دس روپے

دیکھ کبیرا رویا

وہ گلی کے اس نکڑ پر چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ اور اس کی ماں اسے چالی (بڑے مکان جس میں کئی منزلیں اور کئی چھوٹے چھوٹے کمرے ہوتے ہیں) میں ڈھونڈ رہی تھی۔ کشوری کو اپنی کھولی میں بٹھا کر اور باہر والے سے کافی چائے لانے کے لیے کہہ کروہ اس چالی کی تینوں منزلوں میں اپنی بیٹی کو تلاش کر چکی تھی۔ مگر جانے وہ کہاں مر گئی تھی۔ سنڈاس کے پاس جا کر بھی اس نے آواز دی۔

’’اے سریتا۔ سریتا!‘‘

مگر وہ تو چالی میں تھی ہی نہیں اور جیسا کہ اس کی ماں سمجھ رہی تھی۔ اب اسے پیچش کی شکایت بھی نہیں تھی۔ دوا پِیے بغیر اس کو آرام آچکا تھا۔ اور وہ باہر گلی کے اس نکڑ پر جہاں کچرے کا ڈھیر پڑا رہتا ہے، چھوٹی چھوٹی لڑکیوں سے کھیل رہی تھی اور ہر قسم کے فکر و تردّد سے آزاد تھی۔ اس کی ماں بہت متفکر تھی۔ کشوری اندر کھولی میں بیٹھا تھا۔ اور جیسا کہ اس نے کہا تھا، دو سیٹھ باہر بڑے بازار میں موٹر لیے کھڑے تھے لیکن سریتا کہیں غائب ہی ہو گئی تھی۔ موٹر والے سیٹھ ہر روز تو آتے ہی نہیں، یہ تو کشوری کی مہربانی ہے کہ مہینے میں ایک دو بار موٹی اسامی لے آتا ہے۔ ورنہ ایسے گندے محلے میں جہاں پان کی پیکوں اور جلی ہوئی بیڑیوں کی ملی جلی بو سے کشوری گھبراتا ہے، سیٹھ لوگ کیسے آسکتے ہیں۔ کشوری چونکہ ہوشیار ہے اس لیے وہ کسی آدمی کو مکان پر نہیں لاتا بلکہ سریتا کو کپڑے وپڑے پہنا کر باہر لے جایا کرتا ہے اور ان لوگوں سے کہہ دیا کرتا ہے کہ

’’صاحب لوگ آج کل زمانہ بڑا نازک ہے۔ پولیس کے سپاہی ہر وقت گھات میں لگے رہتے ہیں۔ اب تک دو سو دھندا کرنے والی چھوکریاں پکڑی جاچکی ہیں۔ کورٹ میں میرا بھی ایک کیس چل رہا ہے۔ اس لیے پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے۔ ‘‘

سریتا کی ماں کو بہت غصہ آرہا تھا۔ جب وہ نیچے اتری تو سیڑھیوں کے پاس رام دئی بیٹھی بیڑیوں کے پتے کاٹ رہی تھی۔ اس سے سریتا کی ماں نے پوچھا۔

’’تو نے سریتا کو کہیں دیکھا ہے۔ جانے کہاں مر گئی ہے، بس آج مجھے مل جائے وہ چار چوٹ کی مار دوں کہ بند بند ڈھیلا ہو جائے۔ لوٹھا کی لوٹھا ہو گئی ہے پر سارا دن لونڈوں کے ساتھ کدکڑے لگاتی رہتی ہے۔ ‘‘

رام دئی بیڑیوں کے پتے کاٹتی رہی۔ اور اس نے سریتا کی ماں کو جواب نہ دیا۔ دراصل رام دئی سے سریتا کی ماں نے کچھ پوچھا ہی نہیں تھا۔ وہ یونہی بڑبڑاتی ہوئی اس کے پاس سے گزر گئی۔ جیسا کہ اس کا عام دستور تھا۔ ہر دوسرے تیسرے دن اسے سریتا کو ڈھونڈنا پڑتا تھا اور رام دئی کو جو کہ سارا دن سیڑھیوں کے پاس پٹاری سامنے رکھے بیڑیوں پر لال اور سفید دھاگے لپیٹی رہتی تھی مخاطب کرکے یہی الفاظ دہرایا کرتی تھی۔ ایک اور بات وہ چالی کی ساری عورتوں سے کہا کرتی تھی۔

’’میں تو اپنی سریتا کا کسی بابو سے بیاہ کروں گی۔ اسی لیے تو اس سے کہتی ہوں کہ کچھ پڑھ لکھ لے۔ یہاں پاس ہی ایک اسکول منسی پالٹی(میونسپلٹی) نے کھولا ہے۔ سوچتی ہوں اس میں سریتا کو داخل کرادوں، بہن اس کے پِتا کو بڑا شوق تھا کہ میری لڑکی لکھی پڑھی ہو۔ ‘‘

اس کے بعد وہ ایک لمبی آہ بھر کر عام طور پر اپنے مرے ہوئے شوہر کا قصہ چھیڑ دیتی تھی۔ جو چالی کی ہر عورت کو زبانی یاد تھا۔ رام دئی سے اگر آپ پوچھیں کہ اچھا جب سریتا کے باپ کو جو ریلوائی میں کام کرتا تھا۔ بڑے صاحب نے گالی دی تو کیا ہوا تو رام دئی فوراً آپ کو بتا دے گی کہ سریتا کے باپ کے منہ میں جھاگ بھر آیا۔ اور وہ صاحب سے کہنے لگا۔

’’میں تمہارا نوکر نہیں ہوں۔ سرکار کا نوکر ہوں۔ تم مجھ پر رعب نہیں جما سکتے۔ دیکھو اگر پھر گالی دی تو یہ دونوں جبڑے حلق کے اندر کردوں گا۔ ‘‘

بس پھر کیا تھا۔ صاحب تاؤ میں آگیا، اور اس نے ایک اور گالی سنا دی۔ اس پر سریتا کے باپ نے غصے میں آکر صاحب کی گردن پر دھول جما دی کہ اس کا ٹوپ دس گزپر جا گرا اور اس کو دن میں تارے نظر آگئے۔ مگر پھر بھی وہ بڑا آدمی تھا آگے بڑھ کر اس نے سریتا کے باپ کے پیٹ میں اپنے فوجی بوٹ سے اس زور کی ٹھوکر ماری کہ اس کی تلی پھٹ گئی اور وہیں لائنوں کے پاس گر کر اس نے جان دے دی۔ سرکار نے صاحب پر مقدمہ چلایا۔ اور پورے پانچ سو روپے سریتا کی ماں کو اس سے دلوائے مگر قسمت بُری تھی۔ اس کو سٹہ کھیلنے کی چاٹ پڑ گئی۔ اور پانچ مہینے کے اندر اندر سارا روپیہ برباد ہو گیا۔ سریتا کی ماں کی زبان پر ہرقت یہ کہانی جاری رہتی تھی لیکن کسی کو یقین نہیں تھا کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ۔ چالی میں سے کسی آدمی کو بھی سریتا کی ماں سے ہمدردی نہ تھی۔ شاید اس لیے کہ وہ سب کے سب خود ہمدردی کے قابل تھے، کوئی کسی کا دوست نہیں تھا۔ اس بلڈنگ میں اکثر آدمی ایسے رہتے تھے جو دن بھر سوتے تھے اور رات کو جاگتے تھے۔ کیونکہ انھیں رات کو پاس والی مل میں کام پر جانا ہوتا تھا۔ اس بلڈنگ میں سب آدمی بالکل پاس رہتے تھے۔ لیکن کسی کو ایک دوسرے سے دلچسپی نہ تھی۔ چالی میں قریب قریب سب لوگ جانتے تھے کہ سریتا کی ماں اپنی جوان بیٹی سے پیشہ کراتی ہے لیکن چونکہ وہ کسی کے ساتھ اچھا بُرا سلوک کرنے کے عادی ہی نہ تھے، اس لیے سریتا کی ماں کو کوئی جھٹلانے کی کوشش نہ کرتا تھا جب وہ کہا کرتی تھی میری بیٹی کو تو دنیا کی کچھ خبر ہی نہیں۔ البتہ ایک روز صبح سویرے نل کے پاس جب تکا رام نے سریتا کو چھیڑا تھا تو سریتا کی ماں بہت چیخی چلائی تھی۔ اس موئے گنجے کو تو کیوں سنبھال کے نہیں رکھتی۔ پرماتما کرے دونوں آنکھوں سے اندھا ہو جائے۔ جن سے اس نے میری کنواری بیٹی کی طرف بُری نظروں سے دیکھا۔ سچ کہتی ہوں۔ ایک روز ایسا فساد ہو گا کہ اس تیری سوغات کا مارے جوتوں کے سر پلپلا کردوں گی۔ باہر جو چاہے کرتا پھرے یہاں اسے بھلے مانسوں کی طرح رہنا ہو گا۔ سنا!‘‘

اور یہ سن کر تکا رام کی بھینگی بیوی دھوتی باندھتے باندھتے باہر نکل آئی۔

’’خبردار موئی چڑی جو تو نے ایک لفظ بھی اور زبان سے نکالا۔ یہ تیری دیوی تو ہوٹل کے چھوکروں سے بھی آنکھ مچولی کھیلتی ہے اور تو کیا ہم سب کو اندھا سمجھتی ہے کیا ہم سب جانتے نہیں کہ تیرے گھر میں نت نئے بابو کس لیے آتے ہیں۔ اور یہ تیری سریتا آئے دن بن سنور کر باہر کیوں جاتی ہے۔ بڑی آئی عزت آبرو والی۔ جا جا دور دفان ہو یہاں سے۔ ‘‘

تکارام کی بھینگی بیوی کے متعلق بہت سی باتیں مشہور تھیں۔ لیکن یہ بات خاص طور پر سب لوگوں کو معلوم تھی کہ گھانسلیٹ والا(مٹی کا تیل بیچنے والا) تیل دینے کے لیے آتا ہے تو وہ اسے اندر بلا کر دروازہ بند کرلیا کرتی ہے۔ چنانچہ سریتا کی ماں نے اس خاص بات پر بہت زور دیا۔ وہ بار بار نفرت بھرے لہجے میں اس سے کہتی۔

’’وہ تیرا یار گھانسلیٹ۔ دو دو گھنٹے اسے کھولی میں بٹھا کر کیا تو اس کا گھانسلیٹ سونگھتی رہتی ہے؟‘‘

تکا رام کی بیوی سے سریتا کی ماں کی بول چال زیادہ دیر تک بند نہ رہی تھی کیونکہ ایک روز سریتا کی ماں نے رات کو اپنی اس پڑوسن کو گھپ اندھیرے میں کسی سے میٹھی میٹھی باتیں کرتے پکڑ لیا تھا اور دوسرے ہی روز تکا رام کی بیوی نے جب وہ رات کو پانے دھونی کی طرف سے آرہی تھی۔ سریتا کو ایک جنٹلمین آدمی کے ساتھ موٹر میں بیٹھے دیکھ لیا۔ چنانچہ ان دونوں کا آپس میں سمجھوتہ ہو گیا تھا۔ اسی لیے سریتا کی ماں نے تکا رام کی بیوی سے پوچھا۔

’’تو نے کہیں سریتا کو نہیں دیکھا؟‘‘

تکا رام کی بیوی نے بھینگی آنکھ سے گلی کے نکڑ کی طرف دیکھا۔

’’وہاں گھورے کے پاس پٹواری کی لونڈیا سے کھیل رہی ہے۔ ‘‘

پھر اس نے آواز دھیمی کرکے اس سے کہا۔

’’ابھی ابھی کشوری اوپر گیا تھا کہ تجھ سے ملا؟‘‘

سریتا کی ماں نے اِدھر اُدھر دیکھ کر ہولے سے کہا۔

’’اوپر بٹھا آئی ہوں پر یہ سریتا ہمیشہ وقت پر کہیں غائب ہو جاتی ہے۔ کچھ سوچتی نہیں۔ بس دن بھر کھیل کود چاہیے۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ گھورے کی طرف بڑھی اور جب سیمنٹ کی بنی ہوئی موتری(پیشاب گاہ) کے پاس آئی تو سریتا فوراً اٹھ کھڑی ہوئی اور اس کے چہرے پر افسردگی کے آثار پیدا ہو گئے۔ جب اس کی ماں نے خشم آلود لہجے میں اس کا بازو پکڑ کر کہا۔

’’چل گھرمیں چل کے مَر۔ تجھے تو سوائے اچھل کود کے اور کوئی کام ہی نہیں۔ ‘‘

پھر راستے میں اس نے ہولے سے کہا۔

’’کشوری بڑی دیر سے آیا بیٹھا ہے، ایک موٹر والے سیٹھ کو بلایا ہے۔ چل تو بھاگ کے اوپر چل اور جلدی جلدی تیار ہو جا۔ اور سن۔ وہ نیلی جارجٹ کی ساڑھی پہن۔ اور دیکھ یہ تیرے بال بھی بہت بُری طرح بکھر رہے ہیں۔ تو جلدی تیار ہو۔ کنگھی میں کردوں گی۔ ‘‘

یہ سن کر کہ موٹر والے سیٹھ آئے ہیں، سریتا بہت خوش ہوئی۔ اسے سیٹھ سے اتنی دلچسپی نہیں تھی جتنی کہ موٹر سے تھی۔ موٹر کی سواری اسے بہت پسند تھی۔ جب موٹر فراٹے بھرتی کھلی کھلی سڑکوں پر چلتی اور اس کے منہ پر ہوا کے طمانچے پڑتے، تو اس کے دل میں ایک ناقابلِ بیان مسرت ابلنا شروع ہو جاتی۔ موٹر میں بیٹھ کر اس کو ہر شے ایک ہوائی چکر دکھائی دیتی اور سمجھتی کہ وہ خود ایک بگولا ہے جو سڑکوں پر اڑتا چلا جارہا ہے۔ سریتا کی عمر زیادہ سے زیادہ پندرہ برس کی ہو گی۔ مگر اس میں بھنپا تیرہ برس کی لڑکیوں کا سا تھا۔ عورتوں سے ملنا جلنا اور ان سے باتیں کرنا بالکل پسند نہیں کرتی تھی۔ سارا دن چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کے ساتھ اونٹ پٹانگ کھیلوں میں مصروف رہتی۔ ایسے کھیل جن کا کوئی مطلب ہی نہ ہو۔ مثال کے طور پر وہ گلی کے کالے لُک پھرے فرش پر کھریا مٹی سے لکیریں کھینچنے میں بہت دلچسپی لیتی تھی اور اس کھیل میں وہ اس انہماک سے مصروف رہتی۔ جیسے سڑک پر یہ ٹیڑھی بنگی لکیریں اگر نہ کھینچی گئیں تو آمدورفت بند ہو جائے گی، اور پھر کھولی سے پرانے ٹاٹ اٹھا کروہ اپنی ننھی ننھی سہیلیوں کے ساتھ کئی کئی گھنٹے ان کو فٹ پاتھ پر جھٹکنے صاف کرنے، بچھانے اور ان پر بیٹھنے کے غیر دلچسپ کھیل میں مشغول رہتی تھی۔ سریتا خوبصورت نہیں تھی۔ رنگ اس کا سیاہی مائل گندمی تھا۔ بمبئی کے مرطوب موسم کے باعث اس کے چہرے کی جلد ہر وقت چکنی رہتی تھی۔ اورپتلے پتلے ہونٹوں پر جو چیکو( ایک پھل جس کا رنگ گندمی ہوتا ہے) کے چھلکے دکھائی دیتے تھے، ہر وقت خفیف سی لرزش طاری رہتی تھی۔ اوپر کے ہونٹ پر پسینے کی تین چار ننھی ننھی بوندیں ہمیشہ کپکپاتی رہتی تھیں۔ اس کی صحت اچھی تھی۔ غلاظت میں رہنے کے باوجود اس کا جسم سڈول اور متناسب تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ا س پر جوانی کا حملہ بڑی شدت سے ہوا ہے جس نے مخالف قوتوں کو دبا کے رکھ دیاہے۔ قد چھوٹا تھا جو اس کی تندرستی میں اضافہ کرتا تھا۔ سڑک پر پھرتی سے ادھر ادھر چلتے ہوئے جب اس کی میلی گھگری اوپر کو اٹھ جاتی تو کئی راہ چلنے والے مردوں کی نگاہیں اس کی پنڈلیوں کی طرف اٹھ جاتی تھیں۔ جن میں جوانی کے باعث تازہ رندہ کی ہوئی ساگوان کی لکڑی جیسی چمک دکھائی دیتی تھی۔ ان پنڈلیوں پر جو بالوں سے بالکل بے نیاز تھیں۔ مساموں کے ننھے ننھے نشان دیکھ کر ان سنگتروں کے چھلکے یاد آجاتے تھے جن کے چھوٹے چھوٹے خلیوں میں تیل بھرا ہوتا ہے اور جو تھوڑے سے دباؤ پر فوارے کی طرح اوپر اٹھ کر آنکھوں میں گھس جایا کرتا ہے۔ سریتا کی باہیں بھی سڈول تھیں۔ کندھوں پر ان کی گولائی موٹے اور بڑے بیڈھب طریقے پر سلے ہوئے بلاؤز کے باوجود باہر جھانکتی تھی۔ بال بڑے گھنے اور لمبے تھے۔ ان میں سے کھوپرے کے تیل کی بو آتی رہتی تھی۔ ایک موٹے کوڑے کے مانند اس کی چوٹی پیٹھ کو تھپکتی رہتی تھی۔ سریتا اپنے بالوں کی لمبائی سے خوش نہیں تھی کیونکہ کھیل کود کے دوران میں اس کی چوٹی اسے بہت تکلیف دیا کرتی تھی اور اسے مختلف طریقوں سے اس کو قابو میں رکھنا پڑتا تھا۔ سریتا کا دل و دماغ ہر قسم کے فکر و تردّد سے آزاد تھا۔ دونوں وقت اسے کھانے کو مل جاتا تھا۔ اس کی ماں گھر کا سب کام کاج کرتی تھی۔ صبح کو سریتا دو بالٹیاں بھر کر اندر رکھ دیتی اور شام کو ہر روز لیمپ میں ایک پیسے تیل بھروالاتی۔ کئی برسوں سے وہ یہ کام بڑی باقاعدگی سے کررہی تھی۔ چنانچہ شام کو عادت کے باعث خود بخود اس کا ہاتھ اس پیالے کی طرف بڑھتا جس میں پیسے پڑے رہتے تھے اور لیمپ اٹھا کر وہ نیچے چلی جاتی۔ کبھی کبھی یعنی مہینے میں چار پانچ بار جب کشوری سیٹھ لوگوں کو لاتا تھا۔ تو ان کے ساتھ ہوٹل میں یا باہر اندھیرے مقاموں پر جانے کو وہ تفریح خیال کرتی تھی۔ اس نے اس باہر جانے کے سلسلے کے دوسرے پہلوؤں پرکبھی غور ہی نہیں کیا تھا۔ شاید یہ سمجھتی تھی کہ دوسری لڑکیوں کے گھر میں بھی کشوری جیسے آدمی آتے ہوں گے اور ان کو سیٹھ لوگوں کے ساتھ باہر جانا پڑتا ہو گا۔ اوروہاں رات کو ورلی کے ٹھنڈے ٹھنڈے بنچوں پر یا جوہو کی گیلی ریت پر جو کچھ ہوتا ہے سب کے ساتھ ہوتا ہو گا۔ چنانچہ اس نے ایک بار اپنی ماں سے کہا تھا۔

’’ماں اب تو شانتا بھی کافی بڑی ہو گئی۔ اس کو بھی میرے ساتھ بھیج دو نا۔ یہ سیٹھ جو اب آئے ہیں۔ ابلے انڈے کھانے کو دیا کرتے ہیں۔ اور شانتا کو انڈے بہت بھاتے ہیں۔ ‘‘

اس پر اس کی ماں نے بات گول مول کردی تھی۔

’’ہاں ہاں کسی روز اس کو بھی تمہارے ساتھ بھیج دوں گی۔ اس کی ماں پونہ سے واپس تو آجائے۔ ‘‘

اور سریتا نے دوسرے روز ہی شانتا کو جب وہ سنڈاس سے نکل رہی تھی، یہ خوش خبری سنائی تھی۔

’’تیری ماں پُونہ سے آجائے تو سب معاملہ ٹھیک ہو جائے گا۔ تو بھی میرے ساتھ ورلی جایا کرے گی۔ ‘‘

اور اس کے بعد سریتا نے اس کو رات کی بات کچھ اس طریقے پر سنانا شروع کی تھی جیسے اس نے ایک ہی پیارا سپنا دیکھا ہے۔ شانتا کو جو سریتا سے دو برس چھوٹی تھی یہ باتیں سن کر ایسا لگا تھا جیسے اس کے سارے جسم کے اندر ننھے ننھے گھنگھرو بج رہے ہیں۔ سریتا کی سب باتیں سن کر بھی اس کو تسلی نہ ہوئی تھی اور اس کا بازو کھینچ کر اس نے کہا تھا۔

’’چل نیچے چلتے ہیں۔ وہاں باتیں کریں گے۔ ‘‘

اور نیچے اس موتری کے پاس جہاں گردھاری بنیا نے بہت سے ٹاٹوں پر کھوپرے کے میلے ٹکڑے سکھانے کے لیے ڈال رکھے تھے، وہ دونوں دیر تک کپکپی کرنے والی باتیں کرتی رہی تھیں۔ اس وقت بھی جب کہ سریتا دھوتی کے پردے کے پیچھے نیلی جارجٹ کی ساڑھی پہن رہی تھی۔ کپڑے کے مس ہی سے اس کے بدن پر گدگدی ہورہی تھی اور موٹر کی سیر کا خیال اس کے دماغ میں پرندوں کی سی پھڑپھڑاہٹیں پیدا کررہا تھا۔ اب کی بار سیٹھ کیسا ہو گا اور اسے کہاں لے جائے گا۔ یہ اور اسی قسم کے اور سوال اس کے دماغ میں نہیں آرہے تھے۔ البتہ جلدی جلدی کپڑے بدلتے ہوئے اس نے ایک دو مرتبہ یہ ضرور سوچا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ موٹر چلے اور چند ہی منٹوں میں کسی ہوٹل کے دروازے پر ٹھہر جائے اور ایک بند کمرے میں سیٹھ شراب پینا شروع کردیں اور اس کا دم گھٹنا شروع ہو جائے۔ اسے ہوٹلوں کے بند کمرے پسند نہیں تھے۔ جن میں عام طور پر لوہے کی دو چارپائیاں اس طور بچھی ہوتی تھیں گویا ان پر جی بھر کے سونے کی اجازت ہی نہیں ہے۔ جلدی جلدی اس نے جارجٹ کی ساڑھی پہنی اور اس کی شکنیں درست کرتی ہوئی ایک لمحے کے لیے کشوری کے سامنے آکھڑی ہوئی۔

’’کشوری، ذرا دیکھو۔ پیچھے سے ساڑھی ٹھیک ہے نا؟‘‘

اور جواب کا انتظار کیے بغیر وہ لکڑی کے اس ٹوٹے ہوئے بکس کی طرف بڑھی جس میں اس نے جاپانی سرخی رکھی ہوئی تھی۔ ایک دھندلے آئینے کو کھڑکی کی سلاخوں میں اٹکا کر اس نے دوہری ہو کر اپنے گالوں پر پوڈر لگایا۔ اور سرخی لگا کر جب بالکل تیار ہو گئی تو مسکرا کر کشوری کی طرف داد طلب نگاہوں سے دیکھا۔ شوخ رنگ کی نیلی ساڑھی میں، ہونٹوں پر بے ترتیبی سے سرخی کی دھڑی جمائے اور سانولے گالوں پر پیازی رنگ کا پوڈر ملے وہ مٹی کا ایک ایسا کھلونا معلوم ہوئی جو دیوالی پر کھلونے بیچنے والوں کی دکان میں سب سے زیادہ نمایاں دکھائی دیا کرتاہے۔ اتنے میں اس کی ماں آگئی۔ اس نے جلدی جلدی سریتا کے بال درست کیے اور کہا۔

loading...

’’دیکھو بٹیا اچھی اچھی باتیں کرنا۔ اور جو کچھ وہ کہیں مان لینا۔ یہ سیٹھ جو آئے ہیں نا بڑے آدمی ہیں موٹر ان کی اپنی ہے۔ ‘‘

پھر کشوری سے مخاطب ہو کر کہا۔

’’اب تو جلدی سے لے جا اسے۔ بچارے کب کے کھڑے راہ دیکھ رہے ہوں گے۔ ‘‘

باہر بڑے بازار میں جہاں ایک کارخانے کی لمبی دیوار دور تک چلی گئی ہے۔ ایک پیلے رنگ کی موٹر میں تین حیدرآبادی نوجوان اپنی اپنی ناک پر رومال رکھے کشوری کا انتظار کررہے تھے۔ وہ موٹر آگے لے جاتے مگر مصیبت یہ ہے کہ دیوار دور تک چلی گئی تھی۔ اور اس کے ساتھ ہی پیشاب کا سلسلہ بھی۔ جب گلی کے موڑ سے ان نوجوان کو جو موٹر کا ہینڈل تھامے بیٹھا تھا۔ کشوری نظر آیا تو اس نے اپنے باقی دو ساتھیوں سے کہا۔

’’لو بھئی آگئے۔ یہ ہے کشوری۔ اور۔ اور۔ ‘‘

اس نے موٹر کی طرف نگاہیں جمائے رکھیں۔ اور۔ اور۔ ارے یہ تو بالکل ہی چھوٹی لڑکی ہے۔ ذرا تم بھی دیکھو نا۔ ارے بھئی وہ۔ وہ نیلی ساڑھی میں۔ ‘‘

جب کشوری اور سریتا دونوں موٹر کے پاس آگئے تو پچھلی سیٹ پر جو دو نوجوان بیٹھے تھے۔ انھوں نے درمیان میں سے اپنے ہیٹ وغیرہ اٹھا لیے۔ اور جگہ خالی کردی کشوری نے آگے بڑھ کے موٹر کے پچھلے حصے کا دروازہ کھولا اور پھرتی سے سریتا کو اندر داخل کردیا۔ دروازہ بند کرکے کشوری نے اس نوجوان سے جو موٹر کا ہینڈل تھامے تھا۔ کہا۔

’’معاف کیجیے گا دیر ہو گئی۔ یہ باہر اپنی کسی سہیلی کے پاس گئی ہوئی تھی۔ تو۔ تو؟‘‘

نوجوان نے مڑ کر سریتا کی طرف دیکھا۔ اور کشوری سے کہا۔

’’ٹھیک ہے۔ لیکن دیکھو۔ ‘‘

سرک کر موٹر کی اس کھڑی میں سے اس نے اپنا سر باہر نکالا اور ہولے سے کشوری کے کان میں کہا۔

’’شور وور تو نہیں مچائے گی؟‘‘

کشوری نے اس کے جواب میں اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کرکہا۔

’’سیٹھ، آپ مجھ پر بھروسہ رکھیے۔ ‘‘

یہ سن کر اس نوجوان نے جیب میں سے دو روپے نکالے اور کشوری کے ہاتھ میں تھما دیے۔

’’جاؤ عیش کرو۔ ‘‘

کشوری نے سلام کیا اور موٹر اسٹارٹ ہوئی۔ شام کے پانچ بجے تھے۔ بمبئی کے بازاروں میں گاڑیوں، ٹراموں، بسوں اور لوگوں کی آمدورفت بہت زیادہ تھی۔ سریتا خاموشی سے دو آدمیوں کے بیچ میں دبکی بیٹھی رہی۔ بار بار اپنی رانوں کو جوڑ کراوپر ہاتھ رکھ دیتی اور کچھ کہتے کہتے خاموش ہو جاتی۔ وہ دراصل موٹر چلانے والے نوجوان سے کہنا چاہتی تھی۔

’’سیٹھ جلدی جلدی موٹر چلاؤ۔ میرا تویوں دم گھٹ جائے گا۔ ‘‘

بہت دیر تک موٹر میں کسی نے ایک دوسرے سے بات نہ کی۔ موٹر والا موٹر چلاتا رہا۔ اور پچھلی سیٹ پر دونوں حیدرآبادی نوجوان اپنی اچکنوں میں وہ اضطراب چھپاتے رہے جو پہلی دفعہ ایک نوجوان لڑکی کو بالکل اپنے پاس دیکھ کر انھیں محسوس ہورہا تھا۔ ایسی نوجوان لڑکی جو کچھ عرصے کے لیے ان کی اپنی تھی یعنی جس سے وہ بلا خوف و خطر چھیڑ چھاڑ کر سکتے تھے۔ وہ نوجوان جوموٹر چلا رہا تھا۔ دو برس سے بمبئی میں قیام پذیر تھا اور سریتا جیسی کئی لڑکیاں دن کے اجالے اور رات کے اندھیرے میں دیکھ چکا تھا۔ اس کی پیلی موٹر میں مختلف رنگ و نسل کی چھوکریاں داخل ہو چکی تھیں۔ اس لیے اسے کوئی خاص بے چینی محسوس نہیں ہورہی تھی۔ حیدر آباد کے اس کے دو دوست آئے تھے، ان میں سے ایک جس کا نام شہاب تھا۔ جو بمبئی میں پوری طرح سیر و تفریح کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے کفایت نے یعنی موٹر کے مالک نے ازراہ دوست نوازی کشوری کے ذریعہ سے سریتا کا انتظام کردیا تھا۔ دوسرے دوست انور سے کفایت نے کہا کہ بھئی تمہارے لیے بھی ایک رہے تو کیا ہرج ہے۔ مگر اس میں چونکہ اخلاقی قوت کم تھی۔ اس لیے شرم کے مارے وہ یہ نہ کہہ سکا کہ ہاں بھئی میرے لیے بھی ایک رہے۔ کفایت نے سریتا کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ کیونکہ کشوری بہت دیر کے بعد یہ نئی چھوکری نکال کر لایا تھا۔ لیکن اس نئے پن کے باوجود اس نے ابھی تک اس سے دلچسپی نہ لی تھی۔ شاید اس لیے کہ وہ ایک وقت میں صرف ایک کام کرسکتا تھا۔ موٹر چلانے کے ساتھ ساتھ وہ سریتا کی طرف دھیان نہیں دے سکتا تھا۔ جب شہر ختم ہو گیا اور موٹر مضافات کی سڑک پر چلنے لگی تو سریتا اچھل پڑی۔ وہ دباؤ جو اب تک اس نے اپنے اوپر ڈال رکھا تھا، ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں اور اڑتی ہوئی موٹر نے ایک دم اٹھا دیا۔ اور سریتا کے اندر بجلیاں سی دوڑ گئیں۔ وہ سر تا پا حرکت بن گئی۔ اس کی ٹانگیں تھرکنے لگیں۔ بازو ناچنے لگے، انگلیاں کپکپانے لگیں اور وہ اپنے دونوں طرف بھاگتے ہوئے درختوں کو دوڑتی ہوئی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ اب انور اور شہاب آرام محسوس کررہے تھے۔ شہاب نے جو سریتا پر اپنا حق سمجھتا تھا۔ ہولے سے اپنا بازو اس کی کمر میں حائل کرنا چاہا۔ ایک دم سریتا کے گدگدی اٹھی۔ تڑپ کر وہ انور پر جا گری۔ اور پیلی موٹر کی کھڑکیوں میں سے دور تک سریتا کی ہنسی بہتی گئی۔ شہاب نے جب ایک بار پھر اس کی کمر کی طرف ہاتھ بڑھایا تو سریتا دوہری ہو گئی اور ہنستے ہنستے اس کا بُرا حال ہو گیا۔ انور ایک کونے میں دبکا رہا اور منہ میں تھوک پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ شہاب کے دل و دماغ میں شوخ رنگ بھر گئے۔ اس نے کفایت سے کہا۔

’’واللہ بڑی کراری لونڈیا ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے زور سے سریتا کی ران میں چٹکی بھری۔ سریتا نے اس کے جواب میں انور کا ہولے سے کان مروڑ دیا۔ اس لیے کہ وہ اس کے بالکل پاس تھا۔ موٹر میں قہقہے ابلنے لگے۔ کفایت بار بار مڑ مڑ کر دیکھتا تھا۔ حالانکہ اسے اپنے سامنے چھوٹے سے آئینے میں سب کچھ دکھائی دے رہا تھا۔ قہقہوں کے زور کا ساتھ دینے کی خاطر اس نے موٹر کی رفتاربھی تیز کردی۔ سریتا کا جی چاہا کہ باہر نکل کر موٹر کے منہ پر بیٹھ جائے جہاں لوہے کی اُڑتی ہوئی پری لگی تھی۔ وہ آگے بڑھی۔ شہاب نے اسے چھیڑا، سو سنبھلنے کی خاطر اس نے کفایت کے گلے میں اپنی باہیں حمائل کردیں۔ کفایت نے غیر ارادی طور پر اس کے ہاتھ چوم لیے۔ ایک سنسنی سی سریتا کے جسم میں دوڑ گئی اور پھاند کر اگلی سیٹ پر کفایت کے پاس بیٹھ گئی۔ اور اس کی ٹائی سے کھیلنا شروع کردیا۔

’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘

اس نے کفایت سے پوچھا۔

’’میرا نام!‘‘

کفایت نے پوچھا۔

’’میرا نام کفایت ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے دس روپے کا نوٹ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ سریتا نے اس کے نام کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور نوٹ اپنی چولی میں اڑس کر بچوں کی طرح خوش ہو کر کہا۔

’’تم بہت اچھے آدمی ہو۔ تمہاری یہ ٹائی بہت اچھی ہے۔ ‘‘

اس وقت سریتا کو ہر شے اچھی نظر آرہی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ جو بُرے بھی ہیں اچھے ہو جائیں۔ اور۔ اور۔ پھر ایسا ہو، ایسا ہو۔ کہ موٹر تیز دوڑتی رہے اور ہر شے ہوائی بگولا بن جائے۔ ایک دم اس کا جی چاہا کہ گائے، چنانچہ اس نے کفایت کی ٹائی سے کھیلنا بند کرکے گانا شروع کردیا ؂ تمہیں نے مجھ کو پریم سکھایا سوئے ہوئے ہر دے کو جگایا کچھ دیر یہ فلمی گیت گانے کے بعد سریتا ایک دم پیچھے مڑی اور انور کو خاموش دیکھ کر کہنے لگی۔

’’تم کیوں چپ چاپ بیٹھے ہو۔ کوئی بات کرو۔ کوئی گیت گاؤ۔ ‘‘

یہ کہتی ہوئی وہ اچک کر پچھلی سیٹ پر چلی گئی اور شہاب کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرنے لگی۔

’’آؤ ہم دونوں گائیں۔ تمہیں یاد ہے وہ گانا جو دیویکا رانی نے گایا تھا۔ میں بن کے چڑیا بن کے بولوں رے۔ دیویکا رانی کتنی اچھی ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر اپنی تھوڑی کے نیچے رکھ لیے اور آنکھیں جھپکاتے ہوئے کہا۔ اشوک کمار اور دیویکا رانی پاس پاس کھڑے تھے۔ دیویکا رانی کہتی تھی۔ میں بن کی چڑیا بن کے بن بن بولوں رے۔ اور اشوک کمار کہتا تھا۔ تم کہو نا۔ ‘‘

سریتا نے گانا شروع کردیا۔ میں بن کی چڑیا بن کے بولوں رے۔ شہاب نے بھدی آواز میں گایا۔

’’میں بن کا پنچھی بن کے بن بن بولوں رے۔ ‘‘

اور پھر باقاعدہ ڈؤٹ شروع ہو گیا۔ کفایت نے موٹر کا ہارن بجا کرتال کا ساتھ دیا۔ سریتا نے تالیاں بجانا شروع کردیں۔ سریتا کا باریک سر، شہاب کی پھٹی ہوئی آواز، ہارن کی پوں پوں، ہوا کی سائیں سائیں اور موٹر کے انجن کی پُھرپھراہٹ یہ سب مل جل کر ایک آرکسٹرا بن گئے۔ سریتا خوش تھی، شہاب خوش تھا، کفایت خوش تھا۔ ان سب کو خوش دیکھ کر انور کو بھی خوش ہونا پڑا۔ وہ دل میں بہت شرمندہ ہوا کہ خواہ مخواہ اس نے اپنے کو قید کر رکھا ہے۔ اس کے بازوؤں میں حرکت پیدا ہوئی۔ اس کے سوئے ہوئے جذبات نے انگڑائیاں لیں اور وہ سریتا، شہاب اور کفایت کی شور افشاں خوشی میں شریک ہونے کے لیے تیار ہو گیا۔ گاتے گاتے سریتا نے انور کے سر سے اس کا ہیٹ اتار کر اپنے سر پہن لیا اور یہ دیکھنے کے لیے کہ اس کے سر پر کیسا لگتا ہے، اچک کر اگلی سیٹ پر چلی گئی اور ننھے سے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے لگی۔ انور سوچنے لگا کہ کیا موٹر میں وہ شروع ہی سے ہیٹ پہنے بیٹھا تھا۔ سریتا نے زور سے کفایت کی موٹی ران پر طمانچہ مارا۔

’’اگر میں تمہاری پتلون پہن لوں۔ اور قمیض پہن کر ایسی ٹائی لگالوں تو کیا پورا صاحب نہ بن جاؤں؟‘‘

یہ سن کر شہاب کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے۔ چنانچہ اس نے انور کے بازوؤں کو جھنجھوڑ دیا۔

’’واللہ تم نرے چغد ہو۔ ‘‘

اور انور نے تھوڑی دیر کے لیے محسوس کیا کہ وہ واقعی بہت بڑا چغد ہے۔ کفایت نے سریتا سے پوچھا۔

’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘

’’میرا نام‘‘

سریتا نے ہیٹ کے فیتے کو اپنی ٹھوڑی کے نیچے جماتے ہوئے کہا۔

’’میرا نام سریتا ہے۔ ‘‘

شہاب پچھلی سیٹ سے بولا۔

’’سریتا تم عورت نہیں پھلجھڑی ہو۔ ‘‘

انور نے کچھ کہنا چاہا۔ مگر سریتا نے اونچے سروں میں گانا شروع کردیا۔ ؂ پریم نگر میں بناؤں گی گھر میں تج کے سب سن سا آ آر کفایت اور شہاب کے دل میں بیک وقت یہ خواہش پیدا ہوئی کہ یہ موٹر یونہی ساری عمر چلتی رہے۔ انور پھر سوچ رہا تھا کہ وہ چغد نہیں ہے تو کیا ہے۔ ؂ پریم نگر میں بناؤں گی گھر میں تج کے سب سن سا آ آر سنسار کے ٹکڑے دیر تک اڑتے رہے۔ سریتا کے بال جو اس کی چوٹی کی گرفت سے آزاد تھے۔ یوں لہرا رہے تھے جیسے گاڑھا دھواں ہوا کے دباؤ سے بکھر رہا ہے۔ وہ خوش تھی۔ شہاب خوش تھا، کفایت خوش تھا اور اب انور بھی خوش ہونے کا ارادہ کررہا تھا۔ گیت ختم ہو گیا۔ اور سب کو تھوڑی دیر کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ جو زور کی بارش ہورہی تھی۔ ایکا ایکی تھم گئی ہے۔ کفایت نے سریتا سے کہا۔

’’کوئی اور گیت گاؤ۔ ‘‘

شہاب پچھلی سیٹ سے بولا۔

’’ہاں ہاں ایک اور رہے۔ یہ سینما والے بھی کیا یاد کریں گے۔ ‘‘

سریتا نے گانا شروع کردیا ؂ مورے آنگنا میں آئے آلی میں چال چلوں متوالی موٹر بھی متوالی چال چلنے لگی۔ آخر کار سڑک کے سارے پیچ ختم ہو گئے اور سمندر کا کنارا آگیا۔ دن ڈھل رہا تھا۔ اور سمندر سے آنے والی ہوا خنکی اختیار کررہی تھی۔ موٹر رُکی۔ سریتا دروازہ کھول کر باہر نکلی اور ساحل کے ساتھ ساتھ دور تک بے مقصد دوڑتی چلی گئی۔ کفایت اور شہاب بھی اس دوڑ میں شامل ہو گئے۔ کھلی فضا میں، بے پایاں سمندر کے پاس، تاڑ کے اونچے اونچے پیڑوں تلے گیلی گیلی ریت پر سریتا سمجھ نہ سکی کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ بیک وقت فضا میں گُھل مل جائے، سمندر میں پھیل جائے، اتنی اونچی ہو جائے کہ تاڑ کے درختوں کو اوپر سے دیکھے۔ ساحل کی ریت کی ساری نمی پیروں کے ذریعے سے اپنے اندر جذب کرلے اور پھر۔ اور پھر۔ وہی موٹر ہو اور وہی اڑانیں وہی تیز تیز جھونکے اور وہی مسلسل پوں پوں۔ وہ بہت خوش تھی۔ جب تینوں حیدرآبادی نوجوان ساحل کی گیلی گیلی ریت پر بیٹھ کر بیئر پینے لگے تو کفایت کے ہاتھ سے سریتا نے بوتل چھین لیا۔

’’ٹھہرو میں ڈالتی ہوں۔ ‘‘

سریتا نے اس انداز سے گلاس میں بیئر انڈیلی کہ جھاگ ہی جھاگ پیدا ہو گئے۔ سریتا یہ تماشا دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ سانولے سانولے جھاگوں میں اس نے اپنی انگلی کھبوئی۔ اور منہ میں ڈال لی۔ جب کڑوی لگی تو بہت بُرا منہ بنایا۔ کفایت اور شہاب بے اختیار ہنس پڑے جب دونوں کی ہنسی بند ہوئی تو کفایت نے مڑ کر اپنے پیچھے دیکھا۔ انور بھی ہنس رہا تھا۔ بیئر کی چھ بوتلیں کچھ تو جھاگ بن کر ساحل کی ریت میں جذب ہو گئیں اور کچھ کفایت، شہاب اور انور کے پیٹ میں چلی گئیں۔ سریتا گاتی رہی۔ انور نے ایک بار اس کی طرف دیکھا اور خیال کیا کہ سریتا بیئر کی بنی ہوئی ہے۔ اس کے سانولے گال سمندر کی نم آلود ہوا کے مس سے گیلے ہورہے تھے۔ وہ بے حد مسرور تھی۔ اب انور بھی خوش تھا۔ اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو رہی تھی کہ سمندر کا سب پانی بیئر بن جائے اور وہ اس میں غوطے لگائے، سریتا بھی ڈبکیاں لگائے۔ دو خالیں بوتلیں لے کر سریتا نے ایک دوسرے سے ٹکرا دیں، جھنکار پیدا ہوئی اور سریتا نے زور زور سے ہنسنا شروع کردیا۔ کفایت، شہاب اور انور بھی ہنسنے لگے۔ ہنستے ہنستے سریتا نے کفایت سے کہا۔

’’آؤ موٹر چلائیں۔ ‘‘

سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ خالی بوتلیں گیلی گیلی ریت پر اوندھی پڑی رہیں اور وہ سب بھاگ کر موٹر میں بیٹھ گئے۔ پھر وہی ہوا کے تیز تیز جھونکے آنے لگے۔ وہی مسلسل پوں پوں شروع ہوئی اور سریتا کے بال پھر دھوئیں کی طرح بکھرنے لگے۔ گیتوں کا سلسلہ پھر شروع ہوا۔ موٹر ہوا میں آرے کی طرح چلتی رہی۔ سریتا گاتی رہی۔ پچھلی سیٹ پر شہاب اور انور کے درمیان سریتا بیٹھی تھی۔ انور اونگھ رہا تھا۔ سریتا نے شرارت سے شہاب کے بالوں میں کنگھی کرنا شروع کی۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سو گیا، سریتا نے جب انور کی طرف رخ کیا تو اسے ویسا ہی سویا ہوا پایا۔ ان دونوں کے بیچ میں سے اٹھ کر وہ اگلی سیٹ پر کفایت کے پاس بیٹھ گئی اور آواز دبا کر ہولے سے کہنے لگے۔ آپ کے دونوں ساتھیوں کو سُلا آئی ہوں۔ اب آپ بھی سو جائیے۔ ‘‘

کفایت مسکرایا۔

’’پھر موٹر کون چلائے گا۔ ‘‘

سریتا بھی مسکرائی۔

’’چلتی رہے گی۔ ‘‘

دیر تک کفایت اور سریتا آپس میں باتیں کرتے رہے۔ اتنے میں وہ بازار آگیا۔ جہاں کشوری نے سریتا کو موٹر کے اندر داخل کیا تھا۔ جب وہ دیوار آئی جس پر

’’یہاں پیشاب کرنا منع ہے‘‘

کے کئی بورڈ لگے تھے۔ تو سریتا نے کفایت سے کہا۔

’’بس یہاں روک لو۔ ‘‘

موٹر رُکی۔ پیشتر اس کے کہ کفایت کچھ سوچنے یا کہنے پائے۔ سریتا موٹر سے باہر تھی اس نے اشارے سے سلام کیا اور چل دی۔ کفایت ہینڈل پر ہاتھ رکھے غالباً سارے واقعہ کو ذہن میں تازہ کرنے کی کوشش کررہا تھاکہ سریتا کے قدم رُکے۔ مڑی اور چولی میں سے دس روپے کا نوٹ نکال کر کفایت کے پاس سیٹ پر رکھ دیا۔ کفایت نے حیرت سے نوٹ کی طرف دیکھا اور پوچھا۔

’’سریتا یہ کیا؟‘‘

’’یہ۔ یہ روپے میں کس بات کے لوں؟‘‘

کہہ کر سریتا پُھرتی سے دوڑ گئی اور کفایت سیٹ کے گدے پر پڑے ہوئے نوٹ کی طرف دیکھتا رہ گیا۔ اس نے مڑ کر پچھلی سیٹ کی طرف دیکھا۔ شہاب اور انور بھی نوٹ کی طرح سو رہے تھے۔

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں