شارک مچھلی کے بارے میں دلچسپ معلومات

شارک مچھلیوں

شارک مچھلیوں کے ایک گروہ کا نام ہے۔ شارک مچھلیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کی سننے کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ وہ مختلف چیزوں ک سونگھنے اور اپنے اردگرد کے ماحول میں حرکات کا اندازہ لگانے میں بھی بڑی تیز ہوتی ہیں۔

شارک مچھلیوں کی وہ قسم ہے جو نہایت خونخوار اور چالاک شکاری ہے ۔

مچھلیوں کی طرح گلپھڑوں سے سانس لیتی ہے مگر اس کے گھلپھڑے پروں یا چھلکوں سے ڈھکے ہوئے نہیں ہوتے ۔

ان کے دانت تیز اور خطرناک ہوتے ہیں ۔

بعض شارک اپنی پوری زندگی میں 30،000 تک دانت گرا تی ہیں ، ان جبڑوں میں دانتوں کی کئی تہیں ہوتی ہیں ۔

بعض شارک 8-10 دن میں اپنے دانت گرا دیتی ہیں ۔

عمومی طور پر شارک مچھلی 20-30 سال تک زندہ رہتی ہے ۔جبکہ وہیل شارک 100 سال تک بھی زندہ رہتی ہیں۔

سولھویں صدی تک انھیں سمندری کتے کہا جاتا تھا۔

عمومی طور پر یہ 2000 میٹر تک گہرے سمندر میں چلی جاتی ہیں جبکہ بعض 3000 میٹر تک بھی ۔

 350 سے 400 ملین سال پہلے سمندروں میں وجود پانے والا یہ جاندار ڈائنا سار کے زمانے کا ہے اور اس کی بے شمار نسلیں دریافت ہو چکی ہیں ۔

 کہتے ہیں کہ شارک 24 گھنٹوں میں چند سیکنڈ سوتی ہے اور مسلسل تیرتی رہتی ہے ، کہ اگر یہ تیرنا بند کر دے تو سمندر کی سطح سے اٹھ نہ سکے گی ۔

یہ خون خوار مچھلی پاکستانی سمندروں میں یہ نہیں پائی جاتی ۔

 شارک کا وزن بھی ان کی اقسام کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، ایک بڑی شارک کا وزن سات ٹن ہوسکتا ہے

ٹائیگر مچھلیاں تقریباً ساڑے تین ہزار کلومیٹر کی ہجرت کر کے کھلے سمندر میں خوراک کے لیے جاتی ہیں

شارک مچھلی کی جسامت کا انحصار ان کی اقسام پر ہوتا ہے، وہیل شارک تقریباً 60 فٹ لمبی ہوتی ہے جبکہ باکسنگ شارک کی لمبائی تقریباً 45 فٹ تک ہوتی ہے، دیگر تمام اقسام کی شارک جسامت میں ان دونوں سے چھوٹی ہیں

ان میں سے بعض صرف آبی پودے کھاتی ہیں جبکہ بعض دوسرے آبی جانوروں کو بھی اپنی خوراک بنالیتی ہیں،

یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ بہت کم اقسام کی شارک ایسی ہوتی ہیں جو انسانوں کو اپنی خوراک بناتی ہیں، ان میں ٹائیگر شارک، گریٹ وائٹ شارک، ٹپ شارک اور مارل شارک شامل ہیں۔

شارک کی شکلیں بھی مختلف ہوتی ہیں، کچھ دیکھنے میں سانپ کی طرح معلوم ہوتی ہیں تو کچھ کا سر ان کی جسامت کے مقابلے میں بڑا ہوتا ہے، کچھ کی ناک بہت لمبی اور نوکیلی ہوتی ہے،

ماہرین کا خیال ہے کہ شارک کا منہ ان کی رفتار بڑھانے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے، عام طور پر شارک کی تیرنے کی رفتار 4 سے 8 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے، لیکن مارل شارک 64 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی تیر سکتی ہے۔

شارک میں انسانوں کی طرح پانچ حسیں ہوتی ہیں مگر اس کی سونگھنے کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ یہ آدھے کلو میٹر کے اندر خون کے ایک قطرے کی بھی بو سونگھ سکتی ہے، اس لیے زخمی جاندار بڑی آسانی سے شارک کا شکار بن جاتے ہیں، اس کی یہی حس اسے شکار کی تلاش میں مدد دیتی ہے، بعض کے نزدیک شارک میں چھٹی حس بھی ہوتی ہے جو اسے برقی رو دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔

مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شارک کا غصہ بہت تیز ہوتا ہے، غصے اور بھوک میں یہ کچھ بھی کرسکتی ہے، ایسی حالت میں اسے کسی قسم کا درد محسوس نہیں ہوتا۔ بھوکی شارک آسانی سے چھوٹی کشتی کے ٹکڑے ٹکڑے کرسکتی ہے، کچھ عرصے قبل غصے میں بپھری ایک شارک نے اٹلانٹک میں فائبر آپٹکس (انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے والی مضبوط تار) کاٹ دی تھی جس سے ڈھائی لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

(Visited 2 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں