جاگ میرے بزدار کہ پاکستان چلا…

بزدار

لاہور کے پی آئی سی میں جو ہوا، نہیں ہونا چاہیے تھا۔ کالے اور سفید کوٹ کی لڑائی میں جیل روڈ میدان جنگ بنا رہا۔ ایسے لگ رہا تھا کہ قانون کے رکھوالوں کا کالا پن جیسے پورے جوبن سے باہر نکل آیا ہو۔ انتظامی مشینری غائب تھی۔ کہیں کہیں کوئی پولیس والا نظر آرہا تھا۔ جو موجود تھے وہ کالے کوٹ والوں سے اپنی مرمت کروارہے تھے۔

حیرت کا مقام یہ ہے کہ یہاں پڑھے لکھے لوگ گتھم گتھا تھے، جن کو جاہل تو نہیں پڑھا لکھا جاہل کہنا بجا ہوگا۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ بہترین لباس پہنے ”لنڈے کے انسان“ موجود تھے۔ ایک اَن پڑھ لاعلمی میں غلطی کرتا ہے اور ایک پڑھا لکھا آدمی پوری منصوبہ بندی سے گل کھلاتا ہے۔

ملک کے اثاثہ جات کو ایسے جلایا جارہا تھا جیسے ان کے باپ دادا کی جائیداد ہو۔ صوبائی وزیر فیاض چوہان نے جلتی پر تیل کا کام کیا تو ان کا حال سب نے سرعام دیکھا۔ عوام ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے تو وارڈن حضرات ایک کونے میں دبکے رہے۔

احتجاج کرنے والوں نے احتجاج کرنا ہے، ریاست کیوں غائب ہے؟ یہاں کوئی قانون ہے یا نہیں؟ مشاہدے کی بات ہے کہ یہ ”کالے“ اپنے آپ کو ملک کا مالک اور عوام کو رعایا سمجھتے ہیں۔ کھل کے کہا جائے تو فرعونیت ان کے رویوں سے جھلکتی ہے۔ ایک آدمی کو مقدمہ درج کروانے سے فیصلہ آنے تک دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتا ہے۔ ہمارا عدالتی نظام بھی ایسا ہے کہ ایک عام مقدمے کا فیصلہ آنے تک صاحب حیثیت بندہ بھی گھر سے فٹ پاتھ پر آجاتا ہے۔

سفید وردی والے بھی آج کل کسی سے کم نہیں۔ یہ چھوٹے سے چھوٹے مریضوں کو لاوارث چھوڑ کر سڑکوں پر آجاتے ہیں۔ پی آئی سی میں ڈاکٹروں نے وکلا کو پیٹا تو یہ بھی طیش میں آئے۔ اس سارے معاملے میں انتظامیہ، حکومت کی جانب سے ویسی ہی غفلت اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا جیسے ملکی معاملات میں کیا جارہا ہے۔

نیا پاکستان انگریزوں کو تحفے میں دے دیجیے!

احتجاج ضرور کیجیے، اپنی بات منوانے کی بھرپور کوشش کیجیے۔ لیکن اتنا ضرور یاد رکھیے کہ معاشرے کا وجود جب انصاف کی چھاؤں سے محروم ہوجاتا ہے تو وہ تیزی سے گلنے سڑنے لگتا ہے۔ اور اس کی نمو کے تمام امکانات دم توڑ دیتے ہیں۔ انصاف کی عمارت کو سیاست سے خود بنانے والے ہی کھرچنا شروع کردیں تو وہ ریزہ ریزہ بن کر بکھر جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی معاشرہ بھی سسک کر دم توڑ دیتا ہے۔ دراصل یہ روشنی اور اندھیرے کی جنگ ہے۔ اندھیرا اپنے پنجے پھیلا کر روشنی کا گلا گھونٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر روشنی پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ نہیں کرے گی تو آخرکار اس کا وجود اندھیرے کی اتھاہ گہری قبر میں ڈوب جائے گا۔ خدارا! ملک میں کچھ روشنی باقی ہے تو اندھیروں کی سیاہ چادر نہ پہنائی جائے۔

وزیراعظم عمران خان اپنے وسیم اکرم پلس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ انہیں بار بار کہتے ہیں کہ اپنے نہ دکھنے والے کاموں کی تشہیر پر توجہ دو۔ یہ ہیں وہ کام جن کی تشہیر کرنا باقی ہے؟ ایک واقعے کے بعد دوسرا واقعہ ہوجاتا ہے۔ آنسو بہائے جاتے ہیں اور خاموش ہوجاتے ہیں۔ پھر دوسرے حادثے یا سانحہ کا انتظار کیا جاتا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ جاگ جائیں۔ لمبی نیند تو موت ہوتی ہے۔ اب تو حکومت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ فواد چوہدری کہتے ہیں کہ پنجاب کے سارے فنڈز ڈی جی خان میں خرچ ہورہے ہیں۔ پی ٹی آئی شمالی پنجاب کے جنرل سیکریٹری حسن مسعود ملک کہتے ہیں کرپشن کے ریٹ دگنے ہوگئے۔ فیصل آباد کا ضیا بنی گالہ کے باہر بزدار کا نوحہ لے کر پھرتا ہے۔ عوام کو ملک کے سب سے بڑے صوبے کی بدحالی نظر آرہی ہے۔ سب صوبے کو بی آرٹی پشاور بنتا دیکھ رہے ہیں۔ وزیراعظم صاحب کو کیوں ایسا لگتا ہے کہ عثمان بزدار نے وہ کام کیے جو نظر نہیں آتے؟

جاگ میرے پنجاب کہ پاکستان چلا
ٹوٹ چلے سب خواب کہ پاکستان چلا
سندھ بلوچستان تو کب سے روتے ہیں
اور اہل پنجاب ابھی تک سوتے ہیں
آنکھیں ہیں پر آب کہ پاکستان چلا
جاگ میرے پنجاب کہ پاکستاں چلا
جن کو ذات کا غم ہے کب وہ مانے ہیں
بے بس لوگوں پر بندوقیں تانے ہیں
قاتل ہیں اسباب کہ پاکستان چلا
جاگ میرے پنجاب کہ پاکستان چلا
آگ کی بارش سے ہے گلشن دھواں دھواں
روش روش اب کلیوں کی مہکار کہاں
زعم ہے یہ بلوانوں کو ہم جیتیں گے
اور کہوں میں دکھ کے یہ دن بیتیں گے
انہی چلن سے ہم سے جدا بنگال ہوا
پوچھ نہ اس دکھ سے جو دل کا حال ہوا
روکو یہ سیلاب کہ پاکستان چلا
حبیب جالب سے معذرت کے ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب کےلیے کہ جاگ میرے بزدار پاکستان چلا۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

(Visited 177 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں