گلوکارہ میشا شفیع اور علی ظفر کا تنازع سپریم کورٹ پہنچ گیا

سپریم کورٹ

لاہور: گلوکارہ میشا شفیع نے اپنے کیس کا فیصلہ 90 روز میں سنانے کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔

میشا شفیع کے وکیل کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہےکہ ٹرائل کورٹ نے گواہوں پر جرح مؤخر کرنے کی اجازت نہیں دی، ٹرائل کورٹ نے کہا گواہوں پر جرح بیان کے فوری بعد ہوگی۔

درخواست میں کہا گیا ہےکہ گواہوں پر جرح کرنا بنیادی قانونی حق ہے، گواہوں کو جانے بغیر صرف ان کے بیان کی بنیاد پر جرح کرنا ممکن نہیں، گواہ پیش کرنا ایک فریق اور اس پر جرح دوسرے فریق کا حق ہے۔

درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا ہےکہ لاہور ہائی کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی توثیق کی، قانونی حکمت عملی سامنے آنے سے مقدمہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے، سپریم کورٹ گواہان پر جرح کی اجازت دیتے ہوئے ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دے۔

میشا شفیع کے علی ظفر پر الزامات، عدالت نے ثبوت مانگ لیے

واضح رہے کہ لاہور کی سیشن کورٹ نے کیس کا فیصلہ 15 اپریل تک سنانے کا حکم دیا تھا تاہم گلوکارہ نے سیشن کورٹ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جس پر عدالت عالیہ نے مقدمے کو 90 روز میں نمٹانے کا حکم دیا تھا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں