جے یو آئی کی ملک بھر کی شاہرائیں بند کرنے کی تیاریاں

جے یو آئی

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ کا آج 14 واں روز ہے اور شرکاء اسلام آباد کے ایچ 9 گراؤنڈ میں موجود ہیں۔

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان سے فوری مستعفی ہونے اور نئے انتخابات سمیت دیگر مطالبات کر رکھے ہیں تاہم حکومت اور اپوزیشن میں وزیراعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

گزشتہ روز شرکاء سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے پلان بی پر عمل درآمد کا اعلان کرتے ہوئے کارکنوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی ہدایت کی تھی۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ کے پلان بی کے تحت ملک کے مختلف شہروں کو بند کیا جائے گا۔

آزادی مارچ آج ختم ہونے کا امکان

ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جے یو آئی ف کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس ہوا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ اجلاس میں پشاور موڑ پر جاری آزادی مارچ کا دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور جے یو آئی (ف) کا دھرنا آج سے ملک بھر میں پھیل جائے گا۔

ذرائع کے مطابق جے یو آئی ف کے مشاورتی اجلاس میں تمام صوبائی امراء نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبے میں سڑکیں اور شاہراہیں بند کریں گے۔

جے یو آئی ف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہمارا پلان بی پلان اے سے بھی زیادہ شدید ہو گا اور ہم نے شہروں کو بند کرنے کے لیے موٹر وے اور نیشنل ہائی ویز کی نشاندہی بھی کر لی ہے۔

ذرائع کے مطابق 14 روز سے اسلام آباد کے ایچ نائن گراؤنڈ میں موجود جے یو آئی ف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں نے اپنے خیمے لپیٹنا شروع کر دیئے ہیں۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ دھرنے کی جگہ سے اٹھنے کے بعد جے یو آئی کے کارکن اپنے گھروں پر نہیں جائیں گے بلکہ ان کی جماعت نے ملک کو بند کرنے کے لیے جن شاہراؤں کی نشاندہی کی ہے وہ ادھر پہنچیں گے۔

فضل الرحمان کا کارکنوں کو پنڈال میں پہنچنے کا حکم

جمعیت علمائے اسلام ف کے سینیٹر مولانا عطاء الرحمان نے تمام کارکنوں سے فوری طور پر آزادی مارچ کے پنڈال میں پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان بہت اہم اعلان کریں گے، کارکنان تمام کام چھوڑ کر پنڈال میں پہنچ جائیں۔

پلان بی پر عمل درآمد شروع

چمن: جے یو آئی (ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں نے آزادی مارچ کے پلان بی پر عمل درآمد کرتے ہوئے کوئٹہ چمن شاہراہ سید حمید کراس کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

خیال رہے کہ کوئٹہ چمن شاہراہ کے ذریعے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو سپلائی ہوتی ہے۔

دونوں جماعتوں کے کارکنوں نے رکاوٹیں کھڑی کر کے سید حمید کراس کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے جس کے باعث سینکڑوں مسافر گاڑیاں پھنس گئی اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

صوبائی امیرجے یوآئی ف مولانا عبدالواسع کا کہنا ہے کہ احتجاج کے پلان بی پر بلوچستان میں عملدرآمد شروع کر دیا ہے، پلان بی کے تحت کوئٹہ چمن شاہراہ سید حمید کراس کو ٹریفک کے لیے بند کیا ہے۔

دوسری جانب لیویز کی بھاری نفری شاہراہ کھلوانے کے لیے موقع پر پہنچ گئی ہے اور شاہراہ کو کھلوانے کے لیے ان کے مظاہرین سے مذاکرات جاری ہیں۔

ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے کوئٹہ چمن شاہراہ بند ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ کو موقع پر بھجوا دیا جو مظاہرین سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے ہم نے بلوچستان سے جے یو آئی کےلانگ مارچ میں رخنہ نہیں ڈالا، جے یو آئی کی ریلیوں کو بلوچستان سے جانے کی اجازت دی گئی لیکن کوئٹہ چمن شاہراہ کو بند کرنے سےعوام کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں، شاہراہ بلاک کرنے والوں سےگزارش ہےکہ ایسانہ کریں اور عوام کے لیے مشکلات پیدا نہ کی جائیں۔

(Visited 20 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں