پاکستانیوں کے ساتھ برتاؤ اور دورہ سعودی ولی عہد

سحر بلوچ

چاندنی چوک پر کئی عمارتوں کے بیچ و بیچ ایک ٹریول ایجنسی کا مٹی سے اٹا ہوا بورڈ پاکستان سے باہر جانے والوں، خصوصاً سعودی عرب جانے والوں کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جہاں سرکاری سطح پر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے پاکستان آنے کا انتطار کیا جا رہا ہے، وہیں یہاں کے پروموٹرز بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ کئی سالوں سے انھیں پیش آنے والی مشکلات کا حل نکالا جاسکے۔

چاندنی چوک بیرونِ ملک کام کی تلاش میں جانے والے پاکستانیوں کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں ٹریول ایجنسیوں سے لے کر بیرونِ ملک پاکستانیوں کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے تھوک کے حساب سے موجود ہیں۔

لیکن ٹریول ایجنسیوں کے باہر لائنوں میں لگے نوجوانوں میں سے زیادہ تر اب قطر اور لیبیا جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

’سعودی عرب نہیں جانا چاہتے‘
پچھلے تین سالوں میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کئی مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ ان میں نوکریوں سے برطرفی، اقامہ (یعنی رہائش کے لیے درکار اجازت نامہ) کی قیمت میں اضافہ اور انکم ٹیکس میں تقریبا پانچ فیصد اضافے کے باعث کافی لوگ وطن واپس آ چکے ہیں۔ لیکن بعض ایسے بھی ہیں جو معاشی مواقع نہ ہونے کی وجہ سے وہیں رہنے پر مجبور ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس وقت سعودی عرب میں 26 لاکھ پاکستانی ریاض، دمام، طائف اور جدہ میں مقیم ہیں۔

لیکن سنہ 2016 میں یکے بعد دیگرے سعودی آجر، سعد ٹریڈنگ اینڈ کنٹریکٹنگ کمپنی اور بن لادن گروپ جیسی کئی کمپنیوں نے خود کو دیوالیہ قرار دے دیا جس کے بعد متعدد پاکستانیوں کو وطن واپس آنا پڑا۔

چاندنی چوک پر موجود پروموٹرز کے مطابق اب یہ عالم ہے کہ ’پیسے دینے پر بھی لوگ سعودی عرب نہیں جانا چاہتے۔‘

محمد عنایت نے 24 سال قبل جب ٹریول ایجنٹ کے طور پر کام شروع کیا تھا تو سعودی عرب ایک اہم ملک تصور کیا جاتا تھا۔ ’ایک ایسا وقت بھی تھا جب ہمارا دفتر صبح 9 بجے سے رات گئے تک کُھلا رہتا تھا۔ اب یہ وقت ہے کہ دوپہر کے 12 بجے ہیں اور کوئی بھی نہیں ہے۔‘

سنہ 1994 سے اب تک عنایت سعودی عرب جانے والے مزدوروں اور حکومت کی طرف سے تعینات اتاچی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں موجود حکومتی اتاچی کا وہاں پر موجود کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ طے پاتا ہے جس کے بعد پاکستانی مزدوروں کو وہاں بھیجا جاتا ہے۔

عنایت کہتے ہیں ’پچھلے چند سالوں سے وہاں پر کنٹریکٹ کوئی جواز دیے بغیر ختم کیے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے حکومتی اتاچی کی کارکردگی اوپر سوال اٹھائے جارہے ہیں، لیکن ہمارے لیے بھی مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔ ہم جوابدہ ہیں اس غریب کو جسے ہم نے بھیجا ہے اور اس کے والدین کو۔ لیکن اب سعودی قوانین کے تحت غیر ملکیوں کے لیے اپنا بزنس یا دکان تک کھولنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی حکام عربی زبان نہیں جانتے، جس کی وجہ سے وہاں پر موجود مزدوروں کے لیے اپنی بات آگے پہنچانے دشواری ہوتی ہے۔

عنایت کے مطابق ’بنگلہ دیش، فلیپائن اور بھارت کے سفارتخانے اپنے لوگوں کی فریاد ان کے منہ سے نکلنے سے پہلے ہی سعودی اعلی حکام تک پہنچا دیتے ہیں۔ ہمارے مزدوروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ وہاں جانے کو ترجیح نہیں دیتے۔‘

loading...

’گھر کا نظام بھی چلانا ہے‘
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرحدی علاقے ہجیرہ سے تعلق رکھنے والے ابرار احمد کو راولپنڈی آئے ہوئے ایک دن ہی ہوا ہے۔ اب تک ان کے 21000 روپے صرف مختلف کاغذات بنوانے میں ہی لگ گئے ہیں۔ ’بارڈر کے پاس حالات اکثر خراب رہتے ہیں اور زندگی کافی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے میں مِستری کے کام کے لیے سعودی عرب جانا چاہتا ہوں۔ میں پہلی دفعہ وہاں جا رہا ہوں۔‘

ابرار کو کاغذات مکمل کرنے کے بعد پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرانٹس کے دفتر بھیجا گیا جہاں ان کے بیرونِ ملک تحفظ کے معاملات، جیسے کے کمپنی کے بارے میں پوچھ تاج اور نوکری کے بارے میں جانچ پڑتال کی گئی۔ لیکن ابرار کو یہ پتا نہیں تھا کہ جہاں ان کو سرکاری افسر کے دستخط لینے کے لیے بلایا گیا ہے اس کا مقصد کیا ہے اور وہ ان کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔

’اس وقت میرا مقصد گھر والوں کے لیے پیسے لانا ہے کیونکہ گھر کا نظام بھی چلانا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں زیادہ پیسے نہیں لاسکوں گا کیونکہ میری تنخواہ وہاں 750 ریال ہے، لیکن مجھے لے جانے والے ایجنٹ نے کسی اور جگہ کے بارے میں نہیں بتایا۔ وہ پہلے پیسے لے کر آپ کو تابع کر لیتے ہیں تاکہ آپ ان سے زیادہ سوال نہ کرسکیں۔‘

سعودی سرمایہ کاری کا مزدوروں کی زندگی پر کیا اثر ہوگا؟
سعودی ولی عہد کے آنے سے پہلے ہی پاکستان میں سعودی عرب کی طرف سے ہونے والی سرمایہ کاری کی تفصیلات مقامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے روزانہ دی جارہی ہیں۔ لیکن اس سے پاکستان سے جانے والے مزدور یا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے لیے کیا کیا جائے گا، اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔

عنایت نے کہا کہ مزدوروں کو نہیں پتا کہ دونوں ممالک کے درمیان کتنے اربوں کی سرمایہ کاری ہونے جارہی ہے۔ ’ان کو اس بات سے مطلب ہے کہ وہ بروقت پیسے کما کر اپنے گھر بھیج سکیں۔‘

حکومتِ پاکستان کے ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ کے سیکریٹری پرویز احمد جونیجو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مزدوروں کے مسائل اور شکایات اپنی جگہ درست ہیں، لیکن اب ان کی آسانی کے لیے سعودی عرب میں کئی شکایتی سینٹرز بنائے گئے ہیں جہاں ان کو در پیش مسائل کا حل مل سکے گا۔‘

جب ان کو یاد دلایا گیا کہ 2016 میں نوکریوں سے نکالے جانے والے پاکستانیوں کی بات تب سنی گئی جب انھوں نے سوشل میڈیا پر تصویریں اور ویڈیوز شیئر کیں، تو اس پر پرویز جونیجو نے کہا کہ ’اپنی طرف سے اور اپنے عہدے کو دیکھتے ہوئے ہم وہ تمام کوششیں کررہے ہیں جس سے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں۔‘

ابرار احمد کہتے ہیں ایک دن میں صرف 21000 روپے مختلف کاغذات بنوانے میں ہی لگ گئے ہیں

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد ہمارے لیے اپنے مزدوروں کے حوالے سے بات کرنے کا ایک اچھا موقع ہے۔‘

پروموٹرز کے مطابق سعودی عرب میں انکم ٹیکس میں پانچ فیصد اضافے کے بعد اس وقت پیشے کے لیے موضوں مقامات کی فہرست میں اب لیبیا بھی شامل ہے۔

عنایت بتاتے ہیں کہ اس وقت پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد لیبیا جانے کی خواہشمند ہے۔ ’ہماری خواتین ویسے ہی کام کرنے کے لیے ٹیچر، سٹاف نرس اور ڈاکٹر کی پوسٹ پر لیبیا جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مردوں کے لیے بزنس، کنسٹرکشن اور میسنری کے کام کی بہت ڈیمانڈ ہے۔‘

بشکریہ بی بی سی اردو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں