہا۔ آپ نے اپنے اُس باؤ جی کو آنکھیں کھولنے کا کہا۔ جو کہ آپ کو سُلانے کے بعد سوتی تھی۔ آپ نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر مجھے آنکھیں کھولنے کا کہا۔ جو آنکھیں آپ کی راہ تکتے تکتے ہمیشہ کے لیے بند ہوگئیں۔ میاں صاحب، آپ تھوڑا انتظار تو کر لیتے۔ میرے بس میں ہوتا تو میں آنکھیں بند ہی کیوں کرتی۔ میں ایسے وقت میں آنکھیں کیوں بند کرتی۔ جب کہ میرے مجازی خدا کو میری ضرورت تھی۔ جو مجھے دیار غیر میں تنہا چھوڑ کر گرفتاری دینے پاکستان جارہا تھا۔

میاں صاحب، آپ تو جاتے جاتے میرے جگر کا ٹکرا بھی ساتھ لے گئے۔ مریم تو ہمیشہ سے ہی آپ کی لاڈلی تھی۔ اتنی لاڈلی تھی کہ اس نے یہ بھی نہیں سوچا کہ گلے کے کینسر سے لڑتی ماں کو لندن میں چھوڑ کر وہ آپ کے ساتھ پاکستان چلی گئی۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ میری غیر موجودگی میں آپ کو صرف وہی سہار دے سکتی ہے۔ مریم جانتی ہے کہ آپ کو جب میری ضرورت ہوگی اور جب میں وہاں نہیں ہوں گی تو وہی آپ کا سہارا بن سکتی ہے۔ مریم جانتی ہے کہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ماں کا بچنا تو مشکل ہے۔ اس لیے اسے چھوڑ کر اپنے اُس باپ کے ساتھ چلی گئی۔ جس کی وہ لاڈلی تھی۔

جب آپ سرکاری دوروں پر بیرون ملک جاتے تھے تو آپ نے ہمیشہ اپنی لاڈلی کا پہلے پوچھا اور میرا بعد میں۔ وہی مریم جس کے ساتھ آپ اپنی ساری مشکلیں، مصیبتیں اور مسائل شیئر کرتے تھے۔ کیسی خوش نصیب ہے مریم۔ مجھے اس کی قسمت پر رشک آتا ہے کہ اسے قید بھی ملی تو اپنے باپ کے ساتھ۔ جس کی خاطر وہ اپنی بیمار ماں کو چھوڑ کر پاکستان گرفتاری دینے چلی آئی۔

میاں صاحب، آپ واپسی کا وعدہ کرکے جب گئے تو مجھے معلوم تھا کہ اب آپ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ آپ جب مجھے ڈاکٹروں کے سہارے چھوڑ کر اپنی گرفتاری دینے کے لیے پاکستان گئے۔ تو میں آپ کو روکنا چاہتی تھی۔ کیونکہ میں جانتی تھی کہ پاکستان میں اب جس کی حکومت ہے۔ وہ مشرف سے بھی زیادہ ظالم اور سنگدل ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ آج کی عدلیہ اتنی ہی بے بس اور بے حس ہے۔ جتنی ضیاءالحق کے زمانے میں تھی۔ جس نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا اور اس کی بیوی اور بیٹی ظالم حکمران کی منت سماجت کرتی رہ گئیں۔

میاں صاحب، میں تو اس دنیا سے جارہی ہوں مگر میرے بعد اپنی جنگ کو جاری رکھیے گا۔ اس جنگ اور اس عوام کے لیے جس کی خاطر آپ مجھے چھوڑ کر پاکستان آئے۔ اب میں تو آپ کے ساتھ نہیں ہوں گی۔ لیکن میری بیٹی آپ کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹی رہے گی۔ کیا ہوا جو آپ راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ کیا ہوا جو آپ پر ایسی کرپشن کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ جس کو آج تک کوئی بھی ثابت نہیں کرسکا۔

میاں صاحب، اگر حکومت آپ کو میرا جنازہ پڑھنے کی اجازت دے تو اپنے آپ پر قابو رکھنا۔ یہ سمجھ لینا کہ میں اب بھی لندن میں زیر علاج ہوں۔ میں اب بھی اُس وینٹی لیٹر کے سہارے زندہ ہوں۔ جس کے بارے میں لوگوں نے مزاق اڑایا تھا۔ میں اب بھی اس کلینک میں زیر علاج ہوں۔ جس کے بارے میں اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ یہ کونسا کینسر ہے۔ جس کا علاج کلینک میں ہوتا ہے۔

آخر میں بس اتنا ہی کہوں گی اگر شہباز شریف میری میت لندن سے لے کر لاہور پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تو مجھے دفناتے وقت حوصلہ رکھنا کیونکہ آپ کے سیاسی دشمن اس وقت جیتیں گے۔ جب آپ حوصلہ ہاریں گے۔ میں تو اب نہیں رہی۔ لیکن آپ نے میری غیر موجودگی میں ڈٹے رہنا ہے جب تک آپ نیب کے تمام ریفرنسز میں باعزت بری نہیں ہو جاتے۔

آپ کی باؤ جی۔

(Visited 1,029 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں