ماں رحمت و شفقت کا استعارہ

کسی علاقہ میں زلزلہ آیا تو پورا علاقہ اتھل پھتل ہوگیا علاقہ برسوں ویران کنڈرات کی منظر کشی کر رہا تھا زلزلے کے بعد دسواں دن تھا زخمیوں اور شہداء کی کھوج جاری تھی کہ متلاشیوں نے دل دہلا دینے والا ایک منظر دیکھا کہ ایک زمین بوس ہو جانے والے گھر میں ایک ستون کے اوٹ میں ایک ماں اپنے بچے سے اس طرح لپٹی ہوئی تھی کہ اس کے ہاتھوں کی انگلیوں کے تمام پورے کٹے ہوئے تھے اور ایک کٹی انگلی بچے کے منہ میں تھی اور ماں کا مرغ روح قفس عنصری سے پرواز کرگیا تھا لیکن بچہ اب تک زندہ تھا .

ماہر ڈاکٹروں نے اس ماں کی دردناک موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور پوسٹ مارٹم کرتے کرنے کا فیصلہ کیا جب پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ منظر عام پر آئی تو وہ کچھ یوں تھی کہ:” زلزلے کے تین چار دن بعد غذا نہ ہونے کی وجہ سے ماں کی چھاتیاں خوش ہو گئی تو ماں نے اپنی انگلیوں کے پوروں پر چرکے لگا کر بچے کو اپنے جگر کے لہو سے پلانا شروع کر دیا۔

خون کے زیادہ بہاؤ اور جسم میں غذائی قلت کی وجہ سے جلد ہی ماں کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا لیکن اس نے اپنے جگر کے لہو سے بچے کو بچا لیا اور اس خیال و ظن کی تائید کی کہ ماں محبت و آشتی رحمت و شفقت کا استعارہ ہوتی ہے”۔

تابش نے کیا خوب کہا تھا:
ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے ایک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
قارئین
میں نے اپنے قلم کو ہمیشہ ماں کے متعلق لکھنے کے معاملے میں بہت کم ہمت پایا ہے لیکن اس کی ایک عادت مجھے بہت اچھی لگی کہ جب بھی ماں کے متعلق لکھنے کا ارادہ کرتا ہوں تو اس کے پیشانی پر ایک مضمحل سا رس دکھنے لگتا جو یقینا اس کی طرف سے اپنی کم مائیگی کا اعتراف ہوتا ہے۔

میرا قلم ماں کی ممتا کو سطح قرطاس پر اتارنے سے ہمیشہ قاصر رہتا ہے یا الفاظ کی کم ظرفی خیالات کو رندہ لگا کر بالکل چھوٹا کر دیتی ہے جس سے جذبات کی پوری ترجمانی نہیں ہوپاتی الفاظ کی یہ کمزوری دیکھ کر اس پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔

ماں کی رحمت و شفقت اور غم وکرب نشاط وطرب رونا ہنسنا رونا اور جینا مرنا سب کچھ اولاد کی خاطر ہوتا ہے۔
ماں کا اپنی راحت کو قربان کرکے بچوں کو راحت پہنچانا بچوں کے دکھ درد کی وجہ سے پہروں رونا یا پھر سکول جانے کے لئے بچوں کے گھر سے نکلتے وقت ایک نصیحت کو بار بار دہرانا باوجود اپنی کم فہمی کے دنیا کے ایچ پیچ سمجھانا چہرہ شناسی اور سینہ تراشی کے فن سے روشناس کرانا اپنے کانپتے ہوئے ہونٹوں کو اپنے پلو سے چھپانا اور اپنے دل پر پتھر رکھ کر اپنے لخت جگر کو اپنے سے جدا کرنے کی اجازت دینا یہ سب ماں کی اس رحمت و شفقت کی ایک جھلک ہےجس سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ پاک کی رحمت و شفقت کا موازنہ کرتے ہوئے فرمایا “اللہ تعالی اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت فرماتے ہیں” {مفہوم حدیث}

ماؤں کا عالمی دن— اے مری ماں مرا سارا مقام تم سے

ماں کا یہ مقام دیکھتا ہوں تو دل باغ باغ ہو جاتا ہے لیکن جب اپنے اردگرد اس عظیم ہستی کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا مشاہدہ کرتا ہوں تو رگوں میں چنگاریاں دوڑنے لگتی ہیں حلق خشک ہونے لگتا ہےاور رواں رواں کانپ اٹھتا ہے سوچتا ہوں کہ ماں کے ساتھ رکھے جانے والے ان رویوں سے عرش بھی لرزتا ہوگا لیکن کیا کروں بے بسی کے عالم میں حسرت کی تصویر بن کر اس ننگے ظلم و ستم کو کسی کڑوی دوا کی طرح پی جاتا ہوں پھر دل میں ہوک اٹھتی ہے کہ کاش کوئی اس اندھیری رات کو صبح جانفزا کا روشن چہرہ دکھائے جلد ہی نظر ایک بوریا نشین کی طرف اٹھ جاتی ہے جو صبح شام گرمی سردی بہار خزاں امن بدامنی قانون اور نراج تمام حالات میں دین کے شجرۂ طیبہ کی تمام شاخوں کوسرسبزوشاداب رکھنے کی کوشش کرتا ہےکاش کہ اس کی نظر اس خشک شاخ کی طرف بھی ہو جائے جو اس درخت کی رعنائیوں اور دلفریبیوں کو داغدار کیے ہوئے ہیں۔

  محمد سرور بن انور شاہ

(Visited 5 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں