بڑے کہتے تھے اگر بیوی ایسی ہو تو ……!

بیوی

تحریر:عبدالوحید شانگلوی

بیوی بھی زندگی بدل سکتی ہیں!
ایک امیر صاحب کےساتھ ملاقات ہوئی، جو اچھی صورت کے ساتھ اچھی سیرت کی بھی حامل تھے۔ ان کےساتھ گفتگو ہوئی، انہوں نے آپ بیتی بیان کرتے ہوئے ایک سبق آموز واقعہ سنایا، جو عورت کی اچھی کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: جب میری شادی ہوئی، اس وقت میں جوانی کے نشے میں مست تھا۔ نماز اور ذکر اللہ کی طرف خیال بھی نہیں تھا، بس غفلت کی زندگی گزار رہا تھا۔

اللہ تعالی نے نیک عورت کےساتھ نکاح نصیب کی، جو نماز، روزہ اور ذکر اللہ کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت بھی کیا کرتی تھی۔ مجھے بھی وقتاً فوقتاً ترغیب دیا کرتی تھی۔

صبح جب فجر کی اذان ہوتی تو وہ لوٹا بھر کر میرے پاس آتی، پہلا آہستہ آہستہ مجھے دباتی، اس کے بعد آواز دیتی کہ جی! اٹھئے نماز کا وقت ہے۔ اسی طرح آوازیں دیتی تھی لیکن مجھ پر شیطان کا تسلط رہتا، جس کی وجہ سے میں نہیں اٹھ سکتا تھا۔

جب تنگ ہوتا تو اسے دو تین تھپڑ بھی رسید کرتا کہ جائیں مجھے چھوڑ دیں، لیکن وہ بھرپور کوشش اور محنت کرتی رہی کہ ایک نہ ایک دین میری یہ کوشش رنگ لائی گی۔ اسی طرح ایک دن وہ میرے پاس آئی، مجھے دبانے کے بعد آواز دی، میں نےکہا: جائیں ورنہ۔۔۔

اس نے کہا: آج میں نے یہ عزم کی ہے کہ آپ نے نماز پڑھنی ہے ورنہ میں نہیں چھوڑتی۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھے طعنے دیتی رہی کہ آپ مرد ہے، جوان ہے، تندرست ہے پھر بھی نماز جیسے عظیم فریضہ سے غافل ہے۔ اگر آپ کا یہ رویہ ہوں تو میں آپ کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی، ہم سے جو پیدا ہوں گے وہ کیا ہوں گے؟

آخر میں بھی ملامت ہوگیا، کہ دیکھو ایک عورت اور بیوی مجھے ملامت کر رہی ہیں، دل دل میں سوچ رہا ہوں کہ غیرت بھی کوئی چیز ہوتی ہیں، بس آہستہ آہستہ اٹھنے کی کوشش کی اور نماز ادا کی۔

نماز پڑھنے کے بعد ناراض گی کی صورت بنا کر بیٹھ گیا، کسی کے ساتھ بات نہیں کرتا، بیوی نے ناشتہ تیار کر کے پیش کیا، تو میں نے انکار کرتے ہوئے کہا: دفع ہوجا سامنے سے، میں چائے نہیں پیتا۔ لیکن اس نے آگے سے معصوم صورت بنا کر کہا: میں نے کوئی غلط کام تو نہیں کی، کوئی نافرمانی تو نہیں کی، آپ کو صرف نماز کی دعوت دی ہے، اس سےآپ کیوں ناراض ہوئے؟

میں پھر ہار گیا، کیونکہ ان کی بات ٹھیک تھی کہ میں نے کوئی خطا تو نہیں کی۔ ناشتہ کر لیا، اور دل میں یہ ارادہ کیا کہ آج کے بعد اس کی بات پر عمل شروع کرتا ہو، یہ جو دعوت دے رہی ہے، اس میں میرا فائدہ ہے۔

اس کے بعد رفتہ رفتہ نماز کی طرف گامزن ہو گیا، علماء کرام کی بیانات سننا شروع کیا، جس میں بعض بیان ایسے مل گئے کہ اس میں بے نماز کا حشر بیان کیا گیا تھا، جو جو بیان سنتا اس سے تبدیلی آتی رہی۔ اللہ تعالی کا کرم ہوا، بیوی میری لیے ذریعہ نجات بن گئ اور میں اللہ تعالی کے راستے میں نکل گیا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں