طالبان سے مذاکرات اختتام پزیر، طالبان نے بڑ ا اعلان کر دیا

طالبان

دوحہ: قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان افغان امن مذاکرات کا پانچواں دور ختم ہو گیا، مذاکرات میں امریکا کی جانب سے تمام شرایط منوانے کے لیے اصرار جاری رہا جب کہ طالبان اس کے لیے تیار نہیں ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق دوحہ میں امریکہ طالبان مذاکرات کے پانچویں دور میں امریکہ اپنے اصرار پر قائم رہا کہ طالبان ان کے تمام شرایط مانے، تاہم طالبان نے تمام امریکی شرایط ماننے سے انکار کر دیا۔

افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان اپنے اس مؤقف پر قائم رہے کہ امریکی فوج کے انخلا کی تاریخ کا اعلان کیا جائے، انخلا کے اعلان تک طالبان نے کسی بھی یقین دہانی سے انکار کر دیا ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا رَواں ہفتے امریکا واپس جانے کا امکان ہے، زلمے خلیل زاد امریکی صدر اور دیگر حکام سے ملاقات کریں گے، جس میں وہ مذاکرات کے حوالے سے انھیں تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

یاد رہے کہ حالیہ امریکا طالبان مذاکرات دوحہ قطر میں 25 فروری کو شروع ہوئے، جس کے لیے پاکستان نے اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ دو دن قبل افغان میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ فریقین میں کچھ معاملات پر اتفاق ہو گیا ہے اور چند معاملات پر ابھی بھی رکاوٹ موجود ہے۔

امریکہ سے مذاکرات جاری ہیں تاہم ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا، ترجمان طالبان

امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مذاکرات کار کوشش کر رہے ہیں کہ درپیش رکاوٹوں پر قابو پایا جائے، طالبان نمائندے ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ان کا صرف اس بات پر اصرار ہے کہ تمام قابض افواج افغانستان سے نکل جائیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں