پاک بھارت کشیدگی اور چین کی غیرجانبداری

پاکستان اور بھارت

چینی حکومت کے قریب سمجھے جانے والے اخبار گلوبل ٹائمز نے جو عالمی معاملات کو چینی حکومت کے نقطہ نظر سے بیان کرتا ہے اور پیپلز ڈیلی گروپ کے تحت کام کرتا ہے، اپنے اداریے کی سرخی لگائی ہے کہ چین، پاک بھارت کشیدگی میں غیر جانبدار رہے گا۔ گلوبل ٹائمز نے اپنے اداریہ میں لکھا کہ چین کے نائب وزیر خارجہ کانگ شوانیو نے اپنے پاکستانی دورے میں دونوں ممالک کو ایسے اقدامات سے باز رہنے کا کہا جس سے صورتحال مزید بگڑ جائے۔

چین اور دیگر فکرمند ممالک کی کوششوں سے بھارت کے پاکستان میں ہائی کمشنر اجے بساریا واپس پاکستان آ گئے۔ انہیں تنازع شروع ہونے پر واپس دہلی بلا لیا گیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا فوجی مقابلہ ٹل گیا ہے۔ایک طویل مدت سے یہ سوال دونوں ممالک کو الجھا رہا ہے کہ وہ اپنے تنازعات کیسے حل کریں۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ دونوں ممالک فوجی تنازعے، حتیٰ کہ جنگ کے دہانے پر ہیں، موجودہ صورتحال نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑی جنگ نہیں ہو گی، لیکن دونوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں جن کے ذریعے ایک نام نہاد نیوکلئیر بیلنس قائم کیا گیا ہے۔ یہ طویل مدت میں ایک حل ثابت نہیں ہو گا۔تو پھر دونوں ممالک کو کیا کرنا چاہیے۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ سیاسی مکالمہ ہی جھگڑوں کو نمٹانے کا واحد طریقہ ہے۔ یہ چین کی مستقل پالیسی ہے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان پرامن مذاکرات کے اس چینی ٹھوس موقف کو کوئی شے نہیں بدلے گی۔

بہرحال، چند بھارتی چینی کوششوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اورچین پر یہ الزام دھرتے ہیں کہ وہ ان دہشت گردوں کو مستقل تحفظ فراہم کرتا ہے جو مبینہ طور پر پاکستان میں ٹھکانے رکھتے ہیں اور وہ پلوامہ حملے کے پیچھے تھے جبکہ کئی بھارتی تجزیہ نگار چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو ایک علاقائی خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی بنیاد حقائق پر نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:- افسرشاہی اور حکومتی تحفظات

چین، روس اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان سولہویں سہ فریقی مذاکرات 27 فروری کو ہوئے۔ اس میٹنگ میں تینوں نے دہشت گردی اور شدت پسندی کی افزائش کرنے والے ٹھکانوں کو جڑ سے ختم کر دینے کا عزم کیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ چین، پاکستان اور بھارت تینوں کے مفاد میں ہے کہ دہشت گردی سے لڑا جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ بھارت بے بنیاد الزامات لگانا بند کر دے۔

بھارت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اگرچہ چین پاکستان کی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے حمایت کرتا ہے، لیکن بیجنگ نئی دہلی کا دشمن نہیں ہے۔ چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا منصوبہ پیش کیا اور اسے لانچ کر دیا، جو نہ صرف بھارت کی انفراسٹرکچر کی تعمیر کی ضروریات کے مطابق ہے، بلکہ یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تناؤ کو ختم بھی کرے گا۔ بھارت کو اس منصوبے کے خلاف اپنا تعصب ختم کرنا چاہیے کیونکہ یہ منصوبہ تعاون کو بڑھائے گا اور علاقے میں استحکام لائے گا۔کشمیر کے متنازع علاقے کے مقدر میں یہ نہیں لکھا کہ وہ ہمیشہ غریب اور پسماندہ رہے۔

یہ چین کا ہدف ہے اور یہ بھارت اور پاکستان دونوں کا ہدف بھی ہونا چاہیے۔ اگر دونوں ممالک قدم بڑھائیں تو یہ دونوں کے درمیان چین کے ساتھ مل کر باہمی اعتماد قائم کرے گا اور پرامن مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا، خاص طور پر دونوں کے درمیان دہشت گردی کے معاملے پر۔چین، پاکستان اور بھارت کے جھگڑے میں غیر جانبدار رہے گا۔ موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان تنازعات میں نرمی لانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے حالات پیدا کرنے میں، چین ایک ثالث اور معاون کا کردار ادا کرے گا۔

چین کی طرف سے موصول ہونے والے اشاریے برصغیر کے بارے میں بیجنگ کی پالیسی کو واضح کرتے ہیں۔ یہ اشارے پاکستان میں پاک چین بھائی بھائی کے مزاج کے عکاس نہیں ہیں بلکہ یہ یہ بتا رہے ہیں کہ دو ملکوں کے تعلقات مفادات اور ضرورتوں پر استوار ہوتے ہیں۔ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے معاملات میں صرف اتنی دلچسپی لے کر دست تعاون دراز کرتا ہے جو خود اس کی قومی ضرورتوں کو پورا کرتا ہو۔ یہ ایک حقیقت پسندانہ طریقہ کار ہے جو دنیا بھر کے تمام خود مختار ملکوں کے درمیان مروج ہے لیکن پاکستان میں بوجوہ خارجہ معاملات کے بارے میں بات کرتے ہوئے جذباتی نعرے بلند کیے جاتے ہیں۔

اس کا مظاہرہ سعودی عرب کے حوالے سے بھی ہوتا ہے اور چین کے بارے میں بھی یہ تاثر قومی کیا گیا ہے کہ چین ہر مشکل میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔گو کہ چین نے بڑی حد تک کئی مشکل سفارتی مراحل میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے کبھی بھی پاک بھارت تنازعہ میں فریق بننے یا اس بارے میں کوئی دو ٹوک پوزیشن لینے کی کوشش نہیں کی۔ متعدد اسٹریجک، معاشی اور سفارتی ضرورتوں کے تحت بلاشبہ بیجنگ کا جھکاؤ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی طرف رہتا ہے۔ چین نے نہ صرف جیش محمد کے سربراہ کے معاملہ میں متوازن اور عقلی رویہ اختیار کرنے کی بات کی ہے بلکہ چین کے قوم پرست اخبار میں ایک مضمون نگار نے پاکستان اور بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حالیہ تصادم سے سبق سیکھیں اور مل جل کر باہمی مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ اسی طرح اس علاقے میں غربت اور احتیاج کے خلاف کام کیا جاسکتا ہے۔ مضمون نگار نے واضح کیا ہے کہ چین دونوں ہمسایہ ملکوں کے تنازعہ میں فریق نہیں بنے گا لیکن تصادم سے بچنے اور مفاہمانہ طور سے بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے کی ضرورت پر زور دیتا رہے گا۔چین سے موصول ہونے والے یہ اشارے اسلام آباد کے لئے اہم اور چشم کشا ہونے چاہئیں۔ اسے تسلیم کرنا چاہیے کہ چین ا س کے غیر ضروری مطالبات کی تکمیل کے لئے اپنے علاقائی سفارتی و معاشی مفادات کی قربانی نہیں دے گا۔ چین نے یہ واضح کیا ہے کہ اس کے لئے بھارت بھی پاکستان ہی کی طرح اہم ہے۔ وہ وہاں بھی انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں تعاون کررہا ہے اور بھارت کو روڈ ایند بیلٹ منصوبہ کی مخالفت ترک کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہاہے۔

پاکستان کو اس پر خوش بھی ہونا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ نہ تو چین یا کسی دوسرے ملک سے اس سہولت سے زیادہ توقع کی جائے جو وہ ملک باآسانی فراہم کرسکتا ہے اور نہ ہی اپنے عوام کو بہلانے کے لئے کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات کو نعرہ بنانے کی کوشش کی جائے۔ پاکستان کو خارجہ تعلقات حقیقت پسندی اور معروضی حالات کے مطابق استوار کرنے کا سبق سیکھنے کی ضرورت ہے اور عوام کو بھی یہ باور کرانا چاہیے کہ ملکوں کے درمیان معاملات افراد کے باہمی رشتوں سے مختلف ہوتے ہیں اور انہیں اسی تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں