شاہ دولہ کے چوہوں کی حقیقت

شاہ دولہ

آپ نے شاہ دولہ کے چوہوں کا نام تو سنا ہوگا جن کے سر چھوٹے ہوتے ہیں اور منہ بڑا ہوتا ہے۔ یہ اکثر گلی اور بازاروں میں بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مجھے یاد ہے جب میں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے ماموں کے گھر جاتی تھی ۔ شام کے وقت کزنز کے ساتھ  گھر کے باہر روزانہ کھیلا کرتی تھی ایک دن جب ہم معمول کے مطابق گھر کے باہر کھیل میں مصروف تھے۔

اچانک سبز رنگ کے چوغے میں چھوٹے سر والا  ایک شاہ دولے کا چوہا آگیا۔ اس کے ساتھ ایک انتہائی موٹا شخص تھا  جو خود چلنے سے بیزار تھا  اور شکل سے ہی خوفناک لگ رہا تھا۔ اس شخص نے شاہ دولہ کے چوہے کا بازو پکڑا ہوا تھا۔

گلی میں داخل ہوتے ہی اس نے شاہ دولہ کے چوہے کا بازو چھوڑ دیا بازو چھوٹتے ہی شاہ دولہ ہماری طرف بڑھا  ہم بچے چیختے ہوئے اس سے ڈر کر ہوئے گھر کے اندر دوڑ گئے اور وہ دوڑ گھر کی چھت پر جاکر ختم ہوئی۔

میں نے اس دن  پہلی بار کسی شاہ دولہ کو دیکھا تھا ۔ میں بار بار چھت کے جنگلے سے باہر گلی میں چھپ کر دیکھنے لگی کے وہ چلا گیا ہے یا نہیں ؟ جب تسلی ہو گئی کی شاہ دولہ کا چوہا چلا گیا ہے پھر ہم بچے نیچے آئے۔

 اس شاہ دولہ کا اتنا خوف تھا کی ہم بچوں نے کئی دن تک  گلی میں کھیلنا چھوڑ دیا۔ پھر میری ممانی نے ہم بچوں کو یہ کہہ کر خوف دور کرنے کی کوشش کی کہ وہ تو صرف پیسے مانگنے آتے ہیں انھوں نے کھانا خریدنا ہوتا ہے ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ اللہ نے ان کو ایسا بنایا ہے۔

لیکن جب ہم بڑے ہوئے تو ان شاہ دولہ کے چوہوں کے بارے میں عجیب سی ناقابل یقین باتیں سنی ۔ کچھ دن پہلے میرے دفتر میں ان کا ذکر ہوا اس دن میں نے شاہ دولہ کے متعلق ایسے باتیں سنی جس نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ پھر میرے اندر تجسس پیدا ہوا کہ آخر

یہ شاہ دولہ کیسے بنتے ہیں؟

یہ کون ہوتے ہیں ؟

 یہ کہاں سے آتے ہیں ؟ 

پاکستان کے شہر گجرات میں ایک بزرگ کے مزار سے وابستہ روایات صدیوں سے مشہور ہے کہ اگر یہاں پر بے اولاد جوڑا دعا مانگے تو اس کے ہاں اولاد ضرور ہوتی ہے۔ یہ مزار حضرت سید کبیرالدین شاہ دولہ دریائی گنج بخش کا ہے جو شاہ دولہ کے نام سے مشہور ہیں۔

شاہ دولہ
فوٹو فائل

اس سے جڑی کئی باتیں لوگوں کے لیے حیران کن ہے روایات کے مطابق حضرت شاہ دولہ دریائی روحانی پیشوا تھے اگر انہیں اپنے زمانے کا ایک معروف سماجی کارکن کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

شاہ دولہ کے مزار پر صرف بے اولاد ہی نہیں آتے بلکہ ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ یہاں معذور بچوں کی معذوری بھی دور ہو جاتی ہے۔ مزار پر جلنے والے چراغوں میں رکھا ہوا تیل اگر معذور بچوں کو لگایا جائے تو وہ صحت یاب ہو جاتے ہیں اور ان کی معذوری ختم ہوجاتی ہے۔ یہاں کے عقیدت مندوں کا کہنا ہے کہ یہاں آنے والے اکثر سوالی جھولی بھر کرہی واپس جاتے ہیں۔

یہ دنیا ایسے ایسے پراسرار رازوں کی حامل ہے کہ کئی واقعات نظر کے سامنے آنے پر بھی ہمیں سمجھ نہیں آتے۔ کئی واقعات بس باتیں لگتی ہیں ہماری سمجھ سے بالاتر کے رازوں میں سے ایک راز دولے شاہ کے چوہے بھی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ یہ شاہ دولہ کہاں سے آتے ہیں اور ان کا پس منظر کیا ہے

ان کو شاہ دولہ کا چوہا کیوں کہا جاتا ہے ؟

شاہ دولہ کے چوہے کیسے پیدا ہونا شروع ہوئے؟

شاہ دولہ
فوٹو فائل

ایک مرتبہ کسی علاقے کی مہارانی شاہ دولہ خدمت کی میں حاضر ہوئے اور کہا میرے پاس اللہ کی  ہر نعمت دنیاوی دولت ہے حکومت ہے شہرت ہے لیکن خدا نے مجھے اولاد سے محروم رکھا ہوا ہے دعا کی طالب ہو اللہ مجھ پر رحم فرمائے اور میری حاجت روائی کرے۔

شاہ دولہ نے کہا خاتون تمہاری دعا کو قبول ہو جائے گی لیکن اس کے لیے ایک شرط تمہیں قبول کرنا ہوگی عورت نے عرض کیا کیا شرط ہے شاہ دولہ نے کہا جو تمہاری پہلی اولاد پیدا ہوگی وہ تمہیں ہمارے لیے  وقف کرنی ہوگی۔

عورت شاہ دولہ کی یہ شرط مان گئی۔ اور اس نے وعدہ کرلیا کہ وہ ایسا ہی کرے گی۔

عورت کچھ دن بعد حاملہ ہو گئی اور اللہ نے اس کو بیٹا عطا کیا اس بچے کا سر عام بچوں سے قدرے چھوٹا تھا اس عورت کے دل میں خیال آیا کہ ایک اولاد پیدا ہوئی ہے آئندہ کیا پتہ کوئی اولاد ہو نہ ہو یہ اکلوتا بچہ ہے میں کیسے اس کو درگاہ پہ چھوڑ آؤں۔

عورت کئی دن تک یہ ہی سوچتی رہی لہذا اس نے یہ فیصلہ کر لیا کہ بچے کی ولادت کو ظاہر نہیں کرے گی اور اس بات کو راز رکھے گی۔

لہٰذا اس عورت نے ایسا ہی کیا ایک رات عورت کے خواب میں شاہ دولہ دریائی آئے اور انہوں نے عورت سے کہا خاتون تم نے وعدہ خلافی کی ہے تم نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔

عورت نے کہا اللہ نے مجھے ایک ہی بیٹا دیا ہے میں اس کو اپنے سے کیسے جدا کرو شاہ دولہ  نے کہا یہ بچہ چھوٹے سر کا ہے اس کا سرعام سروں سے چھوٹا ہے اس کے سر سے عقل سلب کر لی گئی ہے۔

یہ سن کرعورت خواب سے اٹھ گئی اور وہ صبح ہوتے ہی بچے کو ڈاکٹر اور حکیموں کے پاس لے گئی سب نے ایک ہی جواب دیا یہ بچہ صحیح نہیں ہو سکتا۔

اب اس عورت کو شدید فکر ہوئی اور وہ فورا شاہ دولہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا میں اپنا بیٹا آپ کی درگاہ پر چھوڑ رہی ہوں،

یہ سن کر شاہ دولہ دریائی نے کہا تمہیں شیطان نے غافل کر دیا تھا مگر خدا نے کرم کیا اور تم بچہ لے کر یہاں آ گئی اب تم بچہ چھوڑو اور چلی جاؤ۔

اس کے بعد اس عورت کے ہاں تین بچوں کی پیدائش ہوئی جو جسمانی اور ذہنی طور پر بالکل تندرست تھے۔

اس کے بعد آج تک یہ معمول بن گیا ہے کہ بے اولاد لوگ منت کے لیے یہاں آتے ہیں اور منت پوری ہونے پر اپنی پہلی اولاد مزار پر چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ بچے شاہ دولہ کے چوہے کہلاتے ہیں یہ سلسلہ ابھی تک ایسے ہی جاری ہے۔

شاہ دولہ
فوٹو فائل

یوں جہالت اور اندھے عتماد کی وجہ سے انسانیت کی تنزلیل کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ شاہ دولہ نے معذور بچوں کی پرورش کے لیے ادارہ بنایا تھا۔ لہذا وقت کے ساتھ ساتھ حقائق گم ہوتے جارہے ہیں اور روایات پھیلتی جا ریی ہیں۔

شاہ دولہ کے چوہوں کا آخری وقت

شاہ دولہ کے چوہوں کے بارے میں ایک بات یہ بھی مشہور ہے کہ جب ان کا آخری وقت آ جاتا ہے تو ان کو معلوم ہو جاتا ہے اور ان کو ایک خالی کمرے میں بند کرکے باہر سے تالا لگا دیا جاتا ہے۔

اور چند دن بعد جب تالا کھولا جاتا ہے تو کمرہ خالی ہوتا ہے۔ کمرے میں بند کیے جانے والا شاہ دولہ کا چوہا نہ جانے کہاں چلا جاتا ہے۔

اسی لیے چند لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ان کا نماز جنازہ نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے علم دین کا کہنا ہے کہ یہ بالکل بنائی ہوئی باتیں ہیں ایسا کچھ نہیں ہوتا کوئی غائب نہیں ہوتا یہ سب کچھ جھوٹ پر مبنی ہے۔

عالم دین کا کہنا ہے کہ اس دنیا میں جو بھی انسان آیا ہے اور وہ مسلمان ہے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔

لہذا کہاں غائب ہو جانا یہ سب کو جاہل لوگوں کو گمراہ کرنے والی باتیں ہیں۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مزار پر لائے بچوں کے سر پر لوہے کی ٹوپی پہنا دی جاتی تاکہ دماغ کی نشو نما روکی جاسکے۔  یہ بچے نارمل زندگی گزار کے قابل نہیں رہتے اس طرح ساری زندگی مزار کے لیے بھیک مانگتے ہیں اور مزار کی آمدنی کا بڑا زریعہ ہیں۔

شاہ دولہ
فوٹو فائل

آج بھی مزار پر دس ہزار کے لگ بھگ دولے شاہ کے چوہے موجود ہیں اور سینکڑوں ہٹے کٹے صحت مند اور نوجوان ان کی کمائی پر موج میلا کر رہے ہیں۔

آج تک کسی حکومت نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور آئندہ بھی حکومت سے ایسی کوئی امید نہیں ہے ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں