انسانوں کا گوشت اور فضلہ کھانے والے ہندو سادھو

انسانوں کا گوشت اور فضلہ کھانے والے ہندو سادھو

سوامی ناتھن نتارنجن

انڈیا کی ریاست اتر پردیس کے شہر آلہ آباد میں، جس کا حال ہی میں نام تبدیل کر کے پریاگ راج رکھ دیا گیا ہے، جب بھی کمبھ کا میلہ منعقد ہوتا ہے ہندو سادھوں کا ایک گروہ ‘اگھوری’ خبروں کی زینت ضرور بناتا ہے۔

اس گروہ میں شامل ہندو سادھو مذہبی روایت کے طور پر شمشان گھاٹوں میں جنسی فعل کرتے ہیں، مرے ہوئے انسانوں کے جسموں کا گوشت کھاتے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود عام لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان کی عقیدت مند بھی ہے۔

سنسکرت زبان میں اگھوری کا مطلب ہوتا ہے کوئی ایسی شے جس سے خوف محسوس نہ ہوتا ہو۔ لیکن اگھوری سادھوؤں سے ان کی عجیب و غریب مذہبی رسومات اور حرکتوں کی بنا پرعام لوگ کراہیت بھی محسوس کرتے ہیں اور خوف بھی۔ ان کے عقیدت مندوں کی بھی کمی نہیں ہے لیکن ان کے بارے میں لوگوں کو تجسس بھی خوب رہتا ہے۔

روحانی سفر
لندن میں قائم افریقہ اور مشرق کے علوم کے ادارے سواس میں سنسکرت اور قدیم انڈیا سڈیز کے استاد ڈاکٹر جیمز میلنسن کے مطابق اگھوری سادھوؤں کی رسومات اس بنیادی عقیدے پر قائم ہیں کہ روحانی طور پر خدا کے قریب تر ہونے کے لیے دنیاوی بندشوں سے آزاد ہونا ضروری ہے۔

لندن کے اعلی ترین تعلیمی ادارے ایٹن اور اوکسفرڈ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ڈاکٹر میلنسن بھی ایک ’گرو‘ ہیں جن کا تعلق ایک ایسے مذہبی گروہ سے ہے جو انتہائی سادہ زندگی بسر کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

ان کا گروہ مرکزی دھارے یا اکثریتی عقائد سے قریب تر ہے اور اگھوری سادھوؤں کے رسم اور رواج کی نفی کرتا ہے۔

اگھوری سادھوں کا عقیدہ ہے کہ جن چیزوں کی ممانعت ہے ان سے تجاوز کیا جائے اور وہ اچھے اور برے کا جو عام تصور ہے اس کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔

روحانیت حاصل کرنے کا یہ راستے بہت سی دیوانگی کی حد تک خطرناک رسومات سے ہو کر گزرتا ہے جن میں مردہ انسانوں کا گوشت اور اپنا فضلہ کھانے جیسی کراہیت انگیز رسومات بھی شامل ہیں۔

ان سادھوں کے خیال میں ایسی حرکت جن سے عام لوگ اجتناب کرتے ہیں ان کے کرنے سے وہ آگہی اور ادارک کا ایک اونچا درجہ حاصل کر سکتے ہیں۔

لیکن انھوں نے بہت سی ایسی پرانی روایات کو اپنا لیا جو کپالی کاس یا کھوپڑی برداروں میں رائج تھیں اور جن کا ذکر ساتویں صدی کی دستاویزات میں بھی ملتا ہے۔ کپالی کاس میں انسانوں کو بلی چڑھنا یا قربان کرنے کی رسم بھی رائج تھی لیکن یہ گروہ اب وجود نہیں رکھتا۔

اگھوری اکثر اوقات نچلی ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

ڈاکٹرمیلسن کے مطابق ذہنی قابلیت کے لحاظ سے ان میں کافی تنوع پایا جاتا ہے اور ان میں اکثر کافی ذہین لوگ ہوتے ہیں یہاں تک کہ ایک اگھوری نیپال کے راجا کا مشیر بھی رہ چکا ہے۔

کس سے نفرت نہیں
منوج ٹھاکر جو اگھوری سادھوں پر ایک ناول کے منصف بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کے بارے میں بہت سے غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگھوری بہت ہی سادہ لوگ ہوتے ہیں اور جو کسی چیز کے طلب گار نہیں ہوتے۔

وہ ہر شہ میں ایک قادر متعلق کا عکس دیکھتے ہیں۔ وہ کسی سے نہ نفرت کرتے ہیں نہ کسی چیز کا انکار کرتے ہیں۔ اسی لیے ان کے خیال میں ایک جانور اور انسان کے گوشت میں کوئی فرق نہیں اور انھیں جو مل جائے وہ کھا لیتے ہیں۔

loading...

جانوروں کی قربانی ان کے مذہبی عقائد میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔

وہ چرس پیتے ہیں اور نشے کی حالت میں بھی اپنے ہوش و حواس برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

میلسن اور ٹھاکر دونوں کے مطابق اگھوری عقیدے کے بہت کم پیروکار رہ گئے ہیں جو واقعی ہی ان کی تمام رسومات کی پاسداری کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ کمبھ میلے میں جمع ہوتے ہیں وہ خود ساختہ اگھوری ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق بہت سے سیاحوں اور عقدیت مندوں کو لبھانے اور پیسہ کمانے کے لیے اگھوری روپ دھار لیتے ہیں۔

عقدت مند انھیں پیسے اور کھانے پینے کی اشیا دیتے ہیں لیکن ٹھاکر کا کہنا ہے اصلی اگھوری پیسے کے بارے میں بالکل بے پرواہ ہوتے ہیں۔

وہ ہر شخص کے لیے دعا کرتے ہیں۔ انھیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا کہ کوئی اولاد کے لیے دعا کروانا چاہتا تو کسی کو نئے گھر کے لیے دعا چاہیے ہوتی ہے۔

اگھوری شیوا کے پجاری ہوتے ہیں جو ہندو مت میں تباہی کا دیوتا ہے اور جن کی خصوصیت شکتی یا طاقت ہے۔ شمالی انڈیا میں اگھوری صرف مرد بن سکتے ہیں۔ لیکن بنگال میں اگھوری خواتین بھی ہوتی ہیں جو شمشان گھاٹوں میں رہتی ہیں۔ لیکن اگھوری خواتین کپڑے پہنتی ہیں۔

ہر شخص موت سے ڈرتا ہے اور شمشان گھاٹ موت کا نشان ہوتے ہیں جو اگھوری کا مسکن ہوتا ہے۔ یہ لوگ معاشرے میں رائج عام آدمی کی اقدار اور اخلاقیات سے بغاوت کرتے ہیں۔

گزشتہ چند دہائیوں میں اگھوری سادھوں نے بہت سی روایات مرکزی دھارے کی بھی اپنائی ہیں اور انھوں نے جذام کے مریضوں کا علاج کرنا شروع کر دیا ہے۔

امریکہ کے انتھروپولوجسٹ ران براٹ کا کہنا ہے کہ اگھوری ان لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں جنھیں اچھوت سمجھا جاتا ہے۔

ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ شمشان گھاٹ ایک طرح سے کوڑھ کے علاج کی جگہ بن گئے ہیں اگھوری موت سے خوف زدہ نہیں ہوتے اور کوڑھ کا علاج کرتے ہیں۔

ونارسی شہر میں جذام کے مریضوں کو جنہیں ان کے خاندان والے چھوڑ جاتے ہیں انھیں اُن ہسپتالوں میں پناہ ملتی ہے جنھیں اگھوری چلاتے ہیں۔

چند اگھوری موبائل فون اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے جب باہر نکلتے ہیں تو اپنی شرم گاہیں ڈھانپنے کے لیے کچھ نہ کچھ کپڑا ڈال لیتے ہیں۔

ہم جنسیت منع
ایک ارب سے زیادہ لوگ ہندو ہیں لیکن ان کے عقائد میں کوئی یگانگت نہیں ہے۔ کوئی ایک پیغمبر اور صحیفہ نہیں ہے جس کی سب پیروی کریں۔
اگھوری کی تعداد کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے لیکن ماہرین کے مطابق ان کی تعداد چند ہزار ہی ہو گی۔

بہت سے ہندووں کے لیے بھی جو سادھوؤں کے رسم و رواج سے واقف ہیں ان کے لیے بھی کسی اگھوری سے ملاقات خاصی پریشان کن اور کراہیت انگیز ہوتی ہے۔

کچھ اگھوری اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ لاشوں کے ساتھ بھی جنسی فعل کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر میلسن کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں بھی جسم فروشوں کے ساتھ مباشرت کرنے کی ممانعت ہے اور وہ ہم جنسیت سے بھی منع کرتے ہیں۔

جب وہ مرتے ہیں تو دوسرے اگھوری ان کا گوشت نہیں کھاتے اور ان کا کریا کرم بھی عام لوگوں کی طرح ہی کیا جاتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں