معجزوں کا معجزہ..!

قرآن کریم کے حقوق
Loading...

مغربی دنیا کی جانب سے توہین قرآن کے پے در پے واقعات کا بہترین جواب بجائے توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور مظاہروں کے، زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ ہم عظمتِ قرآنی کو اپنی اپنی بساط کے مطابق واضح اور بیان کریں۔

پہلے لفظ معجزہ پر بات ہوجائے اور یقین مانیے کہ اگر صرف اس ایک لفظ کو کھولا جائے اور پوری طرح اس کی وضاحت کی جائے تو اس بلاگ کے الفاظ کی مقررہ حد ختم ہوجائے گی اور بات پھر بھی تشنہ رہ جائے گی۔ اس لیے صرف لغوی معنی پر اکتفا کرتے ہیں کہ معجزہ کا مطلب ہوتا ہے عقل کو عاجز کر دینے والی چیز۔ ایسا کوئی مظہر جو عقل، معلومہ علوم و منطق اور مادی قوانین سے بالاتر حیثیت کا حامل ہو۔ تو قرآن پاک، جس کی کچھ متعصب لوگ، جو ویسے تو دنیا بھر میں انسانی حقوق کے بڑے علمبردار بنے پھرتے ہیں لیکن دانستہ اور اعلانیہ توہینِ قرآن کرنے کی جسارت کرکے اربوں مسلمانوں کا دل جلاتے اور انہیں تکلیف دیتے ہیں، ایک ایسا زندہ معجزہ ہے جو ہر پہلو سے عقل و شعور کو دنگ کر دیتا ہے۔

برسبیل تذکرہ ڈاکٹر گیری ملر (Gary Miller) کینیڈا کے ریاضی دان اور اک پرجوش عیسائی مشنری تھے۔ ریاضی کے ذریعے کسی بھی چیز کا منطقی یا غیر منطقی ہونا ثابت کیا جاسکتا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے انہوں نے قرآن مجید میں خامی ڈھونڈنا شروع کی۔ مقصد یہ تھا کہ اس سے عیسائیت کی تبلیغ میں مدد ملے گی۔ لیکن جب انہوں نے قرآن مجید پر تحقیق کی تو نتائج بالکل برعکس نکلے۔ گیری قرآن مجید میں کوئی بھی خامی ڈھونڈنے میں ناکام رہے اور بالآخر قرآنی تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا اور عیسائیت کے بجائے اسلام کے مبلغ بن گئے۔ ان کے مختلف لیکچرز مختلف ویب سائٹس پر موجود ہیں۔

اب آئیے ایک اور حیرت انگیز بات کی طرف۔ انیس (19) کے عدد اور قرآن پاک میں ایک حیرت انگیز سا ربط موجود ہے۔ اس دریافت کا سہرا مصر کے پی ایچ ڈی ڈاکٹر راشد خلیفہ کے سر ہے، جو ایک امریکن یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر تھے۔ 1968 میں انہوں نے قرآن پاک کے مکمل متن کو کمپیوٹر پر منتقل کیا اور سیکوینس اینڈ سیریز کے ریاضیاتی اصولوں پر اس کے متن میں کوئی حسابی ربط تلاش کرنے کی کوشش شروع کی۔ ابتدا میں وہ اکیلے ہی جانبِ منزل چلے تھے مگر پھر کارواں بنتا گیا اور یہ کام ایک گروپ اسٹڈی میں تبدیل ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ 1972 میں یہ ایک پورا اسکول بن گیا جو اسی موضوع پر تحیقق کے دیے جلانے میں جٹا ہوا تھا۔

جیسے جیسے ریسرچ کا یہ کام آگے بڑھا ان پر کلام پاک کی اعجاز آفرینی کھلنا شروع ہوئی اور کتاب عظیم کے حروف و الفاظ میں انہیں ایسے روابط اور ایسی تراتیب نظر آئیں جو حیرت انگیز تھیں۔ ان ہی میں سے ایک 19 کا عدد بھی ہے۔ انیس کا لفظ قرآن پاک میں سورۃ مدثر میں آیا ہے، جہاں اللہ پاک نے فرمایا:
’’ہم نے دوزخ پر انیس محافظ فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے‘‘۔

Loading...

قرآن پاک کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا ہے اور بسم اللہ الرحمان الرحیم کے کل حروف انیس ہیں۔ پھر دیکھیں کہ بسم اللہ الرحمان الرحیم میں چار الفاظ ہیں۔ پہلا لفظ اسم ہے جو پورے قرآن میں 19 مرتبہ استعمال ہوا ہے، دوسرا لفظ الرحمان ہے جو 57 مرتبہ استعمال ہوا ہے جو (3×19) کا حاصل ہے۔ تیسرا لفظ الرحیم ہے جو 114 مرتبہ آیا ہے جو (6×19) کا حاصل ہے۔ چوتھا لفظ اللہ جو 2699 مرتبہ پورے قرآن پاک میں آیا ہے، جو (142×19) کا حاصل ہے۔ لیکن یہاں ایک باقی بچتا ہے جو خدا کی وحدانیت اور ایک ہونے پر مشیر ہے۔ قرآن پاک کی کل سورتیں 114 ہیں جو (6×19) کا حاصل ہے۔ سورۃ توبہ کے آغاز میں بسم اللہ نہیں ہے، لیکن سورہ نمل کی آیت نمبر تیس میں مکمل بسم اللہ نازل کرکے گویا اس 19 کے ربط کے فارمولے کی توثیق کی گئی ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ فارمولا فیل ہوجاتا۔

اسلام نے حرام سے منع اور حلال کھانے کا حکم کیوں دیا ہے؟

اب آئیے نبی کریمؐ پر اترنے والی پہلی وحی کی جانب۔ یہ سورۃ علق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں، جن کے کل الفاظ 19 اور کل حروف 76 ہیں، جو (4×19) کا حاصل ہیں۔ مزید یہ کہ مکمل سورۃ علق کے کل حروف کی تعداد 304 ہے، جس کے اجزائے ضربی 4x4x19 بنتے ہیں اور 19 موجود ہے۔ قرآن پاک کی نازل ہونے والی یہ پہلی سورۃ علق اس کتاب مقدس کی ترتیب کے لحاظ سے 96 ویں سورۃ ہے۔ اگر آخری سورۃ والناس سے اس کی جانب آئیں تو اس کا نمبر 19 بنتا ہے اور اگر ابتدا سے دیکھیں تو اس سے پہلے کی سورتیں ہیں 95، جو (5×19) کا حاصل ہے۔ اب نزول کے اعتبار سے قرآن پاک کی سب سے آخری سورۃ نصر ہے اور یہاں بھی 19 کا نظام موجود ہے کہ یہ سورۂ مبارکہ ٹھیک انیس الفاظ پر مشتمل ہے۔ یوں نازل ہونے کی ترتیب سے کلام پاک کی پہلی اور آخری سورۃ ایک خاص حسابی ربط اور قاعدے سے نازل شدہ ہیں، جن میں 19 کے عدد کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

ابھی تو بہت سی ایسی ہی عقل کو دنگ کردینے والی باتیں اور حقائق قرآن پاک میں موجود ہیں جنہیں آپ مروجہ عصری سائنسی علوم کے کسی بھی پیمانے پر بلاجھجک پرکھ سکتے ہیں اور کوئی غلطی کبھی نہیں نکال سکتے۔ جاتے جاتے صرف یہ کہنا ہے کہ یہ کتاب ساری انسانیت کےلیے ایک امانت کا درجہ رکھنے والی آزاد کتاب ہے اور ساری انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے اور دنیا کے ہر اس شخص کےلیے امانت ہے جس نے اس کے نزول کے بعد آنکھ کھولی یا مستقبل میں کھولے گا، لیکن اس کے اصل وارث وہ لوگ ہیں جو تحقیق، جستجو، تدبر، تفکر کا مزاج رکھنے والے ہوتے ہیں اور جنہیں خدا کی طرف سے عقل سلیم، شعور اور کمالِ علم عطا کیا جاتا ہے۔ تو ایسی لاثانی و عدیم النظیر کتاب، ایسے قیامت تک باقی رہنے والے زندہ و تابندہ معجزے کا احترام کرنا ہر شخص کےلیے کیا ضروری نہیں ہے؟ چاہے وہ کسی بھی عقیدے یا مذہب کا پیروکار ہو۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

(Visited 585 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں