پاکستان میں ادب اطفال کی تقریبات تقسیم انعامات: ایک جائزہ

بچے

شاہد انور شیرازی(اردو لیکچرر )آنسی ڈگری کالج مردان

بچے پھول ہوتے ہیں ۔ بچے ملک کا مستقبل ہوتے ہیں ۔ یہی بچے بڑے ہو کر ملک و قوم کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں ، یہی بچے ملک و قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں ۔ اس لیے ان کلیوں کی پرورش اور تربیت احتیاط اور پیارسے کرنا چاہیے ۔ سکول کی نصابی کتب اور سرگرمیوں کے ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا ہر بچے کا بنیادی حق ہے ۔ ان سرگرمیوں کی بدولت بچوں کی کردار سازی اور شخصیت سازی ہوتی ہے اور ان معصوم پھولوں کی درست سمت نشوونما سے مثبت نتاءج برآمد ہوتے ہیں ۔

آج کا زمانہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا زمانہ ہے ۔ بڑے تو بڑے، بچے بھی اس کی زد میں آچکے ہیں ۔ اس قبیح مشغلے کی لت سے والدین اپنے بچوں کی طرف دھیان دینا کافی حد تک چھوڑ چکے ہیں ۔ وہ بچوں پر توجہ دینے کی بجائے ہر وقت فیس بک اور وٹس ایپ میں مصروف رہتے ہیں ۔ اگر بچوں کی طرف ذرا دھیان دیا جائے، ان کو کتاب سے نزدیک کر دیا جائے، ان کی تخلیقی سرگرمیوں کو پروان چڑھایا جائے تو یہی بچے سرمایہء افتخار بن جاتے ہیں اور بلاشبہ ہم ان پر فخر کر سکیں گے ۔

بچوں کی نفسیات اور ذہنی سطح کو مد نظر رکھ کر ان پھولوں کے لیے اخلاقی، دل چسپ اور معیاری ادب تخلیق کرنا چاہیے ۔ ایک ناقد کی رائے کے مطابق بچوں کے لیے وہ کتابیں مفید ہوتی ہیں جو بچوں کی روحوں میں ایسے جذبات اور تاثرات پیدا کریں ، جو ان کی زندگی پر مستقل نقش چھوڑ جائیں ۔

اردو میں بچوں کے ادب پر نظر ڈالی جائے تو نظیر اکبر آبادی، مولانا اسماعیل میرٹھی، امیر خسرو، تلوک چند محروم، سرسید احمد خان اور علامہ اقبال کے کلام میں بچوں کے لیے نہایت دل کش، سبق آموز مترنم اخلاقی و اصلاحی نظ میں پڑھنے کو ملتی ہیں ۔ ان کی یہ نظ میں آج بھی اردو ادب کا بہترین سرمایہ ہیں ۔ بات پاکستان میں بچوں کے ادب کے حوالے سے کی جائے تو تقریباً تین دہائی قبل شعبہ بچوں کا ادب دعوۃ اکیڈیمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے بچوں کے ادیبوں کی ایک کھپت تیار کی ۔ بچوں کے ادیبوں کی حوصلہ آفزائی، ان کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا اور ان کی تحریروں پر انعامات، ایوارڈز اور شیلڈوں کا آغازشعبہ بچوں کا ادب کا ایک گراں قدر کارنامہ اور خدمت عالیہ ہے، اور یہ سب کچھ تب ممکنات میں شامل ہوا، جب شعبہ;34; بچوں کا ادب;34; کے انچارج ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر نے اپنی تمام صلاحیتیں اور خدمات بچوں کے ادب کے لیے وقف کردیں ۔ موصوف نے بچوں کے ادیبوں اور بچوں کے رسائل کے مدیروں کے لیے مختلف کیمپوں کا انعقاد کیا ۔ 1991ء میں ;34; پہلا تربیتی کیمپ برائے نوجوان اہل قلم;34; کے نہ ختم ہونے والے سلسلے نے بچوں کے ادیبوں کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا کام کیا ۔

ملک بھر سے نوجوان اہل قلم کی تربیت کی جاتی اور بچوں کے لکھاریوں کے لیے مختلف اصناف میں لیکچرز دینے کا اہتمام ہوتا، ملک کے معروف ادیبوں سے مختلف اصناف میں تربیت لے کر بچوں کے ادب کو نہایت مثبت ذخیرہ فراہم ہوا ۔ ان کیمپوں کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ لیکچر دینے کے لیے ملک کے مایہ ناز ادیبوں کو مدعو کیا جاتا جو خود بچوں کے ادب سے وابستہ ہوتے تھے ۔ مثلاًڈاکٹر جمیل جالبی، حکیم محمد سعید شہید، مسعود احمد برکاتی، اشتیاق احمد، نظر زیدی، مرزا ادیب، انعام الحق کوثر اور دیگر ادبا و شعراءکے لیکچرز سے بچوں کے ادیبوں کو کافی مواد فراہم ہوتا اور ساتھ ہی ان کے ساتھ ملاقات کے دوران ان کی زندگی کی ادبی مصروفیات اور سرگرمیوں سے نوجوان اہل قلم مستفید ہوجائے ۔

ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر نے بچوں کے ادیبوں کو اپنی ادبی سرگرمیاں اپنے اپنے شہر میں منعقد کرنے کی غرض سے ;34;پاکستان ینگ راءٹرز فورم;34;کے نام سے ایک تنظیم بنائی، جس کی صوبائی اور ضلعی سطح پر شاخیں قائم ہوئیں اور یوں بچوں کی ادبی سرگرمیاں اپنے اپنے شہروں میں پوری آب وتاب کے ساتھ شروع ہوئیں ۔

بچوں کے لیے بہترین اور معیاری ادب تخلیق کرنے والے ادیبوں اور رسائل کو اسماعیل میرٹھی ایوارڈ، مرزا ادیب ایوارڈ وغیرہ کے ناموں سے ان کی حوصلہ آفزائی کے لیے ایک سلسلہ شروع کیا گیا ۔ اس حوصلہ آفزائی کی بدولت بے شمار نوجوان لکھاریوں نے بچوں کے لیے اعلیٰ ، معیاری اور پر کشش ادب تخلیق کیا ۔ ان ادبا و شعرا میں کافی ادبا و شعرا اب بھی اپنی بے پناہ گھریلو اور پیشہ ورانہ مصروفیات کے باوجود بچوں کے ادب کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں ، ان میں نذیر انبالوی، علی اکمل تصور، عبدالرشید فاروقی، ابن آس، خلیل جبار، نوید مرزا، ندیم اختر، عمران سہیل بوبی، کاشف بشیر کاشف، اظہر عباس، احمد عدنان طارق اور دیگر شامل ہیں ۔ جبکہ کئی ادیب اب بڑوں کے ادیب بن چکے ہیں اور وہ تقریباً بچوں کے ادب سے ناتا چھوڑ چکے ہیں ۔ جبکہ ڈاکٹر افتخار کھوکھر شعبہ بچوں کا ادب ِ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بچوں کے ادب کی ایک تنظیم بنام شعبہ ادب اطفال دائرہ علم و ادب چلا رہے ہیں اور بچوں کے ادب کی خدمت میں تن دہی سے لگے ہوئے ہیں ۔

loading...

متذکرہ سرگرمیوں کا اگر موجودہ زمانے میں بچوں کے ادب کی تنظیموں اور تقریبات سے موازنہ کیا جائے تو بات کافی حد تک خوش آئند ہے کہ فی الحال بچوں کے ادب کی خوب خدمت ہو رہی ہے اور بچوں کے لیے معیاری کتابیں اور رسائل کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے اخلاقی اور سبق آموزچینلز بھی چل رہے ہیں ۔ لاہور اور کراچی اس سلسلے میں کافی آگے نظر آرہے ہیں ۔ کراچی سے انوکھی کہانیاں ، ساتھی، نونہال، ذوق و شوق، جگ مگ تارے وغیرہ اور لاہور سے تعلیم و تربیت، پھول، اقرا، پیغام وغیرہ بچوں کے ادب کی آبیاری میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ۔ ان رسالوں میں بچوں کی ذہنی سطح مد نظر رکھ کر ایک معیاری ادب تخلیق ہو رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی پبلشرز ایسے بھی وجود میں آچکے ہیں جو صرف بچوں کی کہانیوں کی کتب چھاپ رہے ہیں ۔ یہ کہانیاں کافی حد تک نئی نسل کی ذہنی سطح سے مطابقت رکھتی ہیں گو ان کی قیمتیں بچوں کی دسترس سے کافی زیادہ ہیں مگر پھر بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ معیاری ادب تخلیق ہو رہا ہے ۔

اگر دیکھا جائے تو پچھلی تین دہائیوں سے بچوں کے ادب میں کافی اچھا مواد آچکا ہے اوربچوں کے لیے معیاری اور سبق آموز ادب تخلیق ہو رہا ہے ۔

یہ سب کچھ ادارے اپنی مدد آپ کے تحت کر رہے ہیں ۔ حکومت کی سرپرستی اور تعاون کے بغیر بلا شبہ یہ ایک جہاد ہے ۔

ادبیات پاکستان کی جانب سے بچوں کے لیے ;34;ادبیات اطفال;34;ایک معیاری سہ ماہی رسالہ باقاعدگی سے شاءع ہو رہا ہے جبکہ نیشنل بک فاونڈیشن بھی بچوں کے ادیبوں سے کہانیاں لکھوا کر ادیبوں کو نقد انعامات سے نواز کر ان کی حوصلہ آفزائی کر رہی ہے ۔ مگر حکومت کی عدم توجہی اپنی جگہ ۔ بچوں کے ادب کے حوالے سے بچوں کے ادیبوں کی تقریبات کا اگر جائزہ لیا جائے، تو اس سلسلے میں دسمبر2013ء میں ندیم اختر اور کاشف بشیر کاشف نے ساہیوال سے ، بچوں کے ادیبوں کو نئے سرے سے اکھٹا کرنے کی ایک سعی کی اور;34;بہرملاقات;34; میں بچوں کے وہ ادیب جو بیس پچیس برس قبل متحرک تھے کو ایک دوسرے سے ملنے، ملاقات کرنے اور پرانی یادوں کو تازہ کرنے کا ایک سنہرا موقع فراہم کیا ۔ اس تقریب میں پاکستان بھر کے ادیبوں نے شرکت کی اس دوران ان کی آنکھیں خوشی اور غم کے ملے جلے رجحان سے آبدیدہ ہوگئیں ۔ اس تقریب میں اختر عباس سابقہ ماہنامہ پھول لاہور کے ایڈیٹر اور محمد افتخار کھوکھر سابقہ انچارج شعبہ بچوں کا ادب دعوۃ اکیڈیمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے خصوصی شرکت کی ۔ اس تقریب کی خاص بات یہ ہوئی کہ اب باپ اور دادا، نانا بننے والے بچوں کے ادیبوں نے نئے سرےسے بچوں کے لیے لکھنے کا ارادہ کیا، اور ہنوز اب بھی کافی ادیب بچوں کے ادب سے جڑے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ دسمبر 2013ء میں ساہیوال میں منعقدہ ;34;بہر ملاقات;34; کی دیکھا دیکھی بچوں کے ادیبوں کے لیے تقریبات اور تقسیم انعامات کا ایک سلسلہ شروع ہوا ۔ ;34;بچوں کے ادب;34;کی تنظی میں بنیں ۔ جو ایک خوش آئند سعی ہے ۔ ;34;بچوں کے ادب;34;کی تنظیموں نے ملک بھر کے بچوں کے ادیبوں کو اکٹھا کرنے کی غرض سے تقریبات کا اہتمام کرنا شروع کیا ہے ۔ ایسی تقریبات کے انعقاد سے بچوں کے ادیبوں کو ایک دوسرے سے ملاقات کا موقع ملتا ہے ۔ اور بچوں کے ادب کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جاتاہے ۔

بچوں کے ادب کو خدمت کرنے والی تنظی میں بلا شبہ بچوں کے ادب کے فروغ میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں ، یہ تقریبات اپنی مدد آپ کے تحت منعقد ہوتی ہیں ۔ اور تقریبات کے مہمان خصوصی عموماً وہ افراد ہوتے ہیں جن کے عطیات اور مالی معاونت کے بل بوتے پر ایسی تقریبات کا انعقاد کیاجاتا ہے ۔ تقریبات خوب پر رونق اور باوقار ہوتی ہیں ۔ سماجی اور مخیر حضرات کو خصوصاً اہمیت دی جاتی ہے ۔ گو ان تقریبات میں بچوں کے نوجوان اہل قلم کے ساتھ ساتھ بزرگ ادبا وشعرابھی موجود ہوتے ہیں ۔ مگر زیادہ اہمیت سماجی اور مخیر شخصیات کو ملتی ہے ۔ انھیں ایوارڈز اور یادگاری شیلڈوں سے نوازا جاتا ہے ۔ ایسے ادبا و شعرا جن کا دور سے بھی بچوں کے ادب سے تعلق نہیں ہوتا ہے ۔ تقریب کو چار چاند لگانے کی غرض سے انھیں بھی مدعو کیا جاتا ہے اور انھیں بھی ایوارڈز اور شیلڈیں تفویض کی جاتی ہیں ۔ چونکہ اس قسم کی تقریبات کی الیکٹرانک او ر پرنٹ میڈیا پرکوریج کی جاتی ہے اس لیے ان غیر ادبی شخصیات اور بچوں کے ادب سے تعلق نہ رکھنے والے ادبا و شعرا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انھیں بچوں کے ادب کی خدمت کرنے کے سلسلے میں ایوارڈز اور یادگاری شیلڈیں تھما دی جاتی ہیں اور بھر پور پروٹوکول کے ساتھ سٹیج پر خطاب کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے ۔ بچوں کے ادیب صرف تالیاں بجا کر ایک دوسرے کا منہ تکتے رہتے ہیں ۔

اس قسم کی سرگرمیوں سے بچوں کے ادیبوں کی دل شکنی ہوتی ہے اور بچوں کے ادب پر منفی اثر پڑتا ہے اور بچوں کے ادب کا میدان سیراب ہونے کی بجائے بنجر ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ یہ منفی رجحان یقینا بچوں کے ادب کے لیے زہر قاتل ہے ۔ دور دور سے آئے ہوئے بچوں کے ادیبوں کو یوں نظر انداز کرنا اور صرف شرکتی سند سے ٹرخا کر رخصت کرنا یقینا ان ادبا کے لیے حوصلہ شکنی کے مترادف ہے ۔ اگر یہ سلسلہ یوں جاری رہا تو خاکم بدہن بچوں کا معیاری ادب تخلیق ہونا کم پڑ جائے گا، بچوں کے ادیب، اپنی تخلیقی صلاحیتیں کسی اور میدان میں صرف کرنا شروع کردیں گے ۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کے ادیبوں کی حوصلہ آفزائی ہو اور ان کی بچوں کے ادب کے لیے خدمات کا اعتراف برملا کیا جائے تاکہ بچوں کے لیے معیاری، اصلاحی اور مثبت ادب فرشتوں جیسے بچوں کے لیے تخلیق کیا کریں ۔

شاہد انور شیرازی

اردو لیکچرر آنسی ڈگری کالج مردان

(Visited 6 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں