طلاق ان باتوں سے ہوتی ہے!

طلاق

لندن: ازدواجی زندگی میں تلخی اورطلاق کی نوبت لانے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں تاہم ایک ماہر نے چار ایسی بڑی وجوہات بتا دی ہیں جن کی وجہ سے زیادہ تر جوڑوں کی طلاق ہوتی ہے۔

میل آن لائن کے مطابق ڈاکٹر مائیکل روسلے نامی ماہر کا کہنا ہے کہ ”اپنے شریک حیات کی توہین کرنا، اس پر بے وجہ تنقید کرنا، تکرار کی صورت میں غیرضروری طور پر اپنا دفاع کرنا اور شریک حیات کی بات توجہ سے نہ سننا شامل ہیں۔“

ڈاکٹر مائیکل کے مطابق اگر آپ اپنے شریک حیات پر طنز کرتے ہیں، توہین آمیز فقرے کستے ہیں اور اس کی کسی بات پر اختلاف کرتے ہوئے اس کی نقل اتارتے ہیں تو ایسی صورت میں آپ کے شریک حیات کا آپ سے بدظن ہونااور اس کے دل میں آپ کے لیے نفرت آنا یقینی ہے۔

اسی طرح اپنے شریک حیات کے کردار یا شخصیت کے متعلق منفی فقرے کسنا اور منفی انداز میں تنقید کرنا بھی ازدواجی تعلق کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے۔ اس کے ساتھ شریک حیات کی بات توجہ سے نہ سننا اور ایسا ظاہر کرنا جیسے آپ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے، یہ رویہ بھی طلاق کی آگ کو ہوا دیتا ہے۔

وہ واحد ملک جہاں طلاق دینا غیر قانونی ہے!

ڈاکٹر مائیکل کا کہنا تھا کہ ”طلاق سے بچنے کے لیے شادی شدہ جوڑوں کو ایک دوسرے کی تعریف کرنی چاہیے اور ان کے اچھے کاموں کو سراہتے رہنا چاہیے۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کو وقت دینا چاہیے، ایک دوسرے کی بات پوری توجہ کے ساتھ سننی چاہیے۔

اگر کوئی تلخ بات بھی کرنی ہو تو وہ انتہائی نرمی کے ساتھ بھی کی جا سکتی ہے جس سے آپ کا شریک حیات یہ نہ سمجھے کہ اس کی توہین ہو رہی ہے۔ باہمی مسائل کو مل بیٹھ کر سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔“

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں