کرتارپور راہداری پر مذاکرات، پاکستانی وفد واہگہ سے اٹاری روانہ

کرتارپور راہداری

لاہور: پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری منصوبے پر مذاکرات آج ہوں گے۔

وزارت خارجہ میں ڈی جی ساؤتھ ایشیا ڈاکٹر محمد فیصل کی قیادت میں پاکستان کا 18 رکنی وفد واہگہ کے راستے بھارت روانہ ہوگیا۔

گزشتہ روز کرتار پور راہداری مذاکرات کے لیے  پاکستان کے نائب ہائی کمشنر سید حیدر شاہ بھارتی شہر امرتسر پہنچے تھے، بھارتی حکام سے ملاقات میں کرتارپور راہداری سے پاکستان جانے کے لیے ویزہ استثنیٰ کے معاملے پر بھی بات ہوگی۔

واہگہ بارڈر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ آج کرتاپور راہداری پر بات چیت سے متعلق اٹاری جارہے ہیں، اس راہداری سے نا صرف سکھ برادری کو سہولت ملے گی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان امن بھی ہوگا۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا ہماری سوچ ہے کہ ایک شجر ایسا لگایا جائے کہ ہمسائے کے گھر میں سایہ جائے، ہماری میٹنگ کرتارپور راہداری کھولنے سے متعلق ہے، ہم مذاکرات کے لیے مثبت پیغام لے کر جارہے ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ مںصوبے کا سنگ بنیاد 20 نومبر 2018 کو رکھا گیا اور تکمیل نومبر 2019 میں ہوجائے گی۔

کرتار پور راہداری مذاکرات، بھارت کا پاکستانی صحافیوں کو ویزے دینے سے انکار

راہداری منصوبے میں دریائے راوی پر پُل اور ساڑھے چار کلو میٹر سڑک شامل ہے، ذرائع کے مطابق دریا پر پُل اور سڑک کی تعمیر کا کام 50 فیصد مکمل ہے اور منصوبہ نومبر میں ہونے والے بابا گورو نانک کی 551ویں برسی سے قبل مکمل ہونے کا امکان ہے۔

ادھر بھارت نے ایک مرتبہ پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرتار پور راہداری منصوبے پر مذاکرات کی کوریج کے لیے پاکستانی صحافیوں کو ویزے جاری نہیں کیے ہیں۔

 ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا ایک ٹوئٹر بیان میں کہنا تھا کہ 30 سے زائد بھارتی صحافیوں نے کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی تھی جب کہ بھارتی صحافیوں کے لیے وزیر خارجہ نے عشائیہ کا اہتمام بھی کیا تھا تاہم بھارت نے پاکستانی صحافیوں کو ویزے نہیں دیے جس پر افسوس ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں