حاملہ خواتین روزہ رکھیں یا نہیں؟

حاملہ خواتین کے لئے رمضان کا مہینہ ہمیشہ سخت ہوتا ہے ۔ پھر اگر ایسے میں روزے نہ رکھیں جائیں تو اس کی شرمندگی الگ محسوس ہوتی ہے۔اس کے لئے حاملہ خواتین پریشان ہی رہتی ہیں کہ اس سلسلے میں ان کے لئے کوئی چھوٹ ہے یا نہیں ۔تو دیکھتے ہیں کہ حاملہ خواتین کے لئے رمضان کے مسئلے کا کیا حل ہے۔

رمضان کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کا خاص طور پر تو ذکر نہیں کیا لیکن قران کی آیات میں ان الفاظ میں اجازت دی ہے۔

’’ جو لوگ بیمار یا سفر میں ہیں انھیں بعد میں روزے رکھ لینے چاہیے‘‘(القرآن:دوسری سورت ،آیت ۱۸۵)

اس کے بعد اب فیصلہ حاملہ خواتین کے اپنے ہاتھ میں آجاتا ہے کہ کیا ان کی صحت اس قابل ہے کہ روزہ رکھنے سے انھیں یا ان کے ہونے والے بچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

یہ عوامل آپ کو فیصلہ کرنے میں مدد دیں گے۔

یہاں کچھ طریقے بتائے جارہے ہیں جن کی مدد سے حاملہ خواتین خودصحیح فیصلہ کر سکتی ہیں۔

یہ بات قابل غور ہے کہ ان باتوں کا طب کے شعبے یا اسلامی قوانین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنی صحت کا اچھی طرح جائزہ لیں۔آپ کے لئے ان تمام علامات کا جاننا ضروری ہے جب آپ اچھا محسوس نہیں کرتے ۔

جیسے صبح کے وقت طبیعت نڈھال ہونا،کچھ کھانے کا دل چاہنااور اس کے علاوہ حمل کی دوسری علامات جو عام طور پر ابتدائی تین ماہ میں ہوتی ہیں ۔

اگر آپ ان میں سے کوئی علامت محسوس کرتی ہیں تو بہتر ہو گا کہ آپ روزہ چھوڑ دیں۔

اگر آپ خود کو صحیح بھی محسوس کرتی ہیں تو جب بھی اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔عام طور پر ڈاکٹر حاملہ خاتون اور بچے کی صحت کے پیش نظر روزہ رکھنے کے حق میں نہیں ہوتے۔ حاملہ خواتین میں توانائی اور جسم میں پانی کی کمی ہونا صحیح نہیں۔

ایسی صورت میں ضروری ہے کہ اپنی ڈاکٹر کی بات سنی جائے اور روزہ چھوڑ دیا جائے۔

۔اگر آپ کا ڈاکٹر آپ کو کسی خطرے سے آگاہ کرتا ہے تو اس کی بات پر ضرور دھیان دیں روزہ آپ کے لئے کسی بھی طرح مشکل نہیں ہونا چاہئے۔اگر آپ ذرا بھی جسم میں پانی کی کمی یا سانس لینے میںدشواری محسوس کریں تو فوراََ روزہ توڑ دیں اور پانی اور کھجور لیں۔
۔اگر آپ کو روزہ رکھنے سے اپنی اور اپنے بچے کی زندگی کو خطرے کا ایک فیصد بھی ڈر ہو توبہتر ہوگا کہ آپ روزہ نہ رکھیں ۔

  روزے کے انسانی صحت پر اثرات

۔گرم موسم میں ضرور احتیاط کریں کیونکہ ایسے موسم میں سارا دن بھوکا اور پیاسارہنا واقعی مشکل ہو سکتا ہے خاص طور پر جب کہ آپ حاملہ ہیں۔اس لئے بہتر ہوگا کہ اپنی صحت کا خیال کرتے ہوئے کسی قسم کا خطرہ مول لینے کے بجائے روزہ چھوڑ دیا جائے۔

رمضان اور حمل کا مسئلہ آپ کے لئے پریشان کن نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ آپ کے اپنے ہاتھوںمیں ہوتا ہے۔جسے آپ اپنی صحت کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں۔یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ یہ احتیاط صرف وقتی ہے اور حمل سے فارغ ہو جانے کے بعد آپ کو چھوڑے ہوئے روزے رکھنے ہیں۔

لہٰذا اپنے قضاء کئے ہوئے روزوں کا حساب رکھیں اور جب بھی موقع ہو انھیں ادا کریں۔

(Visited 15 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں