سعودی عرب میں اقامہ کی جگہ امریکا جیسا گرین کارڈ متعارف کرادیا گیا

ریاض: سعودی عرب میں اقامہ کی جگہ امریکا جیسا گرین کارڈ متعارف کرادیا گیا، اقامہ گرین گارڈ جیسا ہوگا لیکن سعودی شہریت نہیں ملے گی۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں معیشت کو مزید بہتر بنانے کے لیے اصلاحات پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری ہے، یہ نیا پروگرام کفیل کے نظام کو ختم کردے گا اور مملکت میں مقیم افراد کو امتیازی خصوصیات اور زیادہ آزادی فراہم کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق منفرد اقامہ پروگرام دائمی اور عارضی دو اقسام کا ہوگا، عارضی اقامہ مخصوص فیس ادا کرکے حاصل کیا جاسکے گا، منفرد اقامہ پروگرام کے تحت مملکت میں رہائش پذیر تارکین وطن کو سعودی عرب میں بعض اضافی مراعات حاصل ہوں گی۔

تارکین وطن محدود پیمانے پر سعودی عرب میں کاروباری سرگرمیوں میں بھی حصہ لے سکیں گے، اس کے علاوہ منفرد اقامہ کے حامل غیرملکی کو اپنے خاندان کو ساتھ رکھنے، رشتے داروں کو ملاقات کے لیے بلانے، مزدور منگوانے، جائیداد بنانے، نقل و حمل کے وسائل کی ملکیت حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔

دائمی اقامہ غیر معینہ مدت کے لیے ہوگا یا قابل تجدید ہوگا، منفرد اقامہ کے حصول کے لیے امیدوار کے لیے وضع کردہ شرائط میں کارآمد پاسپورٹ، مالی استحکام اور عمر کے کم سے کم حد 21 سال شامل ہے۔

اس کے علاوہ امیدوار سعودی حکومت کی طرف سے باقاعدہ اقامہ حاصل کرچکا ہو، حکومتی ریکارڈ میں کسی قسم کے جرم میں ملوث نہ ہو اور متعدی امراض سے محفوظ ہونے کا تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ بھی رکھتا ہو۔

اعلان کردہ معلومات میں منفرد اقامہ حاصل کرنے کے اخراجات یا مطلوبہ مالی قدرت کے حوالے سے جامع تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، ماہرین معیشت کے نزدیک منفرد اقامہ پروگرام کے نفاذ سے غیرملکیوں کی جانب سے مملکت سے باہر بھیجی جانے والی رقوم میں کمی آئے گی اور سعودی معیشت کو سالانہ 10 ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں