مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور حکومت کی پیش کش !

مولانا فضل الرحمان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کسی کو قانون توڑنے کی اجازت نہیں دے سکتے، کسی نے قانون توڑا تو قانون حرکت میں آئے گا،مدرسہ اصلاحات سمیت اہم ایشوز پر کوئی بات کرنا چاہے تو ہمارے دروازے کھلے ہیں، آزادی مارچ کے حوالے سے جے یو آئی(ف) سے مذاکرات کے لئے کمیٹی کے قیام کی فی الحال ضرورت نہیں،سرکاری ترجمانوں کے اجلاس میں دھرنے کے شرکا سے سیاسی مذاکرات پر اتفاق کیا گیا۔دوسری جانب مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمن کے جذبے کو سراہتے ہیں اور اُن کے آزادی مارچ اور دھرنے کی بھرپور حمایت کریں گے،اس حوالے سے شہباز شریف کو خط میں سب کچھ لکھ کر بھیج دیا ہے، اُن کا کہنا تھا کہ2018ء کے انتخابات کے فوری بعد مولانا نے اسمبلیوں کے حلف نہ اٹھانے اور بعدازاں استعفوں کی جو بات کی تھی وہ درست تھی۔اُن کا کہنا تھا مَیں سمجھتا ہوں آج اُن کی بات کو ردّ کرنا غلط ہو گا،مجھ پر کرپشن کا کوئی کیس نہیں،ووٹ کو عزت دو کے نعرے کی وجہ سے یہاں کھڑا ہوں۔مولانا فضل الرحمن سے رابطے کی ذمے داری حسین نواز کو سونپ دی،نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ اُن کی بھول ہے کہ مسلم لیگ(ن) گھبرا جائے گی یہ مجھے گوانتاناموبے یا کالا پانی لے جانا چاہتے ہیں تو لے جائیں، پیچھے نہیں ہٹوں گا۔

حکومت نے مولانا فضل الرحمن کو بالواسطہ طور پر مذاکرات کی موہوم سی پیشکش کی ہے،لیکن بظاہر یہ ایسی ہی ہے جیسی پیشکش جنرل ایوب خان نے اپنے اقتدار کے نصف النہار کے زمانے میں جماعت اسلامی کے امیر مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی (مرحوم و مغفور) کو کی تھی،مولانا کو خصوصی طور پر ملاقات کے لئے بُلایا گیا تھا اور دورانِ ملاقات انہوں نے مولانا کو ”گندی سیاست“ پر ایک طویل لیکچر دیا اور مولانا سے کہا کہ آپ جیسے صاف ستھرے لوگ کیوں اس گند میں پڑتے ہیں، مَیں آپ کو آپ کی پسند کی کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر لگا دیتا ہوں آپ وہاں ملک کے مستقبل کو چار چاند لگائیں اور سیاست سے الگ ہو جائیں،غالباً ایوب خان کا خیال تھا کہ مولانا مودودیؒ جو 1941ء سے سیاست کر رہے تھے اُن کا ہدف اصل میں کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر لگنا تھا، اِس لئے وہ اتنے پاپڑ بیل رہے تھے۔

مولانا نے اِس کا جو جواب دیا سو دیا اس کی یاد آج مذاکرات کا آپشن کھلا رکھنے کی خبر کی تفصیلات پڑھ کر آتی ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ مدرسہ اصلاحات پر بات ہو سکتی ہے،غالباً وزیراعظم سمیت پوری کابینہ کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمن یہ ساری جدوجہد اور تگ و تاز صرف ”مدرسہ اصلاحات“ کے لئے کر رہے ہیں۔اگر ایسا ہے تو حکومت کے سیاسی دماغوں کی بے بضاعتی کی داد دینی چاہئے، جنہوں نے نہ تو مولانا کی سیاست کو سمجھا ہے اور نہ ہی اُن کی سیاسی جدوجہد کا کوئی حقیقی ادراک رکھتے ہیں۔ وہ وزیراعظم سے استعفا مانگنے کے لئے مارچ کر رہے ہیں اور آپ انہیں مدرسہ اصلاحات کا لالی پاپ دے رہے ہیں، کیا وہ اس چال کو نہیں سمجھتے؟

loading...

بے صبرے عوام اور ”صابر حکومت“

مولانا فضل الرحمن اگرچہ واحد سیاست دان نہیں تھے، جن کا خیال تھا کہ2018ء کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور ایک طے شدہ منظم پروگرام کے تحت نہ صرف مخالف جماعتوں اور اُن کے اہم رہنماؤں کو ہروایا گیا،بلکہ خفیہ طریقے سے جو کہیں کہیں خفیہ بھی نہ تھے، حکمران جماعت کی نشستیں بڑھائی گئیں، اور اُن کے ایسے ایسے امیدواروں کو جتوایا گیا،جو کسی طرح بھی جیتنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ 95فیصد پولنگ ایجنٹوں کو فارم45نہ دیئے گئے،جن سے اِس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ پولنگ سٹیشن پر کس امیدوار کو کتنے ووٹ پڑے، پھر آدھی رات کے بعد نتائج کا اعلان روک دیا گیا، الزام لگایا جاتا ہے کہ اس دوران مخصوص نشستوں کے نتیجے بدلے گئے،خاص طور پر لاہور میں عمران خان کو چند سو ووٹوں سے جتوایا گیا،اُن کی یہ جیت ضمنی انتخاب میں شکست میں بدل گئی،جب خواجہ سعد رفیق نے تحریک انصاف کے امیدوار کو ہرا دیا، کہنے والے کہتے ہیں کہ اگر عمران خان جائز طور پر جیتے ہوتے تو چند ماہ بعد اُن کا امیدوار کیسے ہار جاتا، ایسے ہی اور بہت سے الزامات لگائے جاتے ہیں،جن کی بنیاد پر مولانا فضل الرحمن نے انتخاب کے فوری بعد مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ حلف نہ اٹھائیں اور الیکشن میں دھاندلی کے خلاف جدوجہد کریں،لیکن اس وقت اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے مفادات کی اسیر تھیں اور صدارتی الیکشن میں متفقہ امیدوار تک کھڑا نہ کر سکی تھیں،اسی طرح کئی دوسرے مواقع پر مولانا فضل الرحمن کی استعفوں کی تجویز کو پذیرائی نہ بخشی گئی،تاہم مولانا نے ایک دن کے لئے بھی ان انتخابات کو جائز نہیں مانا،وہ بلاول بھٹو زرداری سے بھی پہلے وزیراعظم کو سیلیکٹڈ کہتے رہے اور آج بھی اُن کا یہی نقطہ نظر ہے۔

اب دلچسپ صورتِ حال یہ پیدا ہوئی ہے کہ مولانا تو وزیراعظم سے استعفے کے طلب گار ہیں اور وزیراعظم اُنہیں مدرسہ اصلاحات پر مذاکرات کا آپشن کھلا رکھنے کی نوید سُنا رہے ہیں ایسے میں کوئی کیا تصور کر سکتا ہے کہ حکومت مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہے،مولانا کے مطالبے اور حکومت کی مبہم پیشکش میں مقام اتصال کہاں آتا ہے؟ اور بات چیت کس نکتے پر ہو گی؟ مولانا کہتے ہیں ہمارے اسلام آباد آنے سے پہلے حکومت مستعفی ہو جائے اور آپ جواب میں مدرسہ اصلاحات کی بات کر رہے ہیں تو مذاکرات کی سنجیدگی تو اسی سے واضح ہے۔

عمران خان نے تو خود2014ء میں 126دن کا دھرنا دیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ وہ وزیراعظم کا استعفا لئے بغیر گھر نہیں جائیں گے اور ایک سال بھی بیٹھنا پڑا تو بیٹھیں گے،ایک سال تو خیر وہ نہ بیٹھے،لیکن سال کا تیسرا حصہ بہرحال انہوں نے دھرنوں میں گزارا۔ تب اگر وزیراعظم سے استعفا مانگنا جائز تھا تو اب روا کیوں نہیں؟ آج اُنہیں جس قانون کی یاد آ رہی ہے اُن سے سوال ہے کہ کیا اُس وقت ملک میں کوئی قانون نہیں تھا،جو انہیں دھرنوں سے روکتا؟ اور کیا اب مولانا فضل الرحمن کو جس قانون سے ڈرایا جا رہا ہے وہ ابھی کہیں حال ہی میں بنایا گیا ہے اور2014ء میں وجود نہ رکھتا تھا، اس وقت ٹی وی سٹیشن پر حملہ کر کے اس کی نشریات بند کی گئیں،ایوانِ وزیراعظم اور ایوانِ صدر کو جانے والے راستے بند کئے گئے، پارلیمینٹ ہاؤس کا راستہ بند کیا گیا اور اس کے لان میں قبضہ کر کے پانی کی مین پائپ لائن توڑ کر کپڑے دھوئے گئے اور سپریم کورٹ کی ریلنگ پر لٹکائے گئے کیا اس وقت کوئی قانون ان لوگوں کو نہیں روکتا تھا،پھر تحریک انصاف کے جن ارکان نے استعفے دیئے انہوں نے بعد میں پوری تنخواہیں وصول کیں،جو کمیٹیوں کے ارکان تھے انہوں نے اس کی مراعات بھی لیں،یہ سب کچھ اُس وقت جائز تھا تو اب کیوں نہیں ہو سکتا، قانون کا حوالے دینے والے اپنی ”قانون پسندی“ پر بھی ذرا غور کر لیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔

(Visited 54 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں