لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کی درخواست ضمانت منظور کرلی

لاہور ہائی کورٹ

لاہور: ہائی کورٹ نے اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی رمضان شوگر ملز، آشیانہ اسکینڈل میں ضمانت منظور کرلی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس مرزا وقاص پرمشتمل بینچ  نے شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

عدالت میں سماعت کے دوران وکیل شہباز شریف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب ایسے پیش کر رہی ہے جیسے رمضان شوگر ملز انڈیا میں ہے۔

شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ شوگرملز سال میں 3  ماہ چلتی ہے اوراس سال 68 کروڑ کا ٹیکس دیا، نیب ہم سے ایسے سلوک کر رہی ہے جیسے کوئی غیرملکی ہوں۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ رمضان شوگر ملز کو نالے سے زیادہ فائدہ نہیں ہوا، شوگر ملز سیزن کے حساب سے چلتی ہے، یہ عوامی مفاد کا منصوبہ تھا جس کی اسمبلی اور کابینہ نے منظوری دی۔

لاہور ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ نالے کا رخ رمضان شوگرمل کی جانب کیوں موڑا گیا ؟ جس پر وکیل شہباز شریف نے جواب دیا کہ پہلے جونقشہ بنا اس میں جامعہ آباد کے بعد آبادی نہیں تھی۔

وکیل نیب نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری پیسے کو شوگر ملز کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا، شہباز شریف نے اختیارات سے تجاوز کیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ شہباز شریف تو رمضان شوگر ملز کے چیف ایگزیکٹو ہی نہیں رہے، نیب پراسیکیوٹر کے مطابق حمزہ شہباز نیب سے تعاون کر رہے ہیں، نیب کے مطابق حمزہ شہباز کی گرفتاری کی فی الحال ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

یاد رہے کہ تین روز قبل لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کی ضمانت کا کیس دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ شمیم خان نے ریمارکس دیے تھے کہ نیب پر پہلے ہی بہت الزامات لگ رہے ہیں، کیا نیب اب بنچ بھی اپنی مرضی سے بنوائے گا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں