کرپشن کے خلاف جہاد اور حج سبسڈی

عمران خان

حج پرسبسڈی دینے کی بات کرنے والے بتائیں کہ انہوں نے ملکی خزانے میں چھوڑا کیا ہے…..؟

وزریراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشکل حالات ضرور ہیں لیکن ملک کا مستقبل روشن ہے، چوری اور کرپشن کے باعث ملکی قرضے دس سالوں میں 6 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 30 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے،ان قرضوں پر ہم یومیہ 6ارب روپے سود اداکررہے ہیں۔ این آر اوز نے لوگوں میں احتساب کا ڈر ختم کر دیا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔

ہر ادارے میں کرپشن کے کیسز نیب کو بھجوائیں گے ،کرپشن اورچوری کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے ۔حج پرسبسڈی دینے کی بات کرنے والے بتائیں کہ انہوں نے ملکی خزانے میں چھوڑا کیا ہے ۔سابقہ حکمراں اتناقرضہ نہ چھوڑتے تو لوگوں کو مفت حج کراتا سبسڈی دینی ہو تو کینسر کے مریضوں، غریبوں اور تعلیم سے محروم بچوں کو کیوں نہ دی جائے ۔گیس مہنگی کرنا مجبوری تھی کیوں گیس سیکٹر پر 157ارب روپے کے قرضے ہیں جبکہ اس شعبے میں سالانہ 50ارب کی چوری ہورہی ہے ۔
قیمتیں نہ بڑھاتے توگیس کمپنیاں بند ہو جاتیں ، اعتراض کرنے والے شرم کریں۔

گزشتہ اگست میں قائم ہونے والی حکومت کو چھ مہینے مکمل ہو گئے۔ یہ مدت بے سمتی، بے چینی، نااہلی، عدم اعتماد اور افراتفری سے عبارت رہی۔ چھ برس کی غوغا آرائی اور ریشہ دوانیوں کی مدد سے قائم ہونے والی حکومت کا رنگ و روغن اکھڑ گیا ہے۔ کشتی کے تختے بری طرح ہل رہے ہیں۔ کسی کو معلوم نہیں کہ گہرے پانیوں کی طرف بڑھتی ناؤ کو کس گھاٹ اترنا ہے۔ سیاست کے دس میں سے نو حصے معیشت سے ترتیب پاتے ہیں۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد انکشاف ہوا کہ عمران اور ان کے ساتھیوں نے معاشی پروگرام کا خاکہ ہی تیار نہیں کیا۔ مشکل معاشی حالات سے دوچار ہوتے ہی حکومت نے ایسی افراتفری کا مظاہرہ کیا کہ کاروباری طبقہ بدحواس ہو گیا۔ سرمایہ فرار ہونے لگا۔ چھ ماہ میں دو بجٹ پیش کئے، 1100ارب روپے کا قرضہ لیا۔ مہنگائی بڑھی، افراط زر بڑھا، شرح نمو کا ہدف کم کر دیا گیا۔ عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کی درجہ بندی گھٹا دی۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کی تفصیلات کا ابھی انتظار ہے۔مشکل یہ ہے کہ عمران خان خواہش کے باوجود شخصی حکمرانی کے لئے درکار سیاسی سرمائے سے محروم ہیں۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کا کہنا ہے کہ رواں برس حج اخراجات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی تاہم اگلے چار برس میں حج نجی شعبے کو دے دیا جائے گا کیونکہ سعودی حکام کی خواہش ہے کہ حج کا سرکاری کوٹا ختم کیا جائے اور نجی ٹور آپریٹرز کو منتقل کردیا جائے۔

یہ ایک ایسی بات کہی گئی ہے جو بین الاقوامی تعلقات تجارت یا لین دین کے اصولوں کے بھی منافی ہے اور جو روایات ہیں ان کے بھی خلاف ہے۔واضح رہے کہ جو ملک حاجیوں اور معتمرین کی تعداد کے اعتبار سے پہلے اور دوسرے نمبر پر رہتا ہو اور جس کی وجہ سے سعودی عرب کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہو وہ اپنی شرائط اور ضرورت کی بنیاد پر اپنے حاجیوں اور معتمرین کو سہولتیں فراہم کرنے کیلئے رعایتیں حاصل کرتا ہے لیکن یہاں معاملہ ہی الٹا ہے۔

ادھر سے ایک حکم آتا ہے اور ہمارے وزیر صاحب کہتے ہیں کہ ماننا پڑے گا۔ ایک مرتبہ پاکستانی حکومت اپنے لاکھوں معتمرین کے حوالے سے صرف سعودی ائیر لائن کا بائیکاٹ کردے یا اس میں کسی کو سفر نہ کروائے یا ایک سال ایسا بھی آجائے کہ پاکستان سے کسی کو عمرہ ویزا لینے نہ دیا جائے تو سعودی حکام کو بھی اندازہ ہوجائے گا کہ ان لاکھوں پاکستانیوں کی پشت پر بھی کوئی والی وارث ہے لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ سب نے پیسے کوہی سب کچھ بنا رکھا ہے۔

وزیر مذہبی امور نے بنا سوچے سمجھے کہہ دیا کہ مدینے کی ریاست میں حج اور عمرہ مفت نہیں ہوتا تھا۔ ذرا وہ بتائیں کہ مدینے کی ریاست میں داخلے اور حج اور عمرے کے لیے ویزا فیس کون سے خلیفہ یا ملوک کے کس دور میں یا کس سلطان کے دور میں شروع کی گئی تھی۔ دنیا بھر سے کسی ویزے کی اجازت نامے کے بغیر حجاج آتے تھے۔ حکام تو ان کیلئے سہولتیں فراہم کرتے تھے۔

سب سے بڑی خدمت تو حاجیوں کو پانی پلانا تھا۔ مدینے کی ریاست میں تو حج و عمرہ ہی نہیں بہت کچھ مفت تھا۔موجودہ ریاست مدینہ کے دعویدار کبھی مدینے کی اصل ریاستوں کا حال تو پڑھ لیں اسی مدینے کی ریاست میں بچے کی پیدائش کی اطلاع کے ساتھ ہی اس کا وظیفہ مقرر ہوجاتا تھا جس کے نعرے پر حکومت اقتدار میں آئی ہے؛ اگر اس نعرے کا پاس نہ رکھ سکتے تھے تو یہ لگانا نہیں چاہیے تھا اور اب ریاست مدینہ کی من مانی تعبیریں کرکے اس ریاست کی بے حرمتی نہ کریں۔

یہ اعلان بھی ایک اور یوٹرن ہے کہ اب رواں برس کے حج اخراجات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی جبکہ وزیر مذہبی امور مختلف مواقع پر یہ کہتے رہے ہیں کہ میں تو اخراجات کم کرنے کے حق میں ہوں تو کیا وہ غلط کہہ رہے تھے یا حقیقت یہی ہے جو اب کہی گئی ہے؟ تو وزیر اعظم صاحب وزیر مذہبی امور اور حکومتِ پاکستان کے ماہرین معیشت کیلئے یہ مشورہ ہے کہ اپنی نیت ٹھیک کرلیں معیشت بھی ٹھیک ہوجائے گی۔ مدینے کی ریاست کے بارے میں الٹے سیدھے تبصرے نہ کریں۔ ایک جانب تو یہ صورتِ حال ہے اور دوسری طرف پرائیویٹ ٹور آپریٹرز نے عزیزیہ حج 2019 کے نام سے حکومت کے مقابلے میں سستے حج پیکیج کا اعلان کردیا ہے ان کا پیکیج 3 لاکھ 70 ہزار روپے کا ہے جبکہ حکومت نے 4 لاکھ 36 ہزار کا حج پیکیج دیا ہے۔

گویا پرائیوٹ آپریٹرز 66 ہزار روپے کم کا پیکیج دے سکتے ہیں لیکن حکومت اپنے پیکیج میں کمی لانے پر تیار نہیں ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ دونوں کے پیکیج اور سہولتوں کا جائزہ لیا جائے اور جن لوگوں نے 3 لاکھ 70 ہزار کا دعوی کیا ہے اور کوٹا مانگا ہے۔ ان کی سہولتیں کا بھی جائزہ لیا جائے پھر عوام بھی فیصلہ کریں۔اس حوالے سے دو تین باتوں کیلئے ارکان پارلیمنٹ کی توجہ نہایت ضروری ہے کیونکہ اس قسم کے دعوؤں اور حکومتی سہولتوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ان عوامی نمائندوں کا کام ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ان پرائیویٹ آپریٹرز کو اس دعوے کی بنیاد پر کوٹا دے دیا جائے اور عوام پھر لٹ جائیں۔

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں