قطب الدین ایبک کا مزار اور تاریخی پس منظر

قطب الدین ایبک

میرے دوست ’’عاقب علی‘‘  کو تاریخی عمارتیں دیکھنے اور ان کے حالات و واقعات کے بارے میں لکھنے کا بہت شوق ہے۔ ایک دن اس سے ملا اور باتوں ہی باتوں میں قطب الدین ایبک کا ذکر شروع ہو گیا ۔ عاقب نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اس کا مزار ’’انار کلی‘‘ لاہور میں واقع ہے یہ سن کر میں حیرت زدہ ہوا کے ہندوستان سلطنت پر حکومت کرنے والے بادشاہ کا مزار لاہور میں ہے اور مجھے معلوم نہیں، تو اسی وقت ارادہ کیا کہ کسی دن اس کے مزار پر ضرور جائیں گے۔

 آخر ایک دن  مزار دیکھنے کا ارادہ کیا گوجرانوالہ سے لاہور انارکلی پہنچے اور انارکلی بازار کے اندر جانے سے پہلے ایک دکاندار سے پوچھا تو انہوں نے بہت اچھی طرح راستہ سمجھا دیا اندر جاتے ہی انارکلی سے ایک رستہ ایبک روڈ کے نام سے نکلتا ہے اور اسی روڈ کو دیکھتے ہی آپ کو مزار بھی نظر آجائے گا۔

قطب الدین ایبک
انارکلی بازار سے ایبک روڈ کی طرف دیکھتے ہی آپ کو مزار باآسانی نظر آجائے گا

پاکستان کی تاریخ کی بات کی جائے تو یہ ایک وسیع موضوع ہے ۔ مختصر یہ کہ پاکستان بننے سے پہلے یہ  برصغیر ہوتا تھا جس میں ہندؤں اور مسلمانوں کی حکومت رہی ، اور جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ برصغیر میں اسلام کی آمد محمد بن قاسم کی712  میں سندھ میں ہندؤں پر فتوحات سے ہوا ۔ اس کے بعد مسلمانوں کی شاہانہ حکومت کا آغاز ہوا جس میں بہت سے شہنشاہ آئے ۔

ان میں ایک ایسا بادشاہ آیا جس نے برصغیر میں اسلامی قوانین کا نفاذ کروایا ، اور یہ بادشاہ کسی امیر گھرانے میں پیدا نہیں تھا ہوا اور نہ ہی اسے وراثت میں بادشاہی ملی بلکہ یہ ایک غلام تھا جو اپنی باکمال صلاحیتوں اور دوراندیشی کی بدولت ہندوستانی سلطنت کا بادشاہ ٹھرایا گیا۔ اس بادشاہ کا نام قطب الدین ایبک تھا۔

قطب الدین ایبک 1150 میں ترکستان جس کا نیا نام قازکستان ہے میں پیدا ہوا۔ ایبک ایک قبیلے کا نام تھا اور اسی وجہ سے اسے قطب الدین ایبک کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ غربت کی وجہ سے غلامی کرنی پڑی اور بچپن میں ہی اسے نیشاپور کے قاضی فخرالدین نے خریدا اور ترقستان سے غزنی لے گئے۔ شکل و صورت کے لحاظ سے قطب الدین خوبصورت نہ تھے اور ان کی ایک انگلی بھی ٹوٹی ہوئی تھی ، لیکن جب قسمت مہربان ہو تو وہ شکل و صورت نہیں دیکھتی کیونکہ انہی دنوں میں سلطان شہاب الدین غوری قاضی فخر الدین کے پاس پہنچے اور قطب الدین ایبک کو دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ یہ بچہ غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہے تو غوری نے قاضی صاحب کو کثیر مال دے کر ایبک کو خرید لیا۔ اور اس کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا ۔ قطب الدین ایبک نے اسی دوران جنگی فنون میں بھی محارت حاصل کر لی اور سلطان شہاب الدین غوری کے ساتھ ہر معرکے میں  اپنی بہادری کے جوہر دکھاتا۔  اور ہندوستان پر حملوں کے دوران قطب الدین ایبک نے بہادری اور وفاداری کی مثالیں قائم کیں۔

اس بہادری اور وفاداری کی وجہ سے سلطان غوری نے ایبک کو اجمیر اور دہلی کا گورنر بنا دیا اور اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی بھی اس سے کرا دی۔

لاہور کے رخسار کا تل مسجد وزیر خان

سلطان غوری کی موت کے بعد قطب الدین ایبک نے 1206 میں اپنی تخت نشینی کا اعلان کیا اور چار سال ہندوستان پر حکومت کی اور اسی نے ہی برصغیر میں تیرہویں صدی میں اسلامی قوانین کے نفاذ کا پرچم لہرایا۔ جس سے ایک منظم اسلامی ریاست تشکیل پائی۔  اس حکومت کو  غلاموں  کی حکومت اور مملوک حکومت بھی کہا جاتا ہے،کیو نکہ قطب الدین ایبک کے بعد یہ حکومت 1290 تک چلتی رہی تھی۔

آج جس جگہ ان کا مزار ہے یہاں کبھی ایک وسیع محل ہوا کرتا تھا اور محل میں ہی قطب الدین ایبک پولو، جسے اس وقت میں چوگان کہا جاتا تھا کھیلا کرتا تھا ۔ اس وقت اس محلے کا نام محلہ قطب غوری مشہور تھا۔ قطب الدین پولو  کھیلنے کا بہت شوقین تھا اور یہی کھیل اس کی موت کا سبب بن گیا، قطب الدین ایبک کی وفات نومبر 1210 میں میں پولو(چوگان) کھیلتے ہی ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ گھوڑے سے گرتے ہی لوہے کی زین ان کے سینے میں پیوست ہو گئی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔ یوں ہندوستان پر چار سال کی شہنشاہی حکومت کرنے والے بادشاہ کی حکومت اپنے محل میں ہی ختم ہوئی۔

قطب الدین ایبک
قطب الدین ایبک کا مزار

اگر آپ چوگان جسے انگریزی میں پولو کہتے ہیں کے بارے میں نہیں جانتے تو اب جان لیں۔ کہ یہ کھیل صدیوں پہلے تین ہزار سال قبل مسیح ہندوستان کی ریاست منی پور میں کھیلنا شروع کیا گیا۔ اس کے بعد یہ کھیل ہندوستان کا شاہی کھیل بن گیا اور بادشاہوں نے چوگان کو مختلف شہروں میں مروج کیا۔ چوگان ، جسے  گھوڑوں پر بیٹھ کر کھیلا جاتا ہے اور اس میں ایک لکڑی کی چمکدار گیند اور گھڑسوار کو ایک چھڑی کی ضرورت ہوتی ہے یہ کھیل ہاکی کی ہی طرح کا ہوتا ہے لیکن فرق اتنا ہے کہ اس میں آپ کو گھوڑے پر بیٹھ کر بھاگنا ہوتا ہے۔

اب مزار کے قریب پہنچے اور دیکھا کہ وہاں صرف ایک اور شخص ہمارے ساتھ دعا مانگنے کے لیے  مزار میں داخل ہوا ۔ مزار کے بارے میں جاننے کے لیے میں مزار کے نگران جن کا نام سید مہدی حسن تھا ، انہوں نے بتایا کہ یہ مزار ایوب خان کے دور میں دوبارہ تعمیر کروایا گیا  اور اس کی تعمیر 1968 میں شروع کروائی گئی تھی جو سیاستدانوں کی تلخ رویوں کیوجہ سے تاخیر کا شکار ہو کر 1979 میں مکمل ہوا اور اسے  مغل اندازِ تعمیر کے مطابق بنایا گیا۔

loading...
قطب الدین ایبک
مزار کا داخلی رستہ جس کے دونوں جانب چھوٹے دو مینار ہیں، جن پر قطب الدین ایبک کی سن وفات اردو اور انگریزی میں لکھی ہوئی ہے
قطب الدین ایبک
دوسرا مینار

تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے زوال کے بعد مقبرہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگا اس کی اینٹیں،  قیمتی پتھر اور دیگر سامان لوگ لوٹنے لگے اور مقبرہ مزار کے بغیر ایک قبر تک محدود ہو گیا ۔ انگریز دور میں مقبرے کے گردوانوح میں آبادی بڑھنے لگی تو محل کا نام و نشان مٹنے لگا البتہ مقبرے کا دروازہ اور قبر موجود رہی۔ انگریز نے قبر کی مرمت کروادی البتہ میونسپل کمیٹی نے روڈ کا نام ایبک روڈ رکھ دیا اور اس تایخی ورثے کو مٹنے سے روک لیا ۔ ورنہ شاید لوگ بادشاہ کا نام اور اس کے مقبرے کی جگہ کو بھی بھول جاتے۔

قطب الدین ایبک
مزار کا اندرونی حصہ اور مقبرہ سنگ مرمر سے بنایا گیا ہے

مقبرہ چکور ہے اور جس کے چاروں طرف سنگ مرمر کی جالیاں لگی ہوئی ہیں۔ فرش اور دیواروں پر بھی سنگ مرمر لگایا گیا ہے ۔

قطب الدین ایبک
مزار کے بیرونی حصے پر کنندہ آیتیں

اس کے سامنے والے حصے پر کلمہ طیبہ اور قرانی آیات کنندہ  ہیں، نامور خط ’’حافظ یوسف سدیدی‘‘ نے فن خطاطی کا ایسا مظاہرہ کیا ہے کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے، خطاطی کا یہ انداز بھی ایبک دور کی ہی طرح کا اپنایا گیا ہے۔ 6  اپریل 1981 کو نو تعمیر شدہ اس مقبرے کا افتتاح وفاقی وزیر برائے ثقافت و سیاحت محمد ارباب نے کیا۔

قطب الدین ایبک
مزار کے احاطے میں ایک چھوٹا سا باغیچہ بھی ہے
قطب الدین ایبک
مزار کے بلکل سامنے والی دیوار مہراب شکل کی بنائی گئی ہے

قطب الدین ایبک کے بارے میں ایک بہت خوبصورت بات  مجھے ایک دکاندار محمد عمر نے بھی بتائی۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ بادشاہ کا مزار ہے جس نے بہت سی فتوحات کیں اور اپنے زمانے میں بہت نام کمایا ہو گا لیکن آج گمنامی میں ہے ، اس کا مزار اس مشہور جگہ پر موجود ہونے کے باوجود دیکھنے والوں اور اس بادشاہ کے لیے  دعا خیر  کرنے والوں کی کمی کا شکار ہے ۔ یہ دنیا ایک بھیڑ چال ہے کیونکہ جس طرف ایک بندے کو فائدہ ہوتا ہے سب اسی رستے پر چل پڑتے ہیں ۔

قطب الدین ایبک
مزار کے قریب ایک تاریخی مندر بھی نظر آیا، جو اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ انارکلی کے اس تاریخی بازار میں ہر مذہب ، رنگ اور نسل کے لوگ ہم آہنگی سے رہتے تھے

یہاں پر میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اپنی تاریخ کے بارے میں جاننا چاہیے کیونکہ ماضی کے بارے میں اچھی طرح جانتے ہوئے ہی ہم مستقبل کے اچھے فیصلے کرسکتے ہیں۔ جس طرح سے قطب الدین ایبک کے مزار کو حکومت نے دوبارہ تعمیر نو کر کے عوام کے خیالوں میں زندہ کیا ہے ، اسی طرح بہت سی تاریخی عمارتیں بھی ہیں جو اپنی زبوں حالی کے باعث ختم ہو رہیں ہیں۔ انہیں دوبارہ سے تعمیر کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی تاریخی ورثے سے باخوبی آگاہ ہو۔

قطب الدین ایبک
واپسی پر ناصر باغ میں شام کا منظر

مزار سے واپسی پر شام کا منطر یہ  بتا رہا تھا کہ کس طرح ہر عروج کو زاوال ملتا ہے اور ہر زوال کے بعد نئے دور کا آغاز ہوتا ہے ، نئی نسلوں اور نئی سوچوں کا آغاز ہوتا ہے ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں