مہنگائی کی بڑھتی شرح اور مالیاتی معاہدے

مہنگائی

مہنگائی میں اضافے کی شرح پانچ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی،مڈل کلاس کے لیے مہنگائی کی اوسط شرح ساڑھے تیرہ فیصد سے بھی زیادہ ہو گئی…..

عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستانی بینکوں کا آؤٹ لک منفی کردیا ہے۔ موڈیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی بینکوں نے حکومتی بانڈز میں بہت رقم لگا رکھی ہے۔ بینکوں کا کریڈٹ نچلی پروفائل کے سرکاری بانڈز سے منسلک ہوگیا۔

اگلے ڈیڑھ سال تک بینکوں کو نچلی پروفائل کے سرکاری بانڈز کے چیلنج سے نمٹنا ہوگا اور بینکوں کو سست معیشت کے ساتھ کام کرنے میں مشکلات کا سامنا رہے گا۔ مہنگائی میں اضافے کی شرح پانچ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی،مڈل کلاس کے لیے مہنگائی کی اوسط شرح ساڑھے تیرہ فیصد سے بھی زیادہ ہو گئی، گزشتہ سال مہنگائی کی اوسط شرح 1.6 فیصد تھی۔پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق فروری کے پہلے ہفتے کے دوران مارکیٹ میں ٹماٹر، آلو، پیاز، چینی، گوشت، دال چنا اور گندم سمیت 12 اشیاء کی قیمت میں ساڑھے 25 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث ہفتے روزہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی اوسط شرح 9.24 فیصد ہو گئی۔

گزشتہ سال فروری میں یہ شرح صرف 1.6 فیصد تھی،، اکتوبر 2013 کے بعد پہلی بار مہنگائی کی اوسط شرح 9 فیصد سے اوپر گئی ہے، رپورٹ کے مطابق 35 ہزار سے زیادہ آمدنی والوں کے لیے ہفت روزہ بنیاد پر مہنگائی کی اوسط شرح 13.7 فیصد،، اور 18 سے 35 ہزار روپے ماہانہ کمانے والوں کے لیے 10.1 فیصد رہی۔

دوسری طرف وزیر خزانہ اسد عمر قوم کو یہ نہ قابل یقین مژدہ سنارہے ہیں کہ آئی ایم ایف نے اب اپنے موقف میں لچک دکھائی ہیاور معاملات طے پاچکے ہیں۔وزیر اعظم اور اسد عمر کی طرف سے آئی ایم ایف سے مفاہمت پیدا ہونے کی نوید کو ملا کر پڑھا جائے تو عام پاکستانی شہری کی تفہیم کے لئے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حکومت فوری طور پر اور آنے والے بجٹ میں ایسے سخت مالیاتی اقدامات کرنے پر مجبور ہوگی جن کی وجہ سے پاکستانی عوام کی قوت خرید متاثر ہوگی اور متوسط طبقہ پر مالی بوجھ بڑھایا جائے گا۔ اسد عمر نے اگرچہ وزارت خزانہ کا چارج سنبھالنے سے پہلے ہی کہہ دیا تھا اور جولائی میں قائم عبوری حکومت بھی یہ اشارے دیتی رہی تھی کہ پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے خسارہ سے نمٹنے کے لئے عالمی مالیاتی فنڈ سے رجوع کرنا پڑے گا۔

لیکن حکومت سنبھالنے اور خاص طور سے سعودی عرب سے تین ارب ڈالر کا مالی پیکیج ملنے کے بعد سے وزیر خزانہ کے علاوہ وزیر اعظم نے بھی مسلسل یہ چرچا کیا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف سے قرض لینے پر مجبور نہیں ۔ یہ مالی پروگرام آئی ایم ایف کی شرائط کی بجائے پاکستانی حکومت کی شرائط پر ہوگا۔ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ یہ تاثر دیتے رہے ہیں گویا عالمی مالیاتی فنڈ کوئی ایسا ادارہ ہے جو پاکستان کی خود مختاری پر حملہ آور ہونے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔لیکن نئے پاکستان کے محافظ کسی ایسے سمجھوتے کا حصہ نہیں بن سکتے جو عوام کے لئے بوجھ ہو اور ملک کو توہین آمیز شرائط قبول کرنے پر مجبور کیا جائے۔

بے شک آئی ایم ایف میں دنیا کی بڑی معیشتوں کے نمائندے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بالواسطہ ہی سہی کسی ملک کو آئی ایم ایف سے قرض لینے کی صورت میں یہ ممالک اپنے سیاسی و معاشی مفادات کا تحفظ بھی چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی حکومت کی طرف سے باقاعدہ درخواست کرنے سے پہلے ہی امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو نے ایک انٹرویو میں واضح کردیا تھا کہ امریکہ، چینی قرض ادا کرنے کے لئے پاکستان کو آئی ایم ایف کے وسائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔مبصرین کا خیال تھا کہ اس بیان کا مقصد دراصل پاکستان کو بعض اہم امریکی سفارتی منصوبوں میں ساتھ دینے پر مجبور کرنا تھا جن میں سے ایک افغانستان کے معاملہ میں طالبان پر دباؤ ڈال کر انہیں مذاکرات پر آمادہ کرنا تھا اور دوسرے پاک چین اقتصادی معاہدہ کی ان شقات تک رسائی کی درپردہ خواہش تھی جو اس علاقے میں امریکہ کی اسٹریجک حکمت عملی کے لئے سود مند ہو سکتی تھیں۔

اس پیچیدہ اور مشکل صورت حال میں البتہ تحریک انصاف کی حکومت نے کبھی کھل کر یہ بتانے کی کوشش نہیں کی کہ آئی ایم ایف ایسی کون سی شرائط عائد کرنا چاہتا ہے جنہیں عوام کے حقوق کے خلاف اور ملکی خود مختاری پر حملہ سمجھتے ہوئے حکومت قبول کرنے سے گریز کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ گزشتہ آٹھ نو ماہ سے پاکستان کے سارے معیشت دان یہ جانتے تھے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے امدادی پیکیج لینا پڑے گا لیکن تحریک انصاف نے برسر اقتدار آنے کے بعد چھ ماہ تک قوم کو اس دھوکہ میں مبتلا رکھا ہے کہ عمران خان کی سحر انگیز شخصیت کی وجہ سے دوست ملک دھڑا دھڑ امداد دے رہے ہیں اور سرمایہ کار قطاریں بنا کر پاکستان میں دولت کے انبار لگانے کے لئے بے چین ہیں۔

اس لئے حکومت آئی ایم ایف جیسے ادارے سے اس وقت تک قرض لینا گوارا نہیں کرے گی جب تک وہ پاکستان کی شرائط پر یہ معاہدہ کرنے پر آمادہ نہ ہو۔ وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیر اعظم عمران خان سے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ انچھ ماہ کے دوران ملکی معیشت کو جو نقصان پہنچا ہے اور حکومت کے لیت و لعل کی وجہ سے معاشی اشاریوں میں جو کمی واقع ہوئی ہے، اس کی قیمت مہنگے قرضوں اور بین الاقوامی لین دین میں سخت شرائط کی صورت میں بہر حال پاکستانی عوام کو ہی ادا کرنا پڑے گی۔ اس کا ذمہ دار کون ہو گا۔ اگر حکومت اور وزیر خزانہ کی یہ بات درست ہے کہ اب آئی ایم ایف پاکستان کی شرائط ماننے پر مجبور ہوگیا ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ یہ ساری تفصیلات عام کرے کہ پہلے آئی ایم ایف کیا مطالبہ کر رہا تھا اور اب اس کے موقف میں کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے۔

عمران خان پاکستان میں بدعنوانی اور بیڈ گورننس کا رونا روتے ہوئے اپنی حکومت کو آئیڈیل اور عوام دوست قرار دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ لیکن ہر لحاظ سے کامل حکومت کے ہوتے ہوئے فیصلوں میں تاخیر سے ملکی معیشت کو جو نقصان پہنچا ہے، اسے کون پورا کرے گا۔ناقابل برداشت مہنگائی کے بعد مزید مہنگائی کا بوجھ ایک بار پھر عوام پر پڑے گا جن کی کمر پہلے ہی ٹوٹ چکی ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں