مہمند ڈیم کے ٹھیکے پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے : شہباز شریف

مہمند ڈیم

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جس طریقے سے مہمند ڈیم کا ٹھیکہ دیا گیا اس پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

ملک میں مہنگائی کی شدید لہر جاری ہے اور سرکلر ڈیٹ ایک بار پھر اژدھا بن کر سر اٹھا رہا ہے۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جب ن لیگ کی حکومت آئی تو لوڈ شیڈنگ کی شدید ترین صورتحال تھی اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو رہے تھے، اس صورت حال کا کسی ایک حکومت کو اس کا ذمہ دار نہیں قرار دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے جنگی بنیادوں پر لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کیا، تین ایل این جی منصوبے لگائے گئے اور چوتھے کی بنیاد رکھی، ایل این جی منصوبوں کے ذریعے 160 ارب روپے کی بچت کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کا بحران دوبارہ سر اٹھا رہا ہے، آج لوڈ شیڈنگ کی وجہ حکومت کی نا اہلی ہے، فرنس آئل سے مہنگی بجلی پیدا کی جا رہی ہے جب کہ گیس سے بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس سے 100 فیصد بجلی حاصل نہیں کی جا رہی۔

ملک میں جاری آبی بحران کی صورت حال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے کہا کہ ڈیمز بنانا وقت کی ضرورت ہے، اور لیگی دور میں نواز شریف نے مہمند ڈیم کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے۔

مزید پڑھیں:ایون فیلڈریفرنس: نوازشریف، مریم نواز کی سزا معطلی کیخلاف نیب کی اپیل مسترد

مہمند ڈیم کے ٹھیکے کے حوالے سے صدر مسلم لیگ ن نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جس طریقے سے مہمند ڈیم کا ٹھیکہ دیا گیا اس پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ٹھیک بات ہے کہ مہمند ڈیم منصوبے کا پراسیس شروع کیا گیا لیکن ٹھیکہ پچھلی حکومت نے نہیں پی ٹی آئی کی حکومت نے دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپرا قوانین میں سنگل بڈ کی اجازت ہے لیکن ڈیم کی تعمیر میں 5 سے 6 سال لگیں گے، تو ہنگامی اقدامات کی کیاضرورت تھی؟ پراسس دوبارہ سے شروع کیا جا سکتا تھا۔

قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ ایک بڈ رہ گئی تھی اور اس کو ٹھیکہ ایوارڈ کر دیا گیا، پیپرا کی شق موجود ہے لیکن گنجائش موجود تھی کہ شفاف بڈنگ پراسیس کیا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دور میں بڈنگ پراسیس کو فالو کیا گیا، حویلی بہادر منصوبے کے لیے ایک بڈ آئی تھی لیکن ہم نے دوبارہ بڈنگ کرائی۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں