شام میں ترکی کا کردار

شام میں ترکی کا کردار

شام میں ترکی کا کردار نہایت اہم ہے..ترکی تعان بھی کرنا چاہتا ہے اور اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ مربوط ایکشن کا حصہ بھی بننا چاہتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے شام سے انخلا کا درست اعلان کیا ہے۔ امریکی افواج کے انخلا کے لئے کمال احتیاط سے کی گئی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور یہ سارا عمل متعلقہ فریقوں کے تعاون سے ہونا چاہئے تاکہ امریکہ عالمی برادری اور شامی عوام کے مفادات کا مناسب تحفظ کیا جا سکے۔

ترکی جس کے پاس نیٹو ممالک کی دوسری بڑی فوج ہے صرف وہی اس کام کی تکمیل کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 2016 میں ترکی پہلا ملک تھا جس نے شام میں داعش کی نام نہاد حکومت سے جنگ کے لئے اپنے زمینی لڑاکا دستے وہاں متعین کئے تھے۔ہماری فوجی مداخلت سے داعش کو نیٹو کی سرحدوں تک رسائی کے علاوہ ترکی اور یورپ میں دہشت گرد حملوں سے بھی باز رکھاگیا۔

رقہ اور موصل میں اتحادی افواج کی کارروائی کے برعکس جس میں زیادہ انحصار فضائی حملوں پر کیا گیا تھا اور جن میں سویلین آبادی کو پہنچنے والے نقصان کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا تھا ترک فوجی دستے اور فری سیرین آرمی کے جنگجو داعش کے سابق گڑھ الباب سے باغیوں کی بیخ کنی کے لئے ایک ایک دروازے پر گئے۔ ہماری حکمت عملی سے شہر کا انفراسٹرکچر بالکل محفوظ رہا اور شہر کو چند دنوں میں دوبارہ معمول کی زندگی پر لوٹنے کے قابل بنا دیا گیا۔آج بچے دوبارہ سکول جا رہے ہیں ترکی کی مالی مدد سے چلنے والا ہسپتال مریضوں کا علاج کر رہا ہے نئے کاروباری پروجیکٹس سے ملازمت کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں جس سے مقامی معیشت کو تقویت ملی ہے۔

ایسا مستحکم ماحول ہی دہشت گردی کا مستقل علاج ہے۔ ترکی شام میں داعش اور دیگر دہشت گرد گروپوں کو شکست دینے کے عزم پر قائم ہے کیونکہ ترک عوام اس پرتشدد انتہا پسندی کے خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں۔

2003 میں جب میں نے اقتدار سنبھالا تھا تو ترکی میں القاعدہ کے حملوں میں ہمارے درجنوں شہری اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔ حال ہی میں نام نہاد داعش نے ہمارے شہریوں ہمارے طرز زندگی اور ہماری اعتدال پسند تہذیب کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہے۔چند سال قبل یہی دہشت گرد مجھے غدار شیطان کہہ کر پکارتے تھے۔

ہم نے ان ہزاروں مسیحی اور یزیدی شہریوں کے چہروں پر خوف دیکھا جو شام اور عراق میں ان دہشت گردوں کے قبضے کے بعد ترکی کی سر زمین پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔ میں دوبارہ یہ بات کہہ رہا ہوں کہ دہشت گردوں کو کبھی فتح حاصل نہیں ہوگی۔ ترکی اپنی اور عالمی برادری کی سلامتی کے لئے جو کچھ ممکن ہو سکا کرے گا۔

عسکری زبان میں بات کرتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ نام نہاد داعش کو شام کی سر زمین میں شکست سے دوچار کیا جا چکا ہیتاہم ہمیں اس امر پر تشویش ہے کہ کچھ بیرونی طاقتیں شام کے معاملات میں مداخلت کا جواز تلاش کرنے کے لئے اس نام نہاد تنظیم کی باقیات کو استعمال کر سکتی ہیں۔ ایک دہشت گرد گروپ کے خلاف فوجی کامیابی کو محض پہلا قدم کہا جا سکتا ہے۔عراق سے جہاں پر اس گروپ نے جنم لیا تھا یہ سبق حاصل ہوا ہے کہ وقت سے پہلے فتح اور کامیابی کا اعلان کرنے سے مسائل حل ہونے کی بجائے زیادہ سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

loading...

یہ بھی پڑھیں:- ایک ہفتے میں شام و عراق سے داعش کا مکمل خاتمہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

عالمی برادری اب دوبارہ وہی غلطی دہرانے کا رسک نہیں لے سکتی۔ ترکی اس انتہاپسندی کو جنم دینے والے اسباب کوجڑ سے ختم کرنے کے لئے جامع حکمت عملی پیش کرتا ہے۔ہم اس امر کو یقینی بنانے کے خواہش مند ہیں کہ شہریوں میں اپنی حکومت کے ساتھ لاتعلقی اور بے گانگی کا احساس نہ پیدا ہونے دیا جائے تاکہ دہشت گرد گروپوں کو مقامی کمیونٹی کے مسائل اور مشکلات کو جواز بنا کراسے اپنا شکار کرنے کا موقع نہ مل سکے اور عام شہری بھی اپنے مضبوط مستقبل کے حوالے سے حکومت پر اعتماد اور بھروسہ کر سکے۔ پہلے قدم کے طور پر ایک ایسی استحکامی فورس تشکیل دی جائے جس میں شامی سماج کے تمام طبقات پر مشتمل جنگجو شامل کئے جائیں۔

ایک کثیر جہتی ادارہ ہی تمام شامی شہریوں کے مفادات کا خیال رکھ سکتا ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں امن وامان کی صورت حال کو بحال کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتا ہے۔میں یہاں اس امر کی نشان دہی کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارا شامی کردوں کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تنازع نہیں ہے۔ جنگ کے زمانے میں بہت سے شامی نوجوانوں کے پاس اس کے سوا کوئی چوائس نہیں تھا کہ وہ شام کے P.K.Kکی مقامی برانچوں P.Y.D/Y.P.Gکا حصہ بن جائیں جسے امریکہ اور ترکی دونوں دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔ہیومین رائٹس واچ کے مطابق Y.P.Gنے جنگ کے لئے بچوں کو بھرتی کر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

شام سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد ہم وہاں ایک مکمل اور جامع کارروائی کریں گے تاکہ ان بھرتی کئے گئے جنگ جو بچوں کو دوبارہ ان کے خاندانوں سے ملوا سکیں اور جن جنگ جوؤں کا کسی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا انہیں اس استحکامی فورس میں شامل ہوکر قومی خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ ہماری ایک اور ترجیح یہ ہوگی کہ تمام کمیونٹیز کی سیاسی نمائندگی کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

ترکی کی نگرانی میں وہ تمام جنگجو جو اس وقت وائی پی جی یا نام نہاد داعش کے ماتحت لڑ رہے ہیں انہیں عوام کی منتخب کردہ کونسل کے کنٹرول میں دے دیا جائے۔ایسے افراد جن کا کسی بھی دہشت گرد گروپ یا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ بلدیاتی حکومت میں اپنی کمیونٹی کی نمائندگی کرنے کے اہل ہوں گے۔ شمالی شام کے کرد حصوں کی لوکل کونسل میں غالب اکثریت کرد کمیونٹی کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی جب کہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ باقی تمام سیاسی طبقات کو بھی اس کونسل میں جائز نمائندگی حاصل ہو۔متعلقہ شعبوں میں تجربہ رکھنے والے ترک حکام میونسپل معاملات تعلیم صحت عامہ اور ایمر جنسی کے امور میں ان کی مشاورت کریں گے۔

ترکی تعان بھی کرنا چاہتا ہے اور اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ مربوط ایکشن کا حصہ بھی بننا چاہتا ہے۔ہم جنیوا اور آستانہ پروسیس کا قریبی حصہ رہے ہیں اور وہ واحد سٹیک ہولڈر ہیں جو بیک وقت امریکہ اور روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ہم شام میں اس سارے عمل کی تکمیل میں اپنی شراکت کو مفید بنائیں گے۔

وقت آگیا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز ایک ایسی فورس کا حصہ بن جائیں جو دنیا بھر کے مسلمانوں اور اسلام کی دشمن داعش کے شروع کردہ ظلم و ستم کا خاتمہ کر سکے اور شام کی علاقائی سا لمیت کاتحفط بھی یقینی بنا سکے۔

سید نجم الرحمن

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں