پنجاب حکومت۔۔۔ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔

پنجاب حکومت

وزیراعظم کا کہنا — “یہ ہے تبدیلی … پنجاب حکومت کے وزیر اعلی عثمان بزدار”

وزیراعظم ہاؤس, یونیورسٹی میں تبدیل۔۔۔

وزیراعظم ہاؤس کی بھینسیں اور گاڑیاں فروخت۔۔۔

وفاقی وزرا کے بیرون ملک دوروں پر پابندی۔۔۔

نئے پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت کفائت شعاری کی مہم پر گامزن ہے۔ جبکہ پنجاب حکومت نے اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں کئی گنا اضافے کا بل منظور کر لیا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں منظور ہونے والے بل میں رکن اسمبلی کی تنخواہ 83 ہزار سے بڑھا کر 1 لاکھ 85 ہزار (2 گنا سے زائد اضافہ)، یومیہ الاؤنس 1 ہزار سے 2 ہزار، سفری واؤچر 1 لاکھ 20 ہزار سے 3 لاکھ اور ہاؤس رینٹ 29 ہزار سے 50 ہزار تک اضافہ کردیا گیا ہے۔

اس تاریخی بل میں صوبہ پنجاب کے متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی تنخواہ 59 ہزار سے بڑھا کر 3 لاکھ 50 ہزار اور ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور میں گھر دینے کا فیصلہ بھی پنجاب اسمبلی میں منظور کر لیا گیا۔

سلام ہے پنجاب حکومت کو۔۔۔ جس کے پاس موسم بہار میں بدبو پھیلانے والے سڑکوں پر پڑے کوڑہ اٹھوانے کے لئے فنڈز نہیں ہیں۔ لیکن غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں ہوشربا اضافے کے لئے پنجاب حکومت کے پاس فنڈز بھی ہیں اور اپوزیشن کی سپورٹ بھی۔ جس نے اجلاس سے تو بائیکاٹ کیا۔ لیکن قائمہ کمیٹی برائے قانون میں شامل اپوزیشن اراکین نے اسے منظور دے دی۔

سلام ہے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزیراعلی پنجاب کو۔ جن کے گھر بجلی تو نہیں آتی تھی۔ تاہم بعداز ریٹائر منٹ سرکار سے ملنے والے گھر میں 2500 سی سی گاڑی آئے گی۔ جسمیں یقینی طور پر سڑکوں پر پھیلے طاعون پھیلاتے کوڑے کی بدبو بھی نہیں آئے گی اور یہ ایس یو وی جیپ بارشوں کے کھڑے پانی میں سے بھی باآسانی گزر جایا کریگی۔

سلام ہے وزیراعلی عثمان بزدار کی عظمت کو جنھیں وزیراعظم عمران خان نے وسیم اکرم پلس کا خطاب دیا تھا۔ یقینی طور پر وزیراعظم کے فرشتوں کو بھی یہ علم نہیں ہو گا کہ وزیراعلی پنجاب اپنی تنخواہ اور مراعات میں “پلس پلس” کرتے جائیں گے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ وزیراعلی پنجاب اور پنجاب حکومت کی، ان آٹھ ماہ میں کونسی ایسی کارکردگی ہے۔ جس کے بدلے میں اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں کئی گنا اضافہ اور وزیراعلی پنجاب کے لئے بعد از ریٹائر منٹ سرکاری گھر اور 2500 سی سی ایس یو وی گاڑی دی جائے گی۔۔۔ سلام ہے ان تمام اراکین پاکستان تحریک انصاف اور ان کی اتحادی جماعتوں کو۔ جنھوں نے یہ بل منظور کیا۔

اس بل کی منظوری کے بعد وزیراعظم عمران خان کی طرف سے بزریعہ ٹویٹ اس بل پر افسوس کا اظہار کیا گیااور کہا گیا کہ ایسی صورتحال میں جبکہ حکومت کے پاس عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے وسائل نہیں، ایسی صورتحال میں اس بل کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی سرپرستی میں پنجاب کابینہ کے پانچ سے زائد اجلاس تو ہوئے۔ لیکن لگتا ہے کہ وزیراعظم اس بل سے ناآشنا تھے۔ جس کے منظور ہونے کے بعد وزیراعظم کی طرف سے بس ایک مزمتی ٹویٹ تو سامنے آئی، لیکن پنجاب حکومت کو اس بل پر عمل درآمد نا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔

خان صاحب، آپ شائد بھول گئے کہ پنجاب کے لوگوں نے عثمان بزدار یا اس جیسے کسی رکن اسمبلی کو منتخب نہیں کیا۔ عوام نے عمران خان کی تحریک انصاف کو ووٹ دیئے اور آپ کے منتخب کردہ وزیراعلی یا وزیر جو بھی فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کے ذمہ دار آپ ہیں۔

اگر آپ کو واقع ہی پنجاب حکومت کے منظور کردہ بل پر تشویش ہے تو آپ باحیثیت وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف اپنے اراکین اسمبلی کو حکم دیں کہ وہ اس بل پر عمل درآمد نا کریں اور ضروری ہو تو اس بل کے خلاف ایک اور بل لانے کی تلقین کریں۔ تا کہ پنجاب کے لوگوں کو عمران خان کو ووٹ دینے کی سزا نا ملے اور عوام کا پیسہ غریب عوام کے لئے بنائے جانے والے شیلٹر ہومز اور غربا پر خرچ ہو۔ نا کہ اراکین اسمبلی پر۔ جو کہ تحریک انصاف کی ٹکٹ کے بغیر یونین کونسل کے کونسلر بھی منتخب نہیں ہوسکتے۔

خان صاحب اگر آپ مزمتی ٹویٹ کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر سکتے تو خاتون اوّل سے ہی پوچھ لیں کہ آپ بحیثیت وزیراعظم اس سلسلے میں آپ کیا کرسکتے ہیں۔ جو آپ کو بتاتی ہیں کہ اب آپ وزیراعظم ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نہیں، جو حکومتی فیصلوں پر مزمت تو کرسکتا ہے۔ لیکن کوئی حکم نہیں دے سکتا۔

خدیجہ چوہدری

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں