سی پیک۔ گیم چینجر کی تکمیل میں سست روی کا تاثر!!

سی پیک۔ گیم چینجر

یوں تو سی پیک ہر طرح کی سیاسی تقسیم اور مفادات سے بالاتر منصوبہ ہے اور سی پیک پر سیاسی اتفاق رائے بھی پایا جاتا ہے لیکن ان دنوں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی تکمیل میں سست روی سے متعلق چہ ماگوئیاں جاری ہے،ہاں کچھ لوگ شاید اُمید کر رہے ہوں گے کہ پاکستان کے بڑھتے قرضوں کے مسئلے کے دوران پاکستان اور چین سی پیک پروجیکٹ کا حجم کم کر دیں گے، لیکن ایسے لوگوں کومایوسی ہوگی۔

سی پیک منصوبے میں سست روی کے تاثر کو تقویت تب ملی جب چینی سفارتی حکام بھی کہنے لگے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے باعث نہیں بلکہ بیورکریسی کی جانب سے کام میں روڑے اٹکانے کے باعث سست روی کا شکار ہے، لیکن ہمیں یقین ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین دونوں ملکوں کو اپنے تعاون کو مزید فروغ دینے کا موقع فراہم کرے گا جس میں معاشی راہداری بھی شامل ہے،جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چینی قیادت کیساتھ تجارتی و اقتصادی تعاون اور سی پیک پر بات ہوئی ہے اور میری معلومات کے مطابق چین نے سی پیک میں سست روی لانے کا کبھی سوچا بھی نہیں، یقینا پاکستان کی بھی یہی رائے ہے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ پاکستان اعلیٰ سطح پر چین کے ساتھ مل کر کئی بڑے منصوبے شروع کرے گا جن میں ہائیڈرو پاور، آئل ریفائنری اور اسٹیل ملز کے منصوبے بھی شامل ہیں.

بعض تجزیہ کار کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بعض اہم منصوبوں پر کام سست روی کا شکار ہے اور مدت پوری ہونے کے باوجود بعض منصوبے مکمل نہیں ہو سکے،تاہم حکومت پاکستان کی حالیہ اقدامات اور رپورٹ پر روشنی ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ سال حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں 30 فیصد تک کٹوتی کی جس کی وجہ سے پاکستان نے جو رقم سی پیک سے منسلک منصوبوں پر خرچ کرنی تھی وہ جاری نہیں ہو سکی اور یہ ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے جن میں ملتان سکھر موٹروے بھی شامل ہے، یہاں تک کہ سی پیک کے تحت تجویز کردہ خصوصی معاشی زونز پر بھی کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی، واضح رہے کہ پاکستان اور چین نے نو ایس ای زیز پر اتفاق کیا تھا لیکن ماہرین کے مطابق ایک کو بھی اب تک آپریشنل نہیں کیا جا سکا ہے. یوں گذشتہ ایک سال کے دوران انفراسٹرکچر کے منصوبوں مثلاً گوادر بندرگاہ اور سپیشل اکنامک زونز پر عمل درآمد بعض ماہرین کے مطابق سست روی کا شکار ہے.

جبکہ گوادر ماسٹر پلان کے بارے میں متعدد اجلاس بھی منعقد ہوئے لیکن اس پر بھی کوئی باضابطہ پیش رفت نہیں ہو سکی ہے ان پیش رفت کو دیکھتے ہوئے بعض تجزیہ کاروں کی رائے میں چینی حکام پریشان دکھائی دیتے ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں سی پیک کے منصوبوں پر جس تیزی سے کام جاری تھا آج وزیر اعظم عمران خان کے حکومت میں یہ کام سست روی کا شکار ہے مگر یہ کہنا غلط ہوگا کیونکہ چین کے تعلقات عمران خان کے ساتھ بھی بہت اچھے ہیں،چنانچہ گزشتہ دور حکومت کی بات کی جائے توپتہ چلتا ہے کہ پاکستانی اور چینی حکام نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے دورِ حکومت میں 46 ارب ڈالر کے توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے جبکہ مسلم لیگ (ن) دور حکومت کے اختتام تک توانائی کے 16 ہزار میگاواٹ کے کول پاور اور صاف توانائی کے منصوبے مکمل کیے گئے۔

loading...

دوسری جانبِ وزارت منصوبہ بندی کے سربراہ وفاقی وزیر خسرور بختیار کہتے ہیں کہ حکومت سی پیک کے تمام منصوبوں کو برقت مکمل کرنے کے لیے کوشاں ہے اور حکومت پاکستان سی پیک کے سکوپ کو وسیع کر رہی ہے لیکن اس کی رفتار کو بڑھانا ایک چیلنج ضرور ہے جو کہ اجتماعی ہے اور حکومت نومبر میں ہونے والی سی پیک جے سی سی میں منصوبوں کا ایک جامع پورٹ فولیو پیش کریں گی، نیزوزیراعظم کے دورہ چین کے بعد ان منصوبوں پر عمل میں مزید تیزی آئے گی اور پاکستانی حکام اس بارے میں بھی بہت پرامید ہیں کہ چینی صدر شی جن پنگ ان میں سے بعض
منصوبوں کا افتتاح کرنے کے لیے اگلے سال کے وسط میں پاکستان آئیں گے۔

وزیراعظم کا دورہ چین، کیا پیغامات ملے ؟

ٓ
غور طلب پہلوں یہ ہے کہ وزیرِاعظم عمران خان کے حالیہ دورہ چین سے پہلے سی پیک اتھارٹی کا بذریعہ صدارتی آرڈیننس قیام اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے چینی حکام کو ایک مرتبہ پھر یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ سی پیک کے منصوبوں پر عملدرآمد کو سست روی کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا،چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور آرڈیننس 2019 کے تحت قائم ہونے والا ادارہ وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرے گی جو اس سے پہلے سی پیک منصوبے پر عملدرآمد کے ادارے کے طور پر کام کر رہی تھی یہ اتھارٹی پاکستان اور چین کے درمیان قائم ورکنگ گروپس اور دیگر اداروں کے اجلاس بلانے کے لیے رابطہ کار کا کام کرے گا، بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔۔ اپوزیشن ارکان کے اعتراضات کے باوجود حکومت صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اس اتھارٹی کا قیام عمل میں لے آئی ہے اور ارکانِ پارلیمنٹ کو آرڈیننس کے ذریعے اس کے قیام پر اعتراضات ہیں، یا د رہے کہ جب سی پیک کے منصوبوں پر عملدرآمد شروع ہوا، تو اس وقت بھی سی پیک اتھارٹی کے قیام کی تجویز سامنے آئی تھی لیکن سابقہ حکومت نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔

چنانچہ، سی پیک کے تحت مزید پروجیکٹس دیکھے تو توانائی اور انفراسٹرکچر کے تقریباً 30 ارب ڈالر کے منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں آٹھ سے 16 ارب ڈالر کے توانائی کے نو منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جن میں ساہیوال کول پاور پراجیکٹ (1320 میگاواٹ)، پورٹ قاسم کول پاور پراجیکٹ (1320 میگاواٹ)، حبکو کول پاور پراجیکٹ (1320 میگاواٹ)، اینگرو تھر کول پاور پراجیکٹ (660 میگاواٹ)، قائدِ اعظم سولر پارک (400 میگاواٹ)، ہائیڈرو چائنہ داؤد ونڈ فارم (50 میگاواٹ)، یو ای پی ونڈ فارم (50 میگاواٹ)، سچل ونڈ فارم (100 میگاواٹ) اور جھمپیر ونڈ فارم (100 میگاواٹ) شامل ہیں۔

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے سی پیک کے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد اس حکومت کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے تین سالہ پروگرام کے اندر میکرواکنامک اہداف سہ ماہی بنیادوں پر حاصل کرنے کا پابند ہے جس کے تحت ریوینیو اہداف کو صرف آسان طریقے یعنی ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کے ذریعے ہی پورا کیا جا سکتا ہے نیز اُمید ہے کہ وزیرا عظم اور آرمی چیف کے دورے سے یہ غلط فہمیاں ختم ہوں گی اور اعتماد کی فضا مزید مستحکم ہو گی۔

محمد ابوبکر
محمد ابوبکر

تحریر۔۔۔ محمد ابوبکر

(Visited 29 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں