خدارا! اپنے بچوں کو لنچ نہ دیں

لنچ

میں جب یہ تصنیف لکھنے لگی تو میرے دماغ کو منفی سوچوں نے گھیر رکھا تھا.۔۔۔ جس کی وجہ سے میں نے یہ عنوان رکھا۔ “خدارا اپنے بچوں کو لنچ نہ دیں”

یہ منفی سوچ اور پریشانی تب شروع ہوئی جب چھ سال کی عمر میں میری اپنی بیٹی نے اسکول جانا شروع کیا۔ جس کو میں روزانہ اپنی طرف سے بہترین لنچ دیا کرتی تھی. جو کہ وہ روزانہ کہیں پھینک آتی تھی اور میرے ڈر سے جھوٹ بول دیتی کہ میں نے لنچ کھا لیا تھا۔

کچھ عرصہ تو میں بےوقوف بنتی رہی۔ پھر ایک دن مجھے کھٹکا کہ بھلا ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ لنچ باکس روزانہ بلکل خالی ہو؟۔ گھر میں تو اسے کھانا کھلانا انتہائی مشکل کام ہے۔

آخر ایک دن میں نے اپنی بیٹی کو اس کے پسندیدہ کھلونے کا لالچ دے کر سچ اگلوا ہی لیا۔ جب میں نے اس سے پوچھا کہ “کیا واقعی آپ لنچ پورا کرتی ہو؟۔’ تو اس کے معصومانہ جواب نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا: “نہیں ماما، میں پھینک دیتی ہوں”۔

بڑے جتن کر کے میں نے اسے پیار سے اعتماد میں لیا اور سمجھایا کہ بیٹا نہیں، اگر آپ کو کھانا نہیں کھانا تو نہ کھاؤ۔  لیکن یوں کھانا ضائع کرنا یا پھینک دینا بہت ہی غلط بات ہے۔ بس بچہ بچ جانے والا کھانا بیگ میں رکھ کر واپس لے آیا کرو۔ میں نے اپنی بیٹی کو مزید سمجھاتے ہوئے اسے دنیا کی خوفناک حقیقت سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔

بیٹا آپ کو معلوم ہے کہ یہ جو آپ لنچ ضائع کرتی ہو۔ اللہ میاں آپ سے ناراض ہونگے۔

کیا آپ کو پتہ ہے پوری دنیا میں بہت سے بچے ایسے ہیں. جنہیں کچھ بھی کھانے کو نہیں ملتا اور وہ بیچارے بھوک سے روتے رہتے ہیں۔

مجھے یقین تھا کہ اگر میں اپنی بیٹی کو پیار سے سمجھاؤں گی تو اسے ضرور سمجھ آئے گی۔

پھر میں نے اسکول کے اطراف میں غور کرنا شروع کیا۔ تو آوے کا آوہ ہی بگڑا پایا۔ بچوں کے بقیہ بچ جانے والے لنچ یہاں وہاں گرے ہوتے تھے۔

خرابی کہاں ہے….؟

۱۔ لنچ بنانے میں۔
۲۔ لنچ کھانے میں۔
۳۔ یا تربیت میں۔

1. لنچ بنانے میں

کہیں مسئلہ روزانہ اپنے بچوں کو ایک ہی قسم کا لنچ زبردستی تھما دینا تو نہیں ہے۔ جو وہ انتہائی بیزاری سے تھوڑا سا کھا کر بقیہ کہیں پھینک دیتے ہیں یا آیا باجی کو دے دیتے ہیں اور خود بھوکا کھیل کھیل کر بریک ٹائم گزارتے ہیں۔ کیونکہ بچے روزانہ ایک ہی چیز نہیں کھا سکتے۔ بلکہ بچے ہی کیوں بڑوں کو بھی روزانہ ایک ہی جیسا کھانا ملے تو وہ اُکتا جاتے ہیں۔

2۔ لنچ کھانے میں

کہیں مسلئہ یہ تو نہیں کہ بچے گھر کا بنا ہوا کھانا کھانا ہی نہیں چاہتے۔ انہیں فاسٹ فود کی لَت پڑگئی ہے۔ کینٹین کے کھانے متاثر کرتے ہوں اور اسی لئے وہ لنچ کھانے سے کتراتا ہو۔ یقینًا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک بچہ جو گھر سے لنچ میں بریڈ یا چاول یا کچھ بھی گھر کا بنا لے کر جا رہا ہے۔ اب وہ دوسرے بچوں کو پیزا، برگر یا کچھ بازار کا کھاتا دیکھتا ہے۔ تو اس کا وہ بریڈ چاول یا گھر کا روزمرہ کا کھانا کھانے کو دل ہی نہیں کرتا اور مجبورآٓ وہ کھانا پھینک دیتا ہے ۔

3 ۔ تربیت میں

کہیں مسئلہ ہماری تربیت میں تو نہیں ۔ والدین ہزاروں لاکھوں روپے خرچ کر کے بچوں کو اعلی تعلیم و تربیت دینے کے لئے اسکول بھیجتے ہیں۔ ہر طرح کے جتن کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی والدین کی اکثریت بچوں کی مکمل طور پر اسکول کی زمہ داری سمجھنے لگتے ہیں اور والدین اکثر اپنے بچوں کی عادات و حرکات کو نظر انداز کرنے لگتے ہیں۔

بچوں کو دیئےجانے والے لنچ کی وجہ سے ہمارے بچوں میں یا تو بھوک بیٹھ رہی ہے۔ احساس محرومی بڑھنے لگی ہے۔ مطلب کہ بچہ یہ سوچنے لگتا ہے کہ فلاں بچہ برگر کھا رہا ہے، پیزا کھا رہا ہے، لیکن میرے پاس نہیں ہے۔ یا پھر ناشکرا پن، غیر ذمہ دارانہ رویہ پروان چڑھ رہا ہے۔ اس کا مطلب وہ کھانا جو ہم روزمرہ دے رہے ہیں وہ اسے کسی کھاتے میں نہیں لاتا اور ضروری خیال نہیں کرتا۔

اس کے علاوہ یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ اسے پیسے تھما کر اسکول بھیج دیتی ہیں اور ڈرنک برگر ٹافیاں کھا کھا مہلک امراض یا پھر موٹاپے کو دعوت دینے لگا ہوا ہو ۔ فاسٹ فوڈ کا ذیادہ استعمال بچوں کو موٹا تو کر دیتا ہے لیکن بیماریاں بھی تحفے میں دیتا ہے اور یہ غیر صحت مند فوڈ ہے۔

بس یہی بات ہے جو مجھے بڑا دکھ دیتی ہے۔ میرا دل کرتا ہے میں تمام والدین کو چیخ چیخ کر کہوں اپنے بچوں کو لنچ بنا کر نہ دیں۔ انہیں اچھی تربیت دیں۔

یہ بھی پڑھیں:- تھر میں اموات کا سلسلہ تھم نہ سکا، مزید معصوم بچے زندگی کی بازی ہار گئے

کہتے ہیں بچوں کو جو عادات اور باتیں ان کے بچپن میں سکھائی جاتی ہیں وہ ان کو ہمیشہ یاد رہتی ہیں۔ اسی طرح اگر آپ اپنے بچے کو یہ تربیت ان کی ابتدائی زندگی میں نہیں دیں گی تو یہ بات بھول جائیں کہ وہ بڑے ہو کر اچھی عادات اپنائیں گے۔

آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ شادیوں یا کھانے کی دیگر تقریبات میں جب کھانا کھلتا ہے تو لوگ پاگلوں کی طرح بھاگ پڑتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ سارا کھانا کھانا چاہتے ہیں اور کسی دوسرے کے لئے کچھ بچانا نہیں چاہتے۔ پوری پوری پلیٹیں کھانے سے بھر لیتے ہیں اور پھر کچھ کھاتے ہیں اور باقی سارا ضائع۔  یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے۔ اتنا کھانا کھایا نہیں جاتا جتنا ضائع ہو جاتا ہے۔

اس کے لئے ہمیں شروع سے ہی اپنے بچوں کو کھانے کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرنا ہو گا اور انہیں یہ بتانا ہو گا کہ دنیا میں بہت سارے بچے ایسے ہیں جنہیں کھانے کو کچھ نہیں ملتا اور وہ بھوک سے مر جاتے ہیں۔ آپ جو کھانا ضائع کر رہے ہیں کوئی دوسرا بچہ اس کے لئے ترس رہا ہو گا۔ پھر جب آپ کا بچہ کھانے کی اہمیت جان جائے گا تو وہ کبھی اپنا لنچ ضائع نہیں کرے گا اور وہی بچہ جب بڑا ہو گا تو ایسی حرکتیں نہیں کرے گا۔ بلکہ تمیز سے کھائے گا بھی اور ضائع کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

لنچ

اس لیے بچوں کو شروع سے ہی یہ بات سکھائیں کہ بیٹا آپ کو سب کچھ ملے گا لیکن اعتدال سے کھاؤ۔ بس اتنا ہی کھانا ڈالو جو آپ آسانی سے کھا سکو تاکہ کھانا ضائع نا ہو اور باقی کھانا دوسروں کو مل سکے یا لنچ دیتے ہوئے بچوں کو یہ کہیں کہ بیٹا آج میری پسند کا کھا لو۔ کل آپ کی پسند کا ملے گا اور پھر ہفتے میں ایک دن آپ اپنے بچے کی پسند کا کھانا جیسے پیزا وغیرہ بنا کر دیں۔ تاکہ بچہ خوش بھی ہو۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں بچے کے لنچ باکس کے لئے ہفتے کا مینیو ہی بنا لینا چاہیئے۔

جس میں ہیلدی فوڈ بچے کے پسند کا کھانا مثلاً اگر آپکا بچہ فاسٹ فوڈ پسند کرتا ہے تو اسے خود گھر میں پیزا برگر وغیرہ بنا کر دے سکتے ہیں۔ ہاں لیکن سب کچھ اعتدال میں ہونا چاہیئے۔ اس سے یہ ہو گا کہ بچے کو نا تو احساس برتری ہو گا اور نا ہی احساس کمتری۔ اسے ہیلدی کھانا بھی ملے گا۔ جس سے اسکی صحت اچھی رہے گی اور اسے اسکی پسند کا کھانا بھی ملے گا۔

جس سے اس کو خوشی محسوس ہو گی اور یہ عادت جب آپ اپنے بچے میں ڈال دیں گی تو پھر آپکو کسی پریشانی کی ضرورت نہیں۔ وہ بچہ بڑا ہو کر کبھی ان عادات کو نہیں بھولے گا اور پھر جب ہر بچہ اعتدال کی راہ اپنائے گا۔ تو ایک دن انشاءاللہ یہ کھانا ضائع ہونے کی گندی بیماری دم توڑ دے گی۔

لنچ

خدیجہ چوہدری

(Visited 7 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں